پاکستانی فوج کی اٹھان میں اسلام کا کردار
ایک بات تو بلا خوفِ تردید کہی جاسکتی ہے کہ پاکستانی فوج کے نظریات و عقائد کی تشکیل میں اسلام کا سرے سے کوئی کردار نہیں رہا۔ ہاں، البتہ قیامِ پاکستان کے بعد اتنی تبدیلی ضرور آئی ہے کہ فوج نے اپنے سپاہیوں اور افسروں کے جذبات ابھارنے اور انہیں لڑ مرنے کا جذبہ دینے کے لئے اسلام کو نہایت ہوشیاری سے استعمال کیا ہے۔
فوج کے نظریات کو اسلامی رنگ دینے کی کوششیں زیادہ تر ضیاء دور میں ہوئی ہیں، جس کے نمونے پروفیسر کرنل عبد القیوم کی تصنیف: ‘On striving to be a Muslim’ اور برگیڈیئر ایس کے ملک کی تصنیف ‘The Quranic Concept of War’ کی صورت میں دیکھے جاسکتے ہیں۔
یہ اور ایسی دیگر تحریرات تفسیر، حدیث، فقہ اور دیگر علومِ دینیہ پر گہری گرفت رکھنے والے علماء نے نہیں لکھیں، بلکہ خود فوج ہی کے افسران نے لکھی ہیں۔ حُسنِ ظن سے کام لیا جائے تو زیادہ سے زیادہ یہی کہا جاسکتا ہے کہ شائد یہ کسی انفرادی فوجی کی نیک نیتی پر مبنی کوشش ہو، لیکن عملی حقیقت یہ ہے کہ یہ کتب اور اس سے مشابہ تمام کاوشیں فوج کے اساسی نظریات و عقائد اوراس کے طور طریقوں میں کسی قسم کی جوہری تبدیلی لائے بغیر ہی ایک فوجی کو یہ باور کرادیتی ہیں کہ وہ جہاد جیسی اعلیٰ عبادت میں مصروف ہے، اس پر اس کے افسر کے ہر حکم کی اطاعت کرنا واجب ہے اوراگر وہ مارا جائے تو وہ شہادت کے اعلیٰ رتبے پر فائز ہو گا۔
رہی یہ بات کہ اسلام میں جہاد کی تعریف کیا ہے؟ وطن کی خاطر لڑنے کا شرعی حکم کیا ہے؟ جہاد کے شرعی مقاصد ہوتے ہیں؟ ایک مسلمان کا دوست کون ہوتا ہے اور دشمن کون؟ اطاعتِ امیر کی حدود کیا ہیں اور کن حالتوں میں امیر کا حکم ماننا جائز نہیں رہتا؟ شہید کی شرعی تعریف کیا ہے؟ شہادت کی قبولیت کی کیا شرائط ہیں؟ شریعت نے جنگ کے کیا آداب و ضوابط مقرر کئے ہیں؟
ان سب سوالات کواٹھانے اور ان کا درست شرعی جواب دینے سے مکمل گریز کیا جاتاہے۔ مثلاً، یہ بات پورے دعوے سے کہی جاسکتی ہےکہ پاکستانی فوج کا کوئی افسر وجوان یہ بات نہیں جانتا کہ جہاد کا بنیادی مقصد ‘اعلائے کلمۃ اللہ’ ہوتا ہے یعنی یہ کہ توحید کا کلمہ بلند کیاجائے، شرک کا کاتمہ کیا جائے، شریعت نافذ کی جائے اور کافروں کے غلبے و بالا دستی کو مٹاڈالا جائے۔ انہی بنیادی شرعی مفاہیم سے جہالت کا نتیجہ ہے کہ پاکستانی فوج کے افسران کبھی بنگال کے مسلمانوں کو ذبح کرتے ہوئے احد وبدر کی مثالیں دیتے نظر آتے ہیں، تو کبھی عرب مجاہدین کا لہو بہانے والے سپاہیوں کو مجاہد گردانتے دکھائی دیتے ہیں۔ چنانچہ 71ء کے سانحے کے دوران جنرل ٹکا خان نے مشرقی گیریزن سے خطاب کرتے ہوئےکہا:
"جہاد اور اسلام سے وابستگی کی بناء پر ہی مٹھی بھر مسلمانوں نے مضبوط ترین مخالفین کو شکست سے دوچار کیا۔ بدر، اُحد، خیبر اور دمشق کی جنگیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ مسلمان کیا کرسکتے ہیں”!(پاکستان آرمی، تاریخ و تنظیم از اسٹیفن پی کوہن، ص:94)
اسی طرح 2004ء میں وانا(وزیرستان) میں عرب و عجم کے مہاجر مجاہدین کے خلاف لڑائی میں مصروف فوجیوں کو مخاطب کرتے ہوئے برگیڈیئر خٹک نے کہا:
"اصل مجاہد میرے لڑکے ہیں، اصل مجاہد تم لوگ ہو”!
لہٰذا یہ بات پورے یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ یہ فوج آج بھی اپنے بنیادی نظریات اور فکر وفلسفے کے اعتبار سے سینڈ ہرسٹ اور دہرہ دون کی فوجی اکیڈمیوں سے تربیت یافتہ وہی شاہی ہندی فوج ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب اس کے اسلامی جذبے کی تسکین کے لئے اس کی بیرکوں کو ‘ایمان، تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ’ جیسے اسلامی نعروں سے مزین کردیا گیا ہے، حالانکہ یہ آج بھی ان تینوں چیزوں سے اتنی ہی دور ہے جتنی 1857ء میں تھی، بلکہ یہ بات تو اور بھی زیادہ خطرناک ہے کہ اب اُنہی کفریہ مقاصد کے حصول کے لئے یہ فوج دینی جذبے سے لڑ رہی ہے!
فوج کے اصل نظریے کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے اسٹیفن کوہن صراحت سے لکھتا ہے:
"آزادی حاصل کرنے والی تمام مسلمان مملکتوں کو مغربی تربیت یافتہ افواج ورثے میں ملیں………… چنانچہ(یہ فوج) کلازوٹ، لڈل ہارٹ اور شیلنگ کے نظریات ترک کرنے سے ہچکچاتی ہیں۔ پاکستان آرمی کے بیشتر افسران بھی ان نظریات کو ترک نہیں کریں گے”۔(پاکستان آرمی، تاریخ و تنظیم از اسٹیفن پی کوہن، ص107)

