عیدیں اللہ جلّ جلالہ کی جانب سے مسلمانوں کے لیے رحمت اور انعام ہیں۔ دو عیدوں (عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ) میں مسلمان دنیاوی خوشیوں کے ساتھ بے شمار اُخروی فوائد اور ثواب بھی حاصل کرتے ہیں۔ عید الاضحیٰ اسلامی بلکہ انسانی تاریخ میں عظیم فلسفہ اور گہری معنویت رکھتی ہے۔ اس موقع پر دنیا بھر کے لاکھوں مسلمان جمع ہوتے ہیں اور حرم شریف میں سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام، سیدنا حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت ہاجرہؑ کے مناسک ادا کرتے ہیں، جس کے بدلے اللہ جلّ جلالہ مسلمانوں کو اجر و ثواب عطا فرماتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ مسلمانوں کے درمیان نسلی، قومی اور علاقائی تفریق سے بالاتر ہو کر اتحاد، اخوت اور باہمی تعارف کا بہترین ذریعہ بھی ہے۔ بالآخر یہ مسلمانوں اور پوری انسانیت کو یہ پیغام دیتا ہے کہ ایک دن سب کو اسی طرح اللہ جلّ جلالہ کے حضور جمع ہونا ہے اور اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔
عید الاضحیٰ اور حج کے مناسک میں ایک اہم عبادت قربانی ہے۔ قربانی، قرب سے ماخوذ ہے جس کے معنی نزدیک ہونے کے ہیں۔ اس کی اصطلاحی فلسفہ یہ ہے کہ جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے خواب دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کو قربان (ذبح) کر رہے ہیں، اور چونکہ انبیاء علیہم السلام کے خواب وحی ہوتے ہیں، اس لیے آپؑ نے یہ وحی اپنے بیٹے کے ساتھ بھی بیان کی۔ سیدنا اسماعیل علیہ السلام بھی انبیاء کے سلسلے سے تھے، اس لیے انہوں نے بغیر کسی تردد کے اللہ جلّ جلالہ کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیا۔
چنانچہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام اسی دن، جو عید الاضحیٰ کے ایام کے مطابق تھا، اپنے فرزند سیدنا اسماعیل علیہ السلام کو قربانی کے میدان میں لے آئے اور تیز چھری ان کے گلے پر رکھ دی۔ جب ابراہیم علیہ السلام نے “بسم اللہ، اللہ اکبر” کہتے ہوئے چھری چلائی اور آنکھیں کھولیں تو دیکھا کہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام ان کے پہلو میں صحیح سلامت کھڑے ہیں، جبکہ ان کی جگہ ایک مینڈھا قربان ہو چکا ہے، جسے اللہ جلّ جلالہ نے ابراہیم علیہ السلام کے ہاتھوں ذبح کروایا، اور اس عظیم آزمائش میں انہیں کامیاب قرار دیا۔
جیسا کہ اللہ جلّ جلالہ فرماتا ہے:
وَإِذِ ٱبْتَلَىٰٓ إِبْرَٰهِیمَ رَبُّهُۥ بِكَلِمَٰتٍۢ فَأَتَمَّهُنَّ ۖ قَالَ إِنِّى جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًۭا ۖ قَالَ وَمِن ذُرِّيَّتِى ۖ قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِى ٱلظَّٰلِمِينَ[سُوۡرَةُ البَقَرَة : 124]
“اور وہ وقت یاد کرو جب ابراہیم کو اس کے رب نے چند باتوں کے ذریعے آزمایا اور اس نے ان سب کو پورا کر دکھایا۔ اللہ نے فرمایا: میں تمہیں لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں۔ ابراہیمؑ نے عرض کیا: اور کیا میری اولاد میں سے بھی؟ اللہ نے فرمایا: میرا عہد ظالموں کو حاصل نہیں ہوتا۔”
اس حقیقی واقعے اور مذکورہ مبارک آیت کے آخری حصے سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ آج بھی مسلمانوں پر صرف عید الاضحیٰ کے جانوروں کی قربانی ہی لازم نہیں، بلکہ اللہ جلّ جلالہ کی راہ میں اپنے مال، جان اور اولاد کی قربانی بھی ان پر فرض ہے۔ اور اگر مسلمان اس حکم سے روگردانی کریں تو وہ ظالموں میں شمار ہوں گے۔
جس طرح سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے نمرود اور اس کے لشکروں کے مقابلے میں ڈٹ کر حق کا ساتھ دیا اور اللہ جلّ جلالہ کی سخت آزمائشوں میں کامیاب ہوئے، اسی طرح آج کے مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ وہ اللہ جلّ جلالہ کے احکام کی پیروی میں مکمل صداقت اختیار کریں۔ مال کی قربانی کے ساتھ ساتھ اسلام، اور دنیا بھر میں مسلمان بہنوں، بھائیوں، بچوں اور اسلامی شعائر کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کی قربانی کے لیے بھی تیار رہیں، تاکہ فلسطین، برما، پاکستان، ایران اور دنیا کے دیگر مسلم و غیر مسلم ممالک میں مسلمان اور مظلوم انسان جابرانہ ظلم سے نجات حاصل کر سکیں اور اللہ جلّ جلالہ کے احکام کے نفاذ کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو سکے۔
یہ قربِ الٰہی مسلمانوں کو اسی وقت حاصل ہوگا جب وہ حقیقی معنوں میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی طرح اللہ جلّ جلالہ کی راہ میں ہر آزمائش کے لیے تیار ہوں، یعنی اسلام کے دفاع کے لیے آگے بڑھیں، اپنے بچوں کو اسلام کی سربلندی کی خاطر قربانی کے جذبے سے آشنا کریں، اور معاصر ظلم و جبر کے خلاف اللہ جلّ جلالہ کے احکام کے مطابق بغاوت کریں۔

