جب 9 اور 10 جون کی درمیانی رات خوست، کنڑ اور پکتیکا کے پرسکون آسمان پر اچانک دھماکوں کی ہولناک گونج سنائی دی تو وہ پاکستانی فوج کی محض سرحدی دراندازی کی کوئی عام عسکری کارروائی نہیں تھی۔ وہ ایک ایسا ہولناک موڑ تھا، جس نے خطے کی بساط پر پھیلے جھوٹ اور سچ کے درمیان کھینچی گئی دھندلی لکیر کو یکسر مٹا کر رکھ دیا۔
ابھی دھماکوں کا دھواں بھی نہیں چھٹا تھا کہ پاکستانی فوج کی جانب سے وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کو تھمائی گئی ایک پریس ریلیز میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ حملہ انتہائی نپا تلا، محتاط اور ٹھوس انٹیلی جنس معلومات پر مبنی تھا، جس کا مقصد سرحد پار چھپے عسکریت پسندوں کو نشانہ بنانا تھا۔
اسلام آباد کی پشت پر کھڑی راولپنڈی کے GHQ کی اس پریس ریلیز میں یہ دعوی بھی کیا گیا کہ ‘پاکستانی فوج کی اس کارروائی میں 26 عسکریت پسند ہلاک ہوئے اور افغان حکومت کی طرف سے عوامی جانی نقصانات کے دعوے محض پاکستان کے خلاف ایک منظم پروپیگنڈے کا حصہ ہیں۔
تاہم تاریخ گواہ ہے کہ پروپیگنڈے کی عمر بہت مختصر ہوتی ہے اور اس بار بھی پاکستانی فوج کی جانب سے سچائی کو چھپانے کی یہ کوشش زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔
یہ ریاستی بیانیہ اُس وقت غبارے کی طرح پھٹ گیا، جب اقوامِ متحدہ کے جنرل سیکرٹری کے نمائندے فرحان حق نے عالمی برادری کے سامنے ایک انتہائی دوٹوک اور واضح موقف پیش کرتے ہوئے پاکستانی فوج کے اس عسکری دعوے کو سراسر جھوٹ قرار دیا اور زمینی حقائق دنیا کے سامنے لا رکھے۔
اس کے فوراً بعد افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے امدادی مشن ‘یوناما’ (UNAMA) نے اپنی تفصیلی فیکٹ چیک رپورٹ جاری کر دی، جس نے افغان حکومت کے موقف کی مکمل تائید کی۔
عالمی اداروں نے جائے وقوعہ کا باریک بینی سے جائزہ لے کر یہ ثابت کیا کہ یہ مبینہ و نام نہاد ‘دفاعی حملہ’ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر نہیں، بلکہ مٹی کے اُن کچے مکانات پر کیا گیا تھا، جہاں معصوم خاندان سو رہے تھے۔ اس وحشیانہ دراندازی کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 13 بے گناہ افراد شہید اور 14 شدید زخمی ہوئے۔
اقوامِ متحدہ اور یوناما کی طرف سے افغان موقف کی حمایت سے پاکستانی فوجی گولیوں کی سنسناہٹ اور جی ایچ کیو ساختہ پریس ریلیز کے پیچھے چھپائے گئے جھوٹ ریت کی دیوار کی طرح ڈھیر ہوگئے۔
یہاں سے ایک گہرا اور حیران کر دینے والا سوال جنم لیتا ہے کہ ایک باقاعدہ فوج، جو خود کو پیشہ ورانہ مہارت کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز سمجھتی ہے، وہ ایسی سنگین دراندازی پر کیوں اُتر آئی؟
اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ وہ کون سے خفیہ محرکات ہیں، جو اس نام نہاد پروفیشنل فوج کو اپنے ہی پڑوسی مسلمانوں کا خون اتنی بے دردی سے بہانے پر آمادہ کرتے ہیں؟
ہمیں اس پیچیدہ معمے کی گرہیں کھولنے کے لیے اپنی نظریں صرف ڈیورنڈ لائن کے پہاڑی سلسلوں تک محدود نہیں رکھنی چاہیں، بلکہ ہمیں اس خطے کے گرد بچھائی گئی جغرافیائی سیاسی شطرنج کے وسیع تر میدان کو دیکھنا ہوگا۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین اور دور اندیش تجزیہ نگار اس پوری صورتِ حال کو ایک بہت ہی گہرے اور تزویراتی زاویے سے پرکھتے ہیں۔ اگر ہم خطے کی حالیہ تاریخ کا مطالعہ کریں تو ایک عجیب اور تکرار پذیر تسلسل نظر آتا ہے۔
یہ کہ جب بھی مشرقِ وسطیٰ کے تھیٹر میں امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی یا عسکری کشیدگی عروج پر پہنچتی ہے تو ڈیورنڈ لائن پر اچانک بارود کی بُو پھیل جاتی ہے۔
یہ کوئی اتفاق نہیں، بلکہ ایک سوچی سمجھی بحرانوں کے زہر میں بُجھی ہوئی چال کا حصہ ہے۔ پاکستان اِس وقت اپنے بدترین معاشی اور سیاسی بحران سے گزر رہا ہے اور اس کی ڈوبتی ہوئی معیشت کو سہارا دینے کے لیے خلیجی ممالک، بالخصوص سعودی عرب کے ریال اور آئی ایم ایف کے قرضے لائف لائن کا درجہ رکھتے ہیں۔
جب بھی مشرقِ وسطیٰ میں کوئی بحران پیدا ہوتا ہے اور ایران کی طرف سے خلیج میں امریکی یا سعودی مفادات کو نشانہ بنانے کا خطرہ بڑھتا ہے تو واشنگٹن اور ریاض کی طرف سے بذریعہ اسلام آباد راولپنڈی پر دباؤ بڑھا دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے دفاعی معاہدوں اور وفاداریوں کو نبھائے۔
اب پاکستان کے سامنے ایک بھیانک تزویراتی کھائی ہوتی ہے؛ وہ ایران جیسے طاقت ور، جغرافیائی طور پر اہم اور سیاست کے لحاظ سے انتہائی حساس ہمسائے کے خلاف براہِ راست کوئی نیا عسکری محاذ کھولنے کی ہمت و جرات نہیں کر سکتا۔
ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کا براہِ راست تصادم پاکستان کے اندرونی امن و امان کو سیکنڈوں میں تباہ کر سکتا اور ملک کے اندر ایک ایسا داخلی بحران پیدا کر سکتا ہے، جسے سنبھالنا عسکری اسٹیبلشمنٹ کے بس میں نہ ہی ہے اور نہ ہی رہے گا۔
چناں چہ فوج اس ہولناک صورتِ حال سے بچنے کے لیے اپنی عسکری فعالیت اور وفاداری ثابت کرنے کے لیے ایک ‘ڈائیورژنری تھیٹر’ یعنی توجہ ہٹانے کا میدان تلاش کرتی ہے اور فوج کو 1979ء سے لے کر اب تک اس مقصد کے لیے ہمیشہ کی طرح فضائی دفاع میں کمزور افغانستان سے بہتر اور کوئی میدان نہیں ملتا۔
پاکستانی فوج ڈیورنڈ لائن پر اس قسم کے حملے کر کے اپنے خلیجی اور مغربی آقاؤں کے سامنے یہ سفارتی کارڈ کھیلنے کی کوشش کرتی ہے کہ ‘ہم خود اس وقت اپنی مغربی سرحد پر عسکریت پسندی کے خلاف ایک بڑی اور خون ریز جنگ میں اُلجھے ہوئے ہیں۔ ہماری فوج کا ایک بڑا حصہ وہاں مصروف ہے، اس لیے ہم مشرقِ وسطیٰ کے کسی اَور معرکے میں براہِ راست کودنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔’
فوج کے پاس یہ ایک ایسا بہانہ ہے، جس کا بین الاقوامی منڈی میں فوری خریدار مل جاتا ہے۔
‘دہشت گردی کے خلاف جنگ’ کا یہ چُورن واشنگٹن اور اُس کے ایشیائی اتحادیوں کے لیے بے حد پسندیدہ ہے۔ کیوں کہ وہ افغانستان کی موجودہ امارتِ اسلامیہ حکومت کو پہلے ہی ایک خطرے کے طور پر دیکھتے ہیں۔
یوں پاکستان اپنی عسکری اور تزویراتی مجبوریوں کو بھی چھپا لیتا، خلیج کی کسی بڑی جنگ کا ایندھن بننے سے بھی بچ جاتا اور فرنٹ لائن اسٹیٹ کا ڈھونگ رچا کر نئے مالی پیکیج، قرضوں کی منظوری اور عسکری امداد کے نئے راستے بھی کھول لیتا ہے۔
تاہم اس پورے جیو پولیٹیکل کھیل کا سب سے المناک، لرزہ خیز اور گہرا پہلو پاکستانی فوج کے اِس جُوئے کے پیچھے چھپا ہوا اخلاقی اور نظریاتی دیوالیہ پن ہے۔
پاکستان وہ ملک ہے، جو یہ باور کراتا ہے کہ وہ دنیا کے نقشے پر اسلام کے نام پر وجود میں آیا ہے۔
اس کی فوج داخلی سطح پر اپنی گرتی ہوئی مقبولیت کو سہارا دینے اور عوام کی ہمدردیاں سمیٹنے کے لیے خود کو ہمیشہ اسلام کا قلعہ اور غزوہ ہند جیسے بڑے مقدس معرکوں کا علامتی علَم بردار قرار دیتی ہے۔
پاکستان کے گلی کوچوں میں عوام کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ یہ فوج صرف ملکی سرحدوں کی محافظ نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ اور حرمین شریفین کی محافظ بھی ہے۔ تاہم جب تزویراتی مفادات اور بین الاقوامی سیاست کی بساط پر پانسے پلٹتے ہیں تو یہ تمام نظریاتی اور شرعی دعوے ردی کی ٹوکری کی نذر کر دیے جاتے ہیں۔
یہاں پر آ کر یہ سوال قاری کے ذہن کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے کہ اگر سعودی عرب یا امریکہ کو کوئی بہانہ ہی فراہم کرنا تھا تو اس کے لیے معاشی بحران، داخلی سیاسی عدمِ استحکام یا کسی اَور سفارتی معذرت کا سہارا بھی لیا جا سکتا تھا… آخر معصوم مسلمانوں کا خون بہانے ہی کو سب سے بہترین اور موزوں بہانے کے طور پر کیوں منتخب کیا گیا؟
دراصل اس سوال کا جواب بھی اسی استعماری ذہنیت میں پوشیدہ ہے، جو دہائیوں سے برصغیر پر مسلط ہے۔ عوامی جانی نقصانات یا معاشی مجبوریوں کا بہانہ عالمی برادری کے سامنے پاکستان کو ‘کمزور’ ثابت کرتا، جب کہ ‘عسکریت پسندی کے خلاف کارروائی’ کا کارڈ اسے ایک ‘متحرک اور ناگزیر سکیورٹی پارٹنر’ کے طور پر پیش کرتا ہے۔
مزید برآں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے اپنے پالتو میڈیا اور ریاستی بیانیے کے ذریعے گزشتہ بیس سالوں میں اپنے ہی عوام کے ذہنوں میں یہ زہر گھول دیا ہے کہ افغانستان سے آنے والی ہر ہوا پاکستان کی سلامتی کے لیے ایک خطرہ ہے۔ افغانستان کے کلمہ گو مسلمانوں کو پاکستان کے عوامی ذہنوں میں اس حد تک ‘مشکوک’ اور ‘دہشت گردوں کا ہَم درد’ بنا کر پیش کیا جا چکا ہے کہ اب افغانستان پر بم برسانا اور اسرائیل طرز پر افغانوں کی نسل کشی کرنا پاکستانی ریاستی سطح پر کوئی اخلاقی بوجھ ہی نہیں سمجھا جاتا۔
اسے عسکری اصطلاح میں ‘ڈی ہیومنائزیشن’Dehumanization (انسانیت سے عاری کرنا) کہا جاتا ہے، جہاں ہدف بننے والے بچے اور خواتین انسان نہیں… بلکہ صرف سکیورٹی کی زبان میں ‘کولیشن ڈیمیج’ (ملازمتی نقصان) بن کر رہ جاتے ہیں۔
خوست، کنڑ اور پکتیکا میں کچے مکانات کے ملبے سے نکلنے والی معصوم بچوں کی لاشیں اور زخمی ماؤں کی چیخیں اب تاریخِ افواجِ پاکستان کے ماتھے پر ایک ایسا کلنک کا ٹیکہ بن چکی ہیں، جسے کوئی سرکاری پریس ریلیز نہیں دھو سکتی۔
یہ واقعہ عالمی برادری کو یہ سبق سکھاتا ہے کہ جب ریاستیں مذہب اور نظریات کو اپنی تربیت اور دنیا و آخرت سنوارنے کے بجائے صرف اپنے اقتدار اور بقا کے لیے ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہیں تو ان کے اندر کا انسانی اور اخلاقی وجود مکمل طور پر مَر ہی جاتا ہے۔ وہ اپنے مالی مفادات کی قربان گاہ پر معصوم اور کلمہ گو مسلمانوں کی قربانی دینے سے بھی رتی بھر گریز نہیں کرتیں۔
اب جب کہ یوناما کی فیکٹ چیک رپورٹ نے پاکستانی فوج اور عطاء اللہ تارڑ کا جھوٹ تار تار کر دیا ہے تو یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا پاکستان کے مسلمان اور دردِ دل رکھنے والے عوام اپنی نام نہاد فوج کے اس سنگین جنگی جرم پر بھی خاموش رہتے ہیں؟
ایک عام مسلمان جب اس پورے منظر نامے پر غور کرتا ہے تو اسے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستانی فوج کی جانب سے اندرون اور بیرونِ ملک مسلمانوں پر گرائے جانے والے بم دراصل کسی دشمن کو مارنے کے لیے نہیں، بلکہ عالمی اقتدار کے آقاؤں، قرض دہندگان اور قرض معاف کنندگان کو یہ بتانے کے لیے گرائے جاتے ہیں کہ:
‘عالمِ پناہ! ہم ایسٹ انڈیا کمپنی(East India Company) کے وقت میں جنم لینے والے اپنے اجداد سے زیادہ آپ اور آپ کی نسلوں کے وفادار اور تابع فرمان ہیں۔’

