Site icon المرصاد

محاذوں کا جوانمرد اور عالمی سیاست کا درخشاں ستارہ: شہید ملا اختر محمد منصور تقبلہ اللہ

افغانستان کی معاصر تاریخ میں بہت کم ایسی شخصیات گزری ہیں جو ایک ہی وقت میں سیاست اور نظام کے میدان کے بے مثال مدبر بھی ہوں اور تقویٰ، عاجزی اور اخلاص کی عملی مثال بھی۔ امارت اسلامیہ کے دوسرے امیر، ملا اختر محمد منصور شہید تقبلہ اللہ انہی شخصیات میں سے تھے، جن کی قیادت امارت کی تاریخ میں ایک منفرد اور بے مثال باب کی حیثیت رکھتی ہے۔

جب انہیں قیادت کی بھاری ذمہ داری سونپی گئی تو امارت اپنی تاریخ کے سب سے پیچیدہ، نازک اور سخت سیاسی و عسکری بحرانوں سے دوچار تھی۔ لیکن ان کی مدبرانہ سیاست اور عوام و مجاہدین کے ساتھ بے حد عاجزی نے اس کشتی کو ساحل تک پہنچا دیا۔ تاریخ کی ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ اکثر رہنما دور بیٹھ کر احکامات جاری کرتے ہیں، مگر شہید منصور صاحب کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ بھاری سیاسی ذمہ داری کے باوجود خود کو جنگ کی پہلی صف سے جدا نہیں رکھ سکتے تھے۔

منصور صاحب کے دور کے چند ساتھی اور واقعات کے عینی شاہدین بیان کرتے ہیں کہ جب ہلمند، قندوز اور دیگر صوبوں میں جنگ اپنے عروج پر تھی، تو منصور صاحب خود محاذ کی ابتدائی صفوں کا سفر کرتے تھے تاکہ مجاہدین کے حوصلے بلند کریں اور قریب سے جنگ کی نگرانی و قیادت کر سکیں۔

یہ محض نمائشی موجودگی نہیں تھی، وہ عام مجاہدین کے ساتھ خاک آلود مورچوں میں بیٹھتے، ان کے مسائل سنتے اور نہایت دشوار حالات میں دشمن کے بڑے منصوبوں کو ناکام بناتے تھے۔ قندوز کی پہلی فتح اور ہلمند میں وسیع فتوحات ان کی اسی قریبی نگرانی اور مدبرانہ قیادت کا نتیجہ تھیں۔

شہید منصور صاحب کی قیادت کا دور اندرونی و بیرونی سازشوں کے ایک طوفان سے عبارت تھا۔ انہیں تین بڑے چیلنجز کا سامنا تھا، جن میں سے ہر ایک امارت کو توڑنے کے لیے کافی تھا۔

1۔ امیرالمؤمنین ملا محمد عمر کی شہادت کی خبر مخفی رکھنا:

یہ ان کی سیاسی بصیرت اور تدبر کی بلند ترین مثال تھی۔ مشاورت سے ایسے حساس معاملے کو اس وقت تک خفیہ رکھا گیا جب تک مجاہدین کی صفیں مستحکم نہ ہو گئیں، اور یوں امارت ایک بڑے انتشار اور زوال سے بچا لیا۔

2۔ فتنہ اور بغاوت کا سدباب:

اس نازک مرحلے پر "داعش” کے نام سے ایک فتنہ افغانستان میں اپنے قدم جمانا اور مجاہدین کے درمیان خانہ جنگی شروع کرنا چاہتا تھا۔ شہید منصور صاحب نے پوری قاطعیت، عسکری بصیرت اور تیز رفتاری کے ساتھ اس فتنے کو ابتدا ہی میں ناکام بنا دیا اور مخلص مجاہدین کی صفوں کو انتشار سے محفوظ رکھا۔

3۔ سیاسی سفارت کاری کو مضبوط بنانا:

انہوں نے امارت کو عالمی سطح پر ایک سیاسی شناخت دی۔ قطر میں دفتر کو فعال بنانا اور ہمسایہ و خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات قائم کرنا ان کی بصیرت کا مظہر تھا، جس نے امارت کو سیاسی تنہائی سے نکالا۔

ایک ایسے شخص کے لیے، جس کے زیرِ حکم ہزاروں مسلح دستے ہوں، غرور پیدا ہونا ایک فطری بات ہے، مگر منصور صاحب عاجزی کی ایسی تصویر تھے کہ دیکھنے والے حیران رہ جاتے۔ وہ بیت المال کے استعمال میں اس قدر محتاط تھے کہ اپنی ذات کے لیے کسی قسم کی خصوصی رعایت پسند نہیں کرتے تھے۔ نشستوں اور مجالس میں اس انداز سے بیٹھتے کہ کسی کو اندازہ نہ ہوتا کہ یہی پورے تحریک کے امیر ہیں۔

جب کبھی مجاہدین ان کی سکیورٹی کے بارے میں تشویش ظاہر کرتے تو وہ مسکرا کر کہتے:
“میری زندگی اسلامی نظام اور مجاہدین کے اتحاد کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔”
ان کا یہی اخلاص اور تقویٰ تھا جس نے مجاہدین کے دلوں میں ان کی محبت کو بے حد بڑھا دیا تھا۔

ملا اختر محمد منصور شہید تقبلہ اللہ ایک اہم سیاسی سفر سے واپسی کے دوران امریکی ڈرون حملے میں شہید ہوئے۔ انہوں نے اپنی جان قربان کر دی، مگر امارت کے لیے ایک ایسا متحد، منظم اور مستحکم صف چھوڑ گئے جو بعد میں ملک کی مکمل آزادی اور فتح کی بنیاد بنا۔ ان کی قیادت نے یہ ثابت کیا کہ حقیقی رہبر وہ نہیں جو معمول کے حالات میں حکومت کرے، بلکہ اصل رہنما وہ ہے جو طوفانوں کے سینے میں اپنی قوم کے لیے نجات کی راہ نکالے۔

Exit mobile version