اندلس میں اسلامی سلطنتِ غرناطہ کا مزید دو صدیوں تک قائم رہنا اسلام کے معجزات میں سے ایک معجزہ تھا۔ یہ مسلم جزیرہ، جو صلیبی دنیا کی نفرت، دشمنی اور تاریخی مکاریوں کے طوفانی سمندر میں تیر رہا تھا، کبھی بھی اتنی طویل اور یادگار مزاحمت نہ کر پاتا اگر اس کی مزاحمت کی روح اسلامی عقیدے اور اصولوں سے پھوٹ نہ نکلی ہوتی۔
اسلامی عقیدے کے بغیر یہ چھوٹی سی سلطنت ہرگز اس قابل نہ تھی کہ اندلس میں دشمن کے سامنے تنہا ڈٹ جاتی، جبکہ اس سے پہلے تمام مسلم شہر اور قلعے دو صدیوں قبل ہی سقوط کر چکے تھے۔ اس چیلنج کا حقیقی جواب وہی راز تھا جس نے غرناطہ کو دو صدیوں تک اسلامی فکر اور عظیم تہذیب کا گہوارہ بنائے رکھا۔ غرناطہ کے باشندے بخوبی جانتے تھے کہ وہ ایسے دشمنوں میں گھرے ہوئے ہیں جو ہر موقع کی تاک میں ہیں کہ انہیں مٹا دیں، اور یہ بھی جانتے تھے کہ عالمِ اسلام سے کوئی بڑی مدد پہنچنا ممکن نہیں، اس لیے انہیں اپنی ہی قوت اور اپنے بازوؤں پر بھروسہ کرنا ہوگا۔
یہی احساس ان کے لیے سب سے بڑا محرک بنا، تاکہ وہ ہر حال میں تیار رہیں، جہاد کا پرچم بلند رکھیں اور اپنے اسلام پر ثابت قدم رہیں۔ اسی استقامت کے باعث غرناطہ 1492ء (897ھ) تک اسلامی اندلس کا تاج رہا، علوم و فنون کا مینار اور یورپ میں اسلامی تہذیب کی آخری روشن مشعل بنا رہا۔
تاہم غرناطہ کے سقوط سے چند برس پہلے اندلس کے حالات بدلنے لگے۔ عیسائیوں کا ایک عظیم اتحاد وجود میں آیا جس میں اسلام کے خلاف دو بڑی عیسائی سلطنتیں، یعنی ارغون اور قشتالہ، متحد ہو گئیں۔
یہ اتحاد قشتالہ کی ملکہ ’’ازابیلا‘‘ اور ارغون کے بادشاہ ’’فرڈیننڈ‘‘ کی شادی کے ذریعے مکمل ہوا۔ ان دونوں کیتھولک حکمرانوں کا خواب یہ تھا کہ غرناطہ فتح کریں، اپنا ماہِ عسل الحمرا کے محل میں گزاریں اور غرناطہ کے سب سے بلند برج پر صلیب نصب کریں۔
دوسری طرف غرناطہ کی اسلامی سلطنت اندرونی اختلافات کا شکار تھی، خصوصاً حکمران خاندان کے درمیان شدید کشمکش موجود تھی۔ باقی ماندہ غرناطہ دو حصوں میں تقسیم ہو چکا تھا۔ ایک حصے پر دارالحکومت غرناطہ میں ابو عبداللہ محمد بن ابو الحسن النصری (غرناطہ کا آخری بادشاہ) حکومت کر رہا تھا، جبکہ دوسرے حصے، وادی آش اور اس کے گردونواح پر اس کا چچا ابو عبداللہ محمد حکمران تھا۔
894ھ میں کیتھولک حکمرانوں نے وادی آش اور اس سے ملحقہ علاقوں پر حملہ شروع کیا اور وادی آش، المریہ، بسطہ اور دیگر علاقوں پر قبضہ کرتے ہوئے غرناطہ کے دروازوں تک جا پہنچے۔ اس کے بعد انہوں نے ابو عبداللہ النصری کے پاس سفیر بھیجے اور مطالبہ کیا کہ وہ خوبصورت محلِ الحمرا ان کے حوالے کر دے اور خود ان کی سرپرستی میں غرناطہ میں زندگی بسر کرے۔
تاریخ کے بار بار دہرائے جانے والے ادوار کے دیگر کمزور حکمرانوں کی طرح یہ بادشاہ بھی کمزور ثابت ہوا، اسی لیے اس دن کے لیے اس نے کوئی تیاری نہیں کی تھی۔ تاہم وہ جانتا تھا کہ اس مطالبے کا مطلب اندلس کی آخری اسلامی سلطنت کی خودسپردگی ہے، اس لیے اس نے انکار کر دیا۔ یوں مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان جنگ شروع ہوئی جو دو برس تک جاری رہی۔
اس جنگ میں ایک مسلمان جوانمرد ایسا بھی تھا جو مجاہدین کے دلوں میں غیرت اور استقامت کی آگ روشن رکھے ہوئے تھا۔ وہ ’’موسیٰ بن ابی الغسان‘‘ تھا، ایک ایسا جانباز جو سورج کی آخری کرن کی مانند غروب ہونے سے پہلے نمودار ہوا۔ اسی مجاہد اور اس کے ساتھیوں کی بدولت غرناطہ دو سال تک کیتھولک حکمرانوں کے سامنے ڈٹا رہا اور سات ماہ تک سخت محاصرے کا سامنا کرتا رہا۔
اس کے باوجود جنگ کا نتیجہ تقریباً واضح تھا، کیونکہ ابو عبداللہ وہ شخص نہ تھا جو باقی ماندہ سلطنت کو ایک حقیقی مرد کی طرح بچا سکتا۔ داخلی اختلافات اور اندرونی تقسیم عیسائی محاذ کے مکمل اتحاد کے مقابلے میں ان کے لیے مزید کمزوری بن گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ طویل عرصے کے تاریخی انحرافات، نسلی تعصبات، غیر شرعی اور غیر اصولی جھگڑے اور وہ تمام بیماریاں جو پہلے گرنے والی اسلامی سلطنتوں سے ورثے میں ملی تھیں، سب نے مل کر اندلس میں اسلام کی آخری شمع بھی بجھا دی۔
جب غرناطہ کا آخری بادشاہ ابو عبداللہ کشتی پر سوار ہو کر اسلامی غرناطہ سے روانہ ہوا اور اس سرزمین کو آخری سلام کہہ رہا تھا جس نے آٹھ صدیوں تک یورپ میں اسلام کے سائے تلے سانس لی تھی، تو اس دردناک اور المیہ منظر میں وہ اپنی کھوئی ہوئی سلطنت پر رو پڑا۔ تب اس کی ماں نے تاریخ کا وہ مشہور جملہ کہا:
’’اب عورتوں کی طرح اس سلطنت پر روؤ جسے تم مردوں کی طرح بچا نہ سکے۔‘‘
حقیقت یہ ہے کہ اس ایک جملے میں اس ماں نے صرف اپنے بیٹے کو نہیں، بلکہ عالمِ اسلام کے ان تمام حکمرانوں کو بھی ملامت کر دیا جو ان سلطنتوں پر روتے رہے جنہیں وہ مردوں کی طرح بچا نہ سکے تھے۔
خوبصورت اسلامی غرناطہ کے سقوط کی داستان صرف تاریخ کا ایک سیاہ باب نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک زندہ سبق، ایک دردناک عبرت اور آنے والی نسلوں کے لیے تنبیہ کی گھنٹی ہے۔ غرناطہ اس وقت نہیں گرا جب دشمن طاقتور ہوا، بلکہ اس وقت گرا جب مسلمان کمزور ہو گئے، اختلافات میں بٹ گئے، ذاتی مفادات نے امت کے اجتماعی مصالح کی جگہ لے لی اور ہر فریق صرف اپنے اقتدار، اپنے اثر و رسوخ اور اپنی کرسی کے تحفظ میں مصروف ہو گیا۔
آج جب انسان غزہ کی طرف دیکھتا ہے، محاصرہ، بھوک، بمباری، بچوں کی چیخیں، ماؤں کے آنسو اور امت کی خاموشی دیکھتا ہے تو اسے غرناطہ کے آخری دن یاد آ جاتے ہیں۔ وہی حالات، وہی درد اور وہی تاریخ کا دہرانا۔ وہاں بھی مسلمان تنہا چھوڑ دیے گئے تھے اور آج غزہ بھی ظلم، دشمن کے اتحاد اور امت کی بے بسی کے درمیان کھڑی ہے۔
غرناطہ کے لوگ جانتے تھے کہ ان کے پیچھے کوئی بڑی طاقت موجود نہیں، اسی لیے انہوں نے اپنے ایمان، جہاد، قربانی اور استقامت پر بھروسہ کیا تھا۔ غزہ بھی آج اسی جذبے کے ساتھ کھڑی ہے۔ وہ بچے جو بمباری کے سائے میں قرآن حفظ کر رہے ہیں، وہ مائیں جو اپنے شہید بیٹوں کو فخر کے ساتھ رخصت کرتی ہیں اور وہ مجاہدین جو دنیا کے جدید ترین ہتھیاروں کے سامنے اب بھی ثابت قدم ہیں، یہ سب اسلامی عقیدے کی حیاتِ نو کی نشانیاں ہیں۔
لیکن تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ چند جانبازوں کی قربانیاں اس وقت تک امت کو نہیں بچا سکتیں جب تک پوری امت بیدار نہ ہو۔ غرناطہ اندرونی اختلافات، نسلی تعصبات، اقتدار کی کشمکش اور کمزور قیادت کی وجہ سے سقوط کا شکار ہوا۔ آج بھی اگر امت زبان، نسل، سیاست اور جماعتوں کے نام پر تقسیم رہی تو غزہ کا درد صرف غزہ کی دیواروں تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ یہ آگ پوری امت کے دروازوں تک پہنچ جائے گی۔
غزہ آج امت کے لیے ایک آئینہ ہے۔ ہر شخص کو اس میں اپنا چہرہ دیکھنا چاہیے۔ جو مظلوموں کا ساتھ نہیں دیتے، جو امت کے درد کو صرف خبروں کی سرخیوں تک محدود سمجھتے ہیں اور جو مسلمانوں کے خون کے عادی ہو چکے ہیں، انہیں غرناطہ کا آخری منظر یاد رکھنا چاہیے، وہ دن جب آخری بادشاہ اپنی کھوئی ہوئی سلطنت پر رو رہا تھا، لیکن اس کی گریہ و زاری کی کوئی حیثیت باقی نہ رہی تھی۔
امت کو سمجھنا چاہیے کہ تاریخ صرف پڑھنے کے لیے نہیں ہوتی، بلکہ اس سے سبق حاصل کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ اگر ہم غرناطہ کے سقوط سے سبق نہ سیکھیں، اگر غزہ کی مزاحمت سے تنبیہ حاصل نہ کریں اور اگر دشمن کے اتحاد کے مقابلے میں اپنے اختلافات ختم نہ کریں، تو آنے والی نسلیں ہمارے بارے میں بھی یہی جملہ دہرائیں گی:
’’تم اس امت پر روؤ جس کی حفاظت کے لیے تم مردوں کی طرح کھڑے نہ ہو سکے۔‘‘

