71ء میں بنگالی مسلمانوں کے خلاف فوج کا ‘جہاد’:
ایک طرف تو پاکستانی فوج نے مشرک کافروں کے مقابلے میں اس شرمناک بزدلی و بے حمیتی کا مظاہرہ کیا؛ لیکن دوسری طرف پوری جنگ کے دوران یہی بدبخت فوج نہتے بنگالی مسلمانوں پر اپنی پوری قوت کے ساتھ یوں ٹوٹی گویا اس کا اصل ‘جہاد’ یہی ہو۔
25 اور 26 دسمبر کی رات کو ڈھاکہ شہر پر بھاری توپخانے سے وحشیانہ بمباری کر کے لا تعداد نہتے شہریوں کو شہید کیا گیا، ستمبر اور اکتوبر کے درمیان دھوم گھاٹ کے علاقے میں مقامی لوگوں کو قطار در قطار کھڑا کر کے فائرنگ سکواڈ کےذریعے قتل کیا گیا، 28 مارچ 1971ء کو لیفٹیننٹ جنرل یعقوب خان کے حکم پر کومیلا چھاؤنی میں 17 بنگالی افسروں اور 915 بنگالی سپاہیوں کو ایک ہی دن میں مار ڈالا گیا، سلد اناسی کے علاقے میں بھی 500 لوگوں کو قتل کیا گیا، نمایاں بنگالی مصنفین، ڈاکٹروں، انجنیئروں، پروفیسروں اور سیاست دانوں کو چن چن کرمارا گیا، الغرض اہلِ بنگال کے خلاف مظالم کی ایک سیاہ داستان رقم کی گئی۔
بنگلہ دیشی حکومت کا دعویٰ تھاکہ اس پوری جنگ کے دوران فوج نے 30 لاکھ بنگالی قتل کئے، جبکہ جی ایچ کیو نے 1972ء میں خود چھبیس ہزار(26،000) بنگالیوں کے قتل تسلیم کئے تھے۔ بنگلہ دیشی حکومت کایہ دعویٰ اگرچہ مبالغے پر مبنی لگتا ہے، لیکن اس امر سے انکار ممکن نہیں کہ مارے جانے والوں کی تعداد لاکھوں میں تھی؛ اور ایسا کیوں نہ ہو، جبکہ حمود الرحمان کمیشن کے سامنے پیش ہونے والے ایک گواہ برگیڈیئر اقبال الرحمان شریف کے مطابق، پاکستانی فوج کا ایک نہایت اعلیٰ عہدیدار جنرل گل حسن فوجی مراکز کے دوروں کے دوران سپاہیوں سے پوچھا کرتا تھا کہ:
“How many Bengalis have you shot?”
"تم نے کتنے بنگالی مارے ہیں؟”
بنگال میں اس فوج کے جرائم یہیں تک محدود نہ رہے، بلکہ 1857ء کی تاریخ دہراتے ہوئے ان بدبختوں نے بہت سی بنگالی بہنوں کی عصمت دری بھی کی۔بنگلہ دیشی حکومت کا دعویٰ تھا کہ کل 2 لاکھ خواتین کی عصمت دری کی گئی۔ عصمت دری کے واقعات اتنے عام تھے کہ ہر افسر و سپاہی ان سے واقف تھا اور ایک بہت بڑی تعداد ان میں باقاعدہ ملوث بھی تھی۔لیفٹیننٹ کرنل عزیز احمد خان نے حمود الرحمان کمیشن کے سامنے گواہی دیتے ہوئے کہا کہ فوجیوں میں یہ جملہ عام تھا کہ:
“When the Commander (Lt. Gen. Niazi) was himself a raper,how could we be stopped”!
"جب ہمارا کمانڈر (جنرل نیازی)خود عزتیں لوٹتا تھا، تو پھر ہمیں کیسے روکا جاسکتا تھا”؟!
اخلاقی انحطاط کا حال یہاں تک پہنچ چکاتھاکہ عین جنگ کے دوران بھی فوجی افسران اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتے تھے۔ میجر منور خان نے کمیشن کے سامنے گواہی دیتے ہوئے بتایا کہ 11 اور 12 دسمبر کی درمیانی شب جب مقبول پور سیکٹر میں بھارتی فوج کے گولے پاکستانی مورچوں پر گر رہے تھے، عین اس وقت بھی برگیڈیئر حیات اللہ کے زیرِ زمین مورچے میں ایک بدکار عورت اس کے ساتھ موجود تھی۔
اسی طرح بنگالی مسلمانوں کے اموال بھی فوج کی دست برد سے نہ بچ سکے۔ جنرل راؤ فرمان علی کی گواہی کے مطابق جنرل نیازی نے مشرقی پاکستان میں فوج کی کمان سنبھانے کے فوری بعد کہا کہ:
"میں راشن کی کمی کا ذکر کیوں سن رہا ہوں؟ کیا اس علاقے کے لوگوں کے پاس گائے بکریاں نہیں ہیں؟ یہ دشمن کی سر زمین ہے، جوجی چاہے چھین لو! ہم(دوسری جنگِ عظیم کے دوران)برما میں یہی کرتے تھے”۔
جرنیلوں کی اسی تحریض کا نتیجہ تھا کہ فوج کے افسر و سپاہی سرچ آپریشنوں کے دوران خوب لوٹ مار کرتے۔ بعض مرتبہ جب بیرکوں کی تلاشی لی گئی تو(حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کے مطابق) وہاں سے ٹی وی، فریج، ایئر کنڈیشنز، ٹائپ رائٹر، سونا، گھڑیاں اور بہت سی دیگر قیمتی اشیاء برآمد ہوئیں۔
ایک موقع پر 57 ویں برگیڈ کے کمانڈر برگیڈیئر جہانزیب ارباب، چار کرنل سطح کے افسران اور ایک میجر نے ایک مشترکہ منصوبے کے تحت سراج گاج میں واقع نیشنل بینک کےخزانے سے ایک کروڑ پینتیس لاکھ (1،3500،000) روپے چرائے۔ اس چوری کا راز تب کھلا جب راستے میں پکسی پل پر تعینات ایک ‘جے سی او’ نے اتفاقاً چوری کا مال لے جانے والی گاڑی کی تلاشی لے لی۔ نیز جرنیل خود بھی اس لوٹ مار اور مالی بدعنوانی میں شامل تھے۔ کرنل بشیر احمد خان کی گوہی کے مطابق میجر جنرل محمد جمشید کی بیوی ڈھاکہ سے فرار ہوتے ہوئے بہت سی چوری شدہ نقدی مغربی پاکستان لے کر گئی، جبکہ جنرل نیازی تو جنگ کرنے کی بجائےاس پورے عرصے پان کی اسمگلنگ میں مصروف رہا۔ ظاہر ہے کہ جن فوجیوں کے ‘اسلاف’نے 1857ء میں دہلی کے مسلمانوں کے گھروں سے چارپائیاں تک چرائیں تھیں، اگر ان کے جانشین بھی ایسی خسیس حرکتوں میں ملوث پائے جائیں تو زیادہ حیرت نہیں ہونی چاہیے۔

