پاکستانی عوام کو دھوکہ دینے اور اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے حکومتِ پاکستان نے بہت پہلے ہی اپنی تمام تر سلامتی کے مسائل کا بوجھ افغانستان پر ڈالنا شروع کر دیا تھا۔ لیکن اب وہ دو قدم مزید آگے بڑھ چکی ہے اور اپنے عوام اور عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی خاطر افغانستان کے اندر فرضی قتل کی کہانیاں گھڑنے لگی ہے۔
اسی سلسلے میں کچھ عرصہ پہلے پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ سے وابستہ اکاؤنٹس نے یہ جھوٹی دعویٰ کیا کہ ہلمند میں نامعلوم افراد نے ’’بلوچ لبریشن آرمی‘‘ کے اس کمانڈر کو قتل کر دیا ہے جو پاکستانی حکومت کے خلاف برسرِ پیکار تھا۔
حال ہی میں پاکستانی اداروں نے ایک اور دعویٰ کیا کہ مزار شریف شہر میں ’’محمد احسانی‘‘ نامی ایک داعشی، جو پشاور میں سرگرم تھا، نامعلوم افراد کے حملے میں مارا گیا ہے۔ حالانکہ، سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، مزار شریف میں قتل کا ایسا کوئی واقعہ پیش ہی نہیں آیا اور نہ ہی داعش کی صفوں میں محمد احسانی نام کا کوئی ذمے دار موجود ہے۔
افغانستان میں فرضی قتلوں کی خبریں گھڑنے کے ساتھ ساتھ، حالیہ دنوں میں پاکستان کے آئی ایس پی آر اور دیگر عسکری اداروں کے زیرِ سرپرستی چلنے والے میڈیا پلیٹ فارمز نے دیگر خیالی کہانیاں تراشنے کا سلسلہ بھی شروع کر دیا ہے۔ مثال کے طور پر، جب رواں سال اگست کے آخر میں پاکستانی جنگی جہازوں نے افغانستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خوست اور ننگرہار میں بے گناہ افغانوں کے گھروں پر بمباری کی، تو فوراً ہی آئی ایس پی آر سے وابستہ پروپیگنڈا اکاؤنٹس نے ڈھٹائی کے ساتھ یہ دعویٰ کیا کہ یہ گھر پاکستان کے فضائی حملوں سے نہیں بلکہ ان دو گروہوں کے جنگجوؤں کی باہمی جھڑپ میں داغے گئے راکٹوں سے تباہ ہوئے جو پاکستانی حکومت کے خلاف برسرِپیکار ہیں۔
پاکستانی فوج کے ترجمانوں نے اپنی اس بے شرمانہ دعوے کو ثابت کرنے کے لیے حقائق کو بھی مسخ کر دیا: متاثرین کی بیانات کو غلط طریقے سے ترجمہ کیا، اپنی من گھڑت خبریں بنائیں، مبینہ سیاسی ماہرین کے ساتھ جھوٹے انٹرویوز رچائے اور اپنے پورے ظلم پر منظم مہم کے ذریعے پردہ ڈال دیا۔ (پاکستانی حکومت نے یہی طریقہ گزشتہ بمباری میں بھی اپنایا؛ درجنوں شہریوں کی شہادتوں کو اپنے حملے کا نتیجہ بتانے کے بجائے باہمی خانہ جنگی کا شاخسانہ قراردیا)۔
پاکستانی عوام اور افغان جانتے ہیں کہ پاکستان چند فاسد فوجی جرنیلوں کے قبضے میں ہے اور وہ اس طرح کے فرضی قتل، جنگیں، دھماکے اور الزامات کرکے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں: اپنی ناکامی چھپانا اور ایک بارپھر ڈالروں کے تھیلوں کا حصول، مگر انہیں سمجھ لینا چاہیے کہ اب نہ افغانستان وہ ۲۰۰۱ء والا افغانستان ہے اور نہ ہی دنیا وہ دنیا رہی ہے؛ ان کے اعمال قدم بہ قدم بے نقاب ہوں گے اور ایک دن وہ اس کا انجام بھی بھگتیں گے۔
ان کے ہر فریب کی حقیقت قدم قدم پر کھلتی جائے گی، پھر ایک وقت انہیں اپنے کیے کا بھاری خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

