Site icon المرصاد

ملا اختر محمد منصور رحمہ اللہ کی قائدانہ بصیرت اور تاریخی کارنامے!

عالی قدر ملا اختر محمد منصور رحمہ اللہ کا بطور امیر المومنین سب سے بڑا، تاریخی اور ناقابلِ فراموش کارنامہ امارتِ اسلامیہ افغانستان کو ایک ایسے ہولناک بحران اور ممکنہ تقسیم سے بچانا تھا، جو تحریک کے وجود کے لیے خطرہ بن سکتا تھا۔

یہ وہ نازک ترین وقت تھا، جب امارتِ اسلامیہ کے بانی اور مجاہدین کے واحد متحرک رہنما امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ کی وفات کی خبر دو سال بعد منظرِ عام پر آئی۔
اس اچانک انکشاف نے تحریک کے اندر کسی حد تک تنظیمی اور نفسیاتی اُتار چڑھاؤ پیدا کر دیا تھا، لیکن امیر المومنین ملا اختر محمد منصور رحمہ اللہ نے اپنی بے مثال ایمانی فراست، تدبر اور مضبوط عزم سے اس بکھرتی ہوئی صورتِ حال کو سنبھالا اور تحریک کو نئی زندگی دی۔

جب عالیقدر امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ کی وفات کا پتہ چلا تو قدرتی طور پر مجاہدین کی صفوں میں قیادت کے حوالے سے کچھ خیالات اُبھرے۔ یہاں تک کہ امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ کے بھائی ملا عبدالمنان اور فرزندِ ارجمند مولوی محمد یعقوب مجاہد سمیت کئی مقتدر عسکری کمانڈرز شروع میں بیعت کے معاملے پر تحفظات رکھتے تھے۔

دشمن اس اندرونی کھینچ تان سے فائدہ اٹھانے کے لیے پر تول رہا تھا، مگر امیر المومنین ملا اختر محمد منصور رحمہ اللہ نے کسی سختی یا طاقت کے استعمال کے بجائے اسلامی اخوت اور افغان قبائلی روایات کے مطابق مفاہمت کا راستہ اختیار کیا۔

انہوں نے انتہا درجے کے صبر و تدبر کے ساتھ تمام کمانڈرز سے خود رابطہ کیا اور تحریک کے مخلص اور نمایاں حصے حقانی نیٹ ورک کے سربراہ خلیفہ سراج الدین حقانی اور ممتاز عالمِ دین اور موجودہ امیر المومنین شیخ الحدیث مولوی ہبۃ اللہ اخوندزادہ کو اپنا نائب مقرر کیا۔

اس دوراندیش فیصلے نے تمام مجاہدین کو طاقت ور نمائندگی فراہم کی۔ امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ کے خاندان کے خدشات دور ہوئے اور بالآخر ان کے فرزند اور بھائی نے عوامی سطح پر امیر المومنین ملا اختر محمد منصور رحمہ اللہ کی سرعام بیعت کر کے امارتِ اسلامیہ کے داخلی بحران کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا۔
اس اندرونی اتحاد کو مضبوط کرنے کے ساتھ ہی امیر المومنین ملا اختر محمد منصور رحمہ اللہ کو ایک اَور بڑے بیرونی فتنے کا سامنا تھا، اور وہ تھا… عراق اور شام سے اٹھنے والی دہشت گرد تنظیم داعش کا افغانستان میں اثر و رسوخ بڑھانا۔

داعش نے امارتِ اسلامیہ کے بعض ناراض ارکان کو اپنے ساتھ ملا کر ‘صوبہ خراسان’ کے نام سے ایک متوازی نیٹ ورک قائم کرنا شروع کر دیا تھا، تاکہ افغانستان میں مختلف تنظیموں کی نحوست پھیلا کر افغان جہاد کو تقسیم کیا جا سکے۔

اس موقع پر امیر المومنین ملا اختر محمد منصور رحمہ اللہ نے ایک ناصحانہ، لیکن دوٹوک شرعی موقف اختیار کیا کہ ‘افغانستان کی سرزمین پر جہاد اور حکومت کے نام پر دو متوازی گروہ ہرگز برداشت نہیں کیے جائیں گے۔’
انہوں نے مجاہدین کو منظم کر کے مشرقی افغانستان، بالخصوص ننگرہار اور زابل کے اضلاع میں اس فتنہ پسند دہشت گرد ٹولے کے خلاف فیصلہ کن عسکری مہم چلائی۔

اس کامیاب کارروائی کے نتیجے میں داعش کو ایک محدود اور بے اثر علاقے تک محصور کر دیا گیا، جس سے امارتِ اسلامیہ کی واحد عسکری اور شرعی قوت کے طور پر حیثیت بحال رہی۔
امیر المومنین ملا اختر محمد منصور رحمہ اللہ نے امارت کے حوالے سے اٹھنے والے تمام شکوک و شبہات کا حتمی جواب میدانِ جنگ میں دشمن کو دھول چٹا کر دیا۔

ستمبر 2015ء میں امیر المومنین ملا اختر محمد منصور رحمہ اللہ کی براہِ راست کمانڈ اور جنگی حکمتِ عملی کے تحت مجاہدین نے کابل کی کٹھ پتلی حکومت اور اس کے سرپرست امریکا کو دنگ کرتے ہوئے شمال کے انتہائی اہم صوبائی دارالحکومت ‘قندوز’ پر غازیانہ اُلٹ پلٹ کی اور اس پر اپنا کنٹرول قائم کر لیا۔

اگرچہ امارتِ اسلامیہ نے جنگی مصلحت اور شہریوں کے تحفظ کی خاطر چند دنوں بعد یہ شہر خالی کر دیا تھا، لیکن سال 2001ء میں امریکی جارحیت کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ مجاہدین نے اتنے بڑے تزویراتی شہر کو فتح کر لیا تھا۔

اس عظیم عسکری کامیابی نے نہ صرف عام مجاہدین اور عوام کے حوصلے آسمان پر پہنچا دیے، بلکہ امیر المومنین ملا اختر محمد منصور رحمہ اللہ کی عسکری صلاحیتوں پر پوری تحریک کا اعتماد ہمیشہ کے لیے پکا کر دیا۔
امیر المومنین ملا اختر محمد منصور رحمہ اللہ کی دوراندیشی صرف میدانِ جنگ تک محدود نہ تھی، بلکہ انہوں نے امارتِ اسلامیہ کو محض ایک گوریلا قوت کے بجائے دنیا کے سامنے ایک متبادل سیاسی نظام کے طور پر پیش کیا۔

انہوں نے قطر میں امارتِ اسلامیہ کے سیاسی دفتر کو نئے خطوط پر استوار کر کے مکمل طور پر فعال کیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے خطے کے اہم ممالک بشمول روس، چین اور خاص طور پر ہمسایہ ملک ایران کے ساتھ امارتِ اسلامیہ کے باقاعدہ اور براہِ راست سفارتی تعلقات کی بنیاد رکھی۔
ان کی اس کامیاب سفارت کاری کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان عالمی طاقتوں نے امارتِ اسلامیہ کو خطے کے امن کی بحالی اور داعش کے خاتمے کے لیے ایک ناگزیر اور ذمے دار قوت کے طور پر تسلیم کر لیا۔

یہی وہ مضبوط سیاسی اور سفارتی بنیاد تھی، جس کا ثمر بعد میں سال 2021ء میں امریکی شکست خوردہ انخلا اور امارتِ اسلامیہ کی کابل میں شان دار فتحِ مبین کی صورت میں پوری دنیا نے دیکھا۔
چناں چہ سال 2015ء کے اُس نازک تاریخی موڑ پر امیر المومنین ملا اختر محمد منصور رحمہ اللہ کی ایمانی بصیرت اور بے پناہ جرات ہی تھی، جس نے افغان جہاد کو داخلی انتشار سے بچایا اور داعش جیسے دہشت گرد فتنے کی وجہ سے کئی دھڑوں میں تقسیم ہونے سے محفوظ رکھا۔

امیر المومنین ملا اختر محمد منصور رحمہ اللہ کا سب سے درخشاں کارنامہ تحریکِ جہاد کو سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنانا تھا، جس نے آگے چل کر افغانستان میں مکمل اسلامی نظامِ حکومت کے نفاذ کا خواب سچ کر دکھایا۔

Exit mobile version