Site icon المرصاد

پاکستانی فوجی رجیم کی حقیقت، تاریخ کے آئینے میں! نویں قسط

پاکستانی فوج کی اٹھان میں امریکہ کا کردار
اس دوران انگریز سے براہِ راست فیض یافتہ اس فوجی نسل کے زیرِ سایہ ایک اور فوجی نسل پروان چڑھ رہی تھی۔ اس نسل کی تربیت میں دو عناصر اپنی گہری چھاپ چھوڑ رہے تھے۔ ایک طرف تو پہلی نسل کے فوجی افسران وہ سارے علوم و فیوض منتقل ان تک منتقل کر رہے تھے جو انہیں برطانوی افسروں سے ورثے میں ملے تھے جبکہ دوسری طرف پاکستان کی فوجی و سیاسی قیادت امریکہ سے پینگیں بڑھانے میں مصروف تھی۔
امریکہ نے برطانیہ کے بطن ہی سے جنم لیا تھااس لئے امریکہ نے پاکستان کو اپنے اتحادیوں میں شامل کرتے زیادہ دیر نہیں لگائی۔ 1954ء میں پاکستان نے امریکہ کے ساتھ ”باہمی دفاعی تعاون کے معاہدے” پر دستخط کیے جس کے بعد پاکستان کو امریکی امداد ملنے لگی۔
اس کے بعد 1955ء میں پاکستان نے سیٹو اور سینٹومیں شمولیت اختیار کر کے خود کو واضح طور پر امریکہ کا چہیتا اتحادی باور کروایا اورامریکہ نے پاکستانی فوج کی تربیت پر بہت باریک بینی سے توجہ دی۔
پاکستانی فوج نے امریکی فوج کی تنظیمی ساخت سامنے رکھتے ہوئے اپنی فوج کو ازسرِ نو منظم کیا۔ فوج میں کئی ایسی ڈویژنوں کا اضافہ ہوا جو مکمل طور پر امریکی اسلحے سے لیس اور امریکہ کی تربیت یافتہ تھیں۔ پاکستان کے بہت سے اعلیٰ افسران تربیت حاصل کرنے امریکہ گئے۔ 1955ء سے 1958ء کے درمیان (یعنی محض تین سال کے عرصے میں) صرف توپ خانے کے شعبے سے ہی 200 افسر امریکہ گئے۔ نیز امریکی افسران خود بھی پاکستان آکر فوج کی تربیتی اکیڈمیوں میں پڑھاتے رہے اور انہوں نے ان اکیڈمیوں کے نصاب میں بھی بہت سی اہم تبدیلیاں کیں۔
اس سب کے ساتھ ساتھ پاکستانی افسران کو تربیت حاصل کرنے کے لئے برطانیہ اور دولتِ مشترکہ کے دیگر ممالک بھی بھیجا جاتا رہا۔ نتیجے میں ایک ایسی نسل وجود میں آئی جو اصلاً برطانوی تاریخ ومزاج کی حامل تھی، لیکن پر گہری امریکی چھاپ بھی موجود تھی ۔

اسی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے سٹیفن کوہن لکھتا ہے:
"امریکی فوجی ماہرین اسٹاف کالج کوئٹہ تک کے دورے وقتاًفوقتاً کرتے رہے، جو کہ پاکستان کا سب سے پرانا فوجی ادارہ ہے اور آج تک برطانوی خواص کا حامل ہے۔ یوں اس کالج کی تعلیم و تربیت میں امریکیوں کا اہم حصہ ہے۔ کالج کی اپنی مرتب کردہ تاریخ میں بتایا گیا ہے کہ 1957ء میں امریکہ کی ایک جوہری جنگ کی ماہر ٹیم کا دورہ انتہائی سودمند ثابت ہوااور پرانے نصاب میں ترمیم و نظرثانی پر منتج ہوا”۔(پاکستان آرمی، تاریخ و تنظیم از اسٹیفن پی کوہن، ص65 ـ 72)

اسی طرح 1956ء میں ”ایس ایس جی” کا رسمی قیام بھی امریکی خصوصی دستوں ((Special Ops. Force کی مدد سے عمل میں آیا، اور امریکی خصوصی دستوں کی طرز پر ایس ایس جی کو پروان چڑھایا گیا۔
1971ء کے بعد امریکہ کی توجہ ویتنام کی طرف پھر گئی اور پاکستان بھی وقتی طور پر اس کے اتحادیوں کی صف سے نکل گیا، لیکن 80ء کی دہائی کا آغاز ہوتے ہی امریکہ کو ایک بار پھر روسی خطرے سے نمٹنے کے لئے پاکستان کی ضرورت پڑی اورپاکستان بھی فوجی و غیر فوجی امداد کے دروازے کھلتے دیکھ کر خوشی خوشی امریکہ کا ”فرنٹ لائن اتحادی” بننے پر تیار ہو گیا۔
یوں پاکستانی فوج کو ایک بار پھر امریکی سرپرستی حاصل ہوگئی۔ افغانستان سے روس کے انخلاء کے بعد یہ سلسلہ پھر عارضی طور پر کمزور پڑا، لیکن گیارہ ستمبر 2001ء کے واقعات کے بعد پاکستان دوبارہ امریکہ کا ‘فرنٹ لائن اتحادی’ بن گیااور اس کی یہ حیثیت تاحال برقرار ہے۔
اس پورے عرصے میں افسروں کی جو دوسری نسل تیار ہوئی، وہ برطانیہ کے ساتھ ساتھ اپنے نئے آقا امریکہ کی بھی وفادار تھی، بلکہ کئی اعتبار سے امریکہ کے زیادہ قریب تھی۔ پرویز مشرف کا تعلق اسی نسل سے ہے؛ وہ امریکی اثرات کے حامل اسٹاف کالج کوئٹہ سے پڑھنے کے بعد برطانیہ کے ‘رائل کالج آف ڈیفنس سٹڈیز، لندن’ سے پڑھا اور 1998ء میں پاکستان فوج کا سربراہ بن کر نو سال امریکی مفادات کی خدمت کرنے میں مصروف رہا۔

Exit mobile version