Site icon المرصاد

فلسفۂ ابراہیمی اور اسوۂ اسماعیلی: عید الاضحیٰ کی فکری اور عمرانی حقیقت

تاریخِ انسانی کا گہرا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کا تصوّر ہر دور، ہر تہذیب اور ہر مذہب میں کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا ہے۔
انسان نے ہمیشہ اپنے سے برتر اور بالاتر ہستی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اپنی عزیز ترین چیزوں کا نذرانہ پیش کیا ہے، لیکن اسلام نے قربانی کے اس آفاقی تصوّر کو محض ایک رسم یا بے روح روایت بننے سے روکا ہے۔
اسلام میں قربانی صرف ایک مخصوص جانور کی گردن پر چھری پھیرنے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ روح کی پاکیزگی، اللہ تعالیٰ کی حاکمیتِ مطلق کے اعتراف اور انسان کے اندر چُھپی ‘انا’ اور خود غرضی کو ذبح کرنے کا ایک بلند پایہ عمل ہے۔
یہ ایک ایسا سالانہ عہد ہے، جس کے ذریعے ایک مومن اپنے پورے وجود کو رضائے الٰہی کے سانچے میں ڈھالنے کا عزم کرتا ہے۔
جب ہم اسلامی قربانی کی جڑوں کو تلاش کرتے ہیں تو ہمارا ذہن تاریخ کے اُس عظیم موڑ کی طرف چل پڑتا ہے… جہاں سیدنا ابراہیم علیہ السلام اطاعت و بندگی کے ایک ایسے بلند مقام پر کھڑے نظر آتے ہیں، جس کی نظیر پوری کائنات میں نہیں ملتی۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پوری زندگی امتحانات اور آزمائشوں کا ایک طویل تسلسل تھی۔ انہوں نے حق کی خاطر وقت کے جابر نمرود کے سامنے کلمۂ حق بلند کیا اور دہکتی ہوئی آگ میں کودنے سے بھی دریغ نہ کیا۔
انہوں نے حکمِ الٰہی کے تحت اپنی شریکِ حیات حضرت ہاجرہ اور ننھے شیر خوار بیٹے اسماعیل کو مَکّے کے بے آب و گیاہ اور ویران پہاڑوں کے درمیان اکیلا چھوڑ دیا۔

یہ تمام امتحانات دراصل اُس آخری اور سب سے بڑی آزمائش کا پیش خیمہ تھے، جسے تاریخِ انسانی ‘ذبحِ اسماعیل’ کے نام سے جانتی ہے۔
جب اُنہیں خواب میں اپنے اکلوتے اور لاڈلے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم ملا تو وہاں عقل اور عشق کا ایک انوکھا معرکہ برپا تھا۔
انسانی عقل شاید یہاں مصلحتوں اور سوالات کے جال بُنتی، لیکن ابراہیمی عشق نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے سرِ تسلیم خم کر دیا۔

یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ ایمان کا اصل کمال عقل کے مروَّجہ پیمانوں سے بالاتر ہو کر محبوبِ حقیقی کے حکم کے سامنے خود کو مٹا دینا ہے۔
اس عظیم واقعے کا دوسرا رخ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی شخصیت ہے… جو تسلیم و رضا کا ایک ایسا شاہکار ہے، جس نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔
عام طور پر جب اس واقعے کا تذکرہ ہوتا ہے تو سارا دھیان والد کی قربانی پر مرکوز ہو جاتا ہے، لیکن اگر غور کیا جائے تو یہ نوجوان نسل کے لیے اطاعت اور اخلاق کا سب سے بڑا رول ماڈل ہے۔
جب ایک باپ اپنے جوان بیٹے کے سامنے اپنا خواب رکھتا ہے اور مشورہ مانگتا ہے تو وہ بیٹا… جس کی ابھی زندگی کی بہاریں دیکھنا باقی تھیں، انتہائی سکون اور اطمینان سے جواب دیتا ہے کہ:
"اے ابا جان! آپ کو جو حکم دیا جا رہا ہے، اسے کر گزریے، آپ ان شاء اللہ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔”

یہ جملہ صرف ایک بیٹے کا اپنے باپ پر اعتماد نہیں تھا، بلکہ یہ مزاج میں رَچی بسی کمالِ تربیت اور رضائے الٰہی کے اُس گہرے فہم کا مظہر تھا، جو اُنہیں ورثے میں ملا تھا۔
حضرت اسماعیل علیہ السلام نے یہ ثابت کر دیا کہ خدا کی بندگی اور اس کی راہ میں جان کا نذرانہ پیش کرنا صرف ضعیف یا عمر رسیدہ لوگوں کا کام نہیں، بلکہ یہ اصلاً کام ہی نوجوانوں کا ہے۔ لہذا اگر نوجوان نسل اپنے دلوں میں ایمان کی شمع روشن کر لے تو وہ ایثار اور قربانی کا سب سے بڑا استعارہ بن سکتی ہے۔
غریب و سادہ و رنگین ہے داستانِ حرم
نہایت اس کی حُسَین، ابتدا ہے اسماعیل
جہاں یہ واقعہ ایمان و یقین کی ایک لازوال داستان ہے، وہاں قربانی کی اس عبادت میں بے شمار معاشی اور عمرانی (Sociological) حکمتیں بھی پنہاں ہیں۔
اگر ہم جدید دور کے سماجی اور معاشی تناظر میں دیکھیں تو عید الاضحیٰ کے ایام میں مسلم معاشرے کے اندر سرمائے کی ایک حیرت انگیز گردش دیکھنے کو ملتی ہے۔

جو دولت سال بھر شہروں کے بینکوں اور چند ہاتھوں میں منجمد رہتی ہے، وہ قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت کے ذریعے دیہی علاقوں کے غریب کسانوں، چرواہوں اور محنت کشوں تک پہنچتی ہے۔

معیشت کا یہ پہیہ لاکھوں خاندانوں کے لیے سال بھر کا روزگار فراہم کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، گوشت کی تقسیم کا جو طریقہ کار اسلام نے مقرر کیا ہے… جس میں ایک حصہ اپنے لیے، ایک رشتے داروں کے لیے اور ایک غریبوں اور مساکین کے لیے رکھا گیا ہے… وہ معاشرے میں مساوات اور ہَم دردی کی فضا قائم کرتا ہے۔

یہ نظام اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ معاشرے کا جو سفید پوش اور پسماندہ طبقہ سال بھر اس بنیادی غذائی نعمت سے محروم رہتا ہے، وہ بھی اس تہوار کی خوشیوں میں برابر کا شریک ہو سکے۔
قربانی کے اس پورے عمل کا ایک گہرا علامتی پہلو بھی ہے، جسے سمجھنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔
ظاہری طور پر تو ہم ایک چوپائے کی قربانی دیتے ہیں، لیکن اس کے پسِ پردہ حقیقت یہ ہے کہ جانور کی گردن پر چھری پھیرتے وقت انسان دراصل اپنے اندر موجود حیوانی صفات جیسے کہ لالچ، حسد، تکبر، کینہ اور خود غرضی پر چھری چلاتا ہے۔

قربانی کا یہ عمل انسان کو یاد دلاتا ہے کہ جس طرح یہ جانور اللہ کے حکم کے سامنے بے بس اور تابع ہے، اسی طرح انسان کو بھی اپنے پورے وجود کو اپنے رب کے احکامات کے تابع کر دینا چاہیے۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید نے صاف لفظوں میں واشگاف فرما دیا کہ ‘اللہ تعالیٰ کو نہ تو تمہارے جانوروں کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون… بلکہ اُس بے نیاز کے دربار میں جو چیز شرفِ قبولیت پاتی ہے، وہ تمہارے دلوں کا تقویٰ اور نیت کی پاکیزگی ہے۔’

لہذا اگر دل میں تقویٰ نہ ہو تو یہ عمل محض ایک بے روح تفریح اور گوشت خوری کا میلہ بن کر رہ جاتا ہے۔
آج کے موجودہ دور میں جہاں انسان انفرادیت پسندی، مادیت پرستی اور شدید خود غرضی کا شکار ہو چکا ہے، ابراہیمی اُسوہ کی معنویت اَور بھی زیادہ بڑھ گئی ہے۔
جدید دنیا نے انسان کو سکھایا ہے کہ صرف اپنی ذات، اپنی خواہشات اور اپنے فائدے کے بارے میں سوچو…!
اس کے برعکس عید الاضحیٰ کا پیغام یہ ہے کہ جب تک انسان بڑے اور اعلیٰ مقاصد کے لیے اپنی پسندیدہ ترین چیزوں، اپنے وقت، اپنے مال اور اپنی خواہشات کی قربانی دینے کے لیے تیار نہیں ہوتا، تب تک وہ کسی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ نہیں بن سکتا۔

مزید برآں یہ واقعہ ہمیں خاندانی نظام کے استحکام کا درس بھی دیتا ہے۔ ایک ایسا مثالی خاندان… جہاں باپ کا حکمِ الٰہی پر پختہ یقین ہو، بیٹے کا سرِ تسلیم خم ہو اور پسِ پردہ ماں کی رضا مندی شامل ہو، وہ ایک ایسے مضبوط معاشرے کی بنیاد رکھتا ہے… جسے دنیا کا کوئی طوفان ہلا نہیں سکتا۔
آج کلچر اور تہذیب کی جس جنگ کا ہمیں سامنا ہے، اس میں ابراہیمی خاندانی نظام کی اقدار کو زندہ کرنا وقت کی اَہم ترین ضرورت ہے۔

چناں چہ عید الاضحیٰ محض ایک سالانہ تہوار، چھٹیوں کا دن یا روایتی پکوانوں سے لطف اندوز ہونے کا نام نہیں ہے۔
یہ دراصل ہر سال ایک مومن کے ایمان کی بیٹری کو ری چارج کرنے کا ایک غیبی ذریعہ ہے۔
یہ دن ہمیں پکار پکار کر یاد دلاتا ہے کہ زندگی کا اصل حسن اور بندگی کی معراج اپنے ‘اسماعیل’ کو… یعنی اپنی کسی بھی ایسی پیاری چیز کو… جو اللہ کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہو، قربان کرنے کے لیے تیار رہنے میں ہے۔
جب انسان اپنے رب کی خاطر سب کچھ داؤ پر لگانے کے لیے تیار ہو جاتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کی رحمت بھی جوش میں آتی ہے اور وہ اس مشکل ترین آزمائش کو بھی انسان کے لیے کامیابی، برکت اور ایک لازوال ‘ذبحِ عظیم’ میں تبدیل کر دیتا ہے۔
تاریخِ حرم کا یہ پیغام کل بھی زندہ تھا، آج بھی زندہ ہے اور اَبَد تک انسانیت کی رہنمائی کرتا رہے گا۔

Exit mobile version