Site icon المرصاد

نئی تبدیلیاں اور مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل!

مشرق وسطیٰ ایسی بنیادی تبدیلیوں کا شاہد ہے، جو روایتی تنازعات سے آگے بڑھ چکی ہیں اور ممکن ہے کہ علاقائی اثر و رسوخ کا نقشہ ازسرنو ترتیب دیا جائے۔ اس تبدیلی کے دہانے پر میڈیا کے پردوں سے لے کر ممالک کے سرکاری ایوانوں تک "مشترکہ حاکمیت” کی ایک نئی اصطلاح سامنے آئی ہے، جو محض ایک اصطلاح نہیں بلکہ ایک اہم نظریہ ہے جو ابھر رہا ہے۔

اس نظریے سے ایسا لگتا ہے جیسے خطہ اب ایک نئے نظام کی طرف بڑھ رہا ہے، ایسا نظام جس میں خطے کی تمام بڑی طاقتیں، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکی، ایران اور مصر، علاقائی امور کو مشترکہ طور پر چلائیں گی۔ تاہم، یہ شراکت اس طرح ترتیب دی جائے گی کہ اسے روس اور چین کی حمایت حاصل ہو گی، اور اسرائیل ایک تابع وجود کے طور پر شامل ہو گا، نہ کہ ایک حاکم کے طور پر۔

لیکن، کیا یہ نظریہ حقیقت پسندانہ ہے؟ اس نظریے کی حمایت کون سے عوامل کرتے ہیں؟ اس کے نفاذ میں کیا رکاوٹیں حائل ہو سکتی ہیں؟ اور سب سے اہم: امت مسلمہ اسے محض فیصلوں کی تابع رہنے کی بجائے زیادہ سے زیادہ فائدہ کیسے اٹھا سکتی ہے؟

*اس نظریے کی بنیادیں:*

*کیا مشرق وسطیٰ ایک نئے نظام کی طرف بڑھ رہا ہے؟*

"مشترکہ حاکمیت” کے نظریے کے حامی کئی علامات پر انحصار کرتے ہیں، جو درج ذیل ہیں:

*1. علاقائی حریفوں کا قریب آنا:*
ہم نے گزشتہ چند سالوں میں غیر متوقع تبدیلیاں دیکھیں، جیسے کہ سعودی عرب اور ایران کا چین کی ثالثی میں قریب آنا، ترکی اور مصر کے تعلقات میں بہتری، جو تنازعات کو کم کرنے اور اسٹریٹجک شراکت داریوں میں داخل ہونے کی خواہش کو ظاہر کرتی ہیں۔

*2. امریکی اثر و رسوخ میں کمی:*
امریکہ کی خطے سے بتدریج انخلا کی پالیسی اور چین و روس پر توجہ نے علاقائی طاقتوں کو اپنی ترجیحات کو ازسرنو ترتیب دینے اور خودمختار اتحاد بنانے کا موقع فراہم کیا ہے۔

*3. روس اور چین کے کردار میں اضافہ:*
خواہ برکس معاہدے کے ذریعے ہو یا "بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے” [(BRI)Belt & Road Initiative] کے ذریعے، خطے میں واضح کوششیں جاری ہیں کہ ایک نیا معاشی و سکیورٹی ڈھانچہ بنایا جائے جو مغرب کی کئی دہائیوں کی مطلق العنان بالادستی کو ختم کر دے۔

*4. سیکیورٹی اور معاشی تعاون میں اضافہ:*
بڑے منصوبے جیسے وہ معاشی راہداری جو ہندوستان کو مشرق وسطیٰ اور یورپ سے جوڑتی ہے، علاقائی طاقتوں کے درمیان کرداروں کی تقسیم کے نظریے کو مضبوط کرتی ہے تاکہ استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

*5. اسرائیل کی اپنی پوزیشن کو دوبارہ ترتیب دینے کی کوششیں:*
اسرائیل کی طرف سے وحشیانہ جنگ جاری رکھنا، سرحدوں سے تجاوز، گولان میں توسیع اور شام کے کچھ اقلیتی گروہوں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا، یہ سب تحرکات ظاہر کرتے ہیں کہ یہ نظام سمجھتا ہے کہ وہ خطے میں ایک حاکم اور مغرب کے لیے اسٹریٹجک اتحادی کے طور پر اپنا کردار کھونے کے دہانے پر ہے اور وہ نئے حقائق مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے اس سے پہلے کہ اسے نئے نظام کے ساتھ مطابقت پیدا کرنی پڑے۔

*6. رکاوٹیں اور چیلنجز:*
*اس نظریے کا حقیقت کا روپ دھارنا کیوں مشکل ہے؟*
ان علامات کے باوجود، کچھ رکاوٹیں ایسی ہیں جو اس نظریے کو حقیقت بننے سے روک سکتی ہیں:

*7. علاقائی طاقتوں کے درمیان جیو پولیٹیکل مقابلہ بازی:*
اگرچہ مشترکہ مفادات موجود ہیں، لیکن ایران اور سعودی عرب، ترکی اور مصر کے درمیان گہرے اختلافات بھی ہیں جو بنیادی طور پر حل نہیں ہوئے اور وہ اب بھی شام، یمن، لیبیا، عراق اور سوڈان میں اپنے مفادات کے حصول کے لیے ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں۔

*8. ایک متحد ڈھانچے کا فقدان:*
اب تک کوئی واضح ڈھانچہ موجود نہیں جو ان ممالک کے درمیان تعاون کو ایک منظم شکل دے، جیسے کہ یورپی یونین۔ حتیٰ کہ برکس بھی، وسیع شرکت کے باوجود، ایک غیر مرکزی اتحاد سمجھا جاتا ہے۔

*9. مغرب کے اثر و رسوخ کا تسلسل:*
اگرچہ خطے میں امریکہ کا اثر و رسوخ کچھ کم ہوا ہے، لیکن اس کے پاس اب بھی فوجی اڈوں، معاشی اور سفارتی اثر و رسوخ کے ذریعے مضبوط کارڈز موجود ہیں جو خطے میں کسی بھی نئے نظام کو، جو مغرب کے ڈھانچے سے باہر ہو، ناکام بنا سکتے ہیں۔

*10. اسرائیل کا مؤقف:*
یہ تصور کرنا کہ اسرائیل ایک حاکم طاقت سے ایک تابع ملک میں تبدیل ہو جائے گا، فی الحال مشکل ہے، کیونکہ وہ ہر اس نظام کے خلاف شدید مزاحمت کرے گا جو اس سے اس کا اسٹریٹجک اثر و رسوخ چھین لے۔

*11. خطے کے ممالک کی اندرونی کمزوریاں:*
مشرق وسطیٰ کی بہت سی بڑی طاقتیں خود اندرونی مسائل سے دوچار ہیں، چاہے وہ معاشی ہوں یا سیاسی، جو انہیں علاقائی قیادت کا مستقل کردار ادا کرنے کے قابل نہیں چھوڑتیں۔

*امت ان تبدیلیوں سے کیسے فائدہ اٹھا سکتی ہے؟*

چاہے "مشترکہ حاکمیت” کا نظریہ حقیقت بن جائے یا محض ایک نظریہ رہے، سب سے اہم بات یہ ہے کہ امت مسلمہ محض فیصلوں کی پزیرائی کرنے والی بننے کی بجائے ان تبدیلیوں سے کیسے حقیقی فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ کچھ نکات جن پر توجہ دینی چاہیے:

*1. اسٹریٹجک شعور کی تشکیل:*
امت ان تبدیلیوں کا مضبوطی سے مقابلہ نہیں کر سکتی جب تک کہ اس کے پاس گہرا جیو پولیٹیکل فہم نہ ہو۔ اس کے لیے ایسی تحقیق اور مطالعے کو مضبوط کرنا ضروری ہے جو خطے میں طاقت اور اثر و رسوخ کے حصول کے طریقوں پر بحث کریں۔

*2. معاشی طاقت کو مضبوط کرنا:*
علاقائی اتحادوں کے نتائج کا انتظار کرنے کے بجائے، تمام اسلامی ممالک کو آپس میں حقیقی معاشی تعاون کو مضبوط کرنا چاہیے اور غیر ملکی طاقتوں پر انحصار کم کرنا چاہیے۔

*3. ٹیکنالوجیکل خودمختاری کے منصوبوں کی حمایت:*
اگر ہم حقیقی حاکمیت کی بات کرتے ہیں تو پہلے پیداواری، تکنیکی اور معاشی شعبوں میں خودمختاری ضروری ہے، ورنہ موجودہ دور میں یہ خود کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔

*4. ہتھیار ڈالنے اور ناامیدی کے خیال کو توڑنا:*
یہ خیال ختم ہونا چاہیے کہ گویا امت مسلمہ اپنا مستقبل تشکیل نہیں دے سکتی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اصل قیادت ان کی ہوتی ہے جو تبدیلی لانے کی کوشش کرتے ہیں، نہ کہ وہ جو صرف ردعمل دیتے ہیں۔

*5. مطلق العنان ذہنیت سے نجات:*
تبدیلیوں کو "مطلق ناکامی” یا "مطلق کامیابی” سمجھنے کے بجائے، جزوی مواقع کی تلاش کرنی چاہیے تاکہ امت کے اعلیٰ مفادات کے لیے ان سے فائدہ اٹھایا جا سکے اور ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت نہ پڑے کہ کھلاڑی کون ہیں۔

*ممکنہ منظرنامے اور امت کے لیے بہترین انتخاب:*

ہم کئی ممکنہ منظرناموں کا سامنا کر رہے ہیں:

– اگر "مشترکہ حاکمیت” کا نظریہ حقیقت بن جاتا ہے، تو امت کو بہت بصیرت سے اس میں داخل ہونا چاہیے تاکہ یہ نظریہ ایک نئے علاقائی سامراج میں تبدیل نہ ہو۔
– اگر یہ نظریہ ناکام ہو جاتا ہے اور مغرب کی بالادستی جاری رہتی ہے، تو اس کا متبادل یہ ہونا چاہیے کہ اسلامی اتحاد تشکیل دیے جائیں تاکہ عالمی قطبی تقسیم سے دور رہ کر ایک حقیقی حاکمیت کو مضبوط کیا جا سکے۔
– اگر اسرائیل خطے کی اندرونی تباہی کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ مسلط کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو اس منصوبے کے خلاف مزاحمت تمام علاقائی ممالک اور تنظیموں کے لیے اولین ترجیح ہونی چاہیے، کیونکہ یہ بڑی صہیونی بالادستی کے منصوبے کی نئی شکل ہے۔

*حاصلِ کلام: انتظار کے بغیر مستقبل کی تشکیل:*

چاہے ہم ایک "نئے مشرق وسطیٰ” کا سامنا کریں یا محض اثر و رسوخ کی دوبارہ ترتیب کے شاہد ہوں، سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہم مستقبل کی تشکیل کا حصہ ہوں گے یا صرف ان چیزوں کو قبول کرنے والے ہوں گے جو ہم پر مسلط کی جائیں گی؟

بڑی تبدیلیاں کوئی حتمی تقدیر نہیں ہیں، بلکہ یہ مختلف طاقتوں کے باہمی تعامل کا نتیجہ ہیں، اور ان تبدیلیوں کا حتمی راستہ وہ طے کرتے ہیں جن کے پاس شعور، ارادہ اور عمل کی صلاحیت ہو۔

ہو سکتا ہے کہ موجودہ چیلنجز ہمارے سامنے ایک سنہری موقع ہوں کہ ہم اپنی امت کی پوزیشن کو عالمی نظام کے ڈھانچے میں آسانی سے تشکیل دیں۔ لیکن یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہو گا جب تک ہم نعرہ بازی اور جذباتی ردعمل سے ہٹ کر ایک منظم منصوبہ، ان تھک محنت اور واضح وژن نہ رکھیں۔ جو تاریخ بناتے ہیں، وہ وہ نہیں جو چیلنجز کو دیکھتے ہیں، بلکہ وہ ہیں جو چیلنجز سے فائدہ اٹھا کر منظر کو اپنے مفادات کے مطابق دوبارہ ترتیب دیتے ہیں۔

Exit mobile version