پہلے بھی ذکر گیا تھا کہ پاکستان کے زوال کی ایک بڑی وجہ سیاسی عدم استحکام تھی، اور دوسری وجہ اُن عالمی طاقتوں کے اسٹریٹجک مفادات کا خاتمہ تھی جنہوں نے پاکستان کو اپنے مخصوص مقاصد کے لیے وجود بخشا تھا۔ چونکہ دنیا ہمیشہ تغیر پذیر ہے، اس لیے عالمی سلطنتیں اور طاقتیں بھی وقت کے ساتھ بدلتی ہیں، اور اپنے اہداف کو نئی ضرورتوں کے مطابق ڈھال لیتی ہیں۔
پاکستان کو برطانوی عظیم سلطنت نے اُس وقت وجود بخشا جب ان کی طاقت اپنے عروج پر تھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ عظیم ہندوستان انگریز سلطنت کے لیے دردِ سر نہ بنے، اور عظیم افغانستان جس نے انگریزوں کے ساتھ کئی بار جنگیں کی تھیں؛ اب ان کے راستے میں رکاوٹ نہ رہے۔ اسی لیے برطانیہ نے ان دونوں خطوں کو تقسیم کر دیا۔
اگر واقعی پاکستان کے قیام کا مقصد مسلمانوں کو ظلم و ستم سے نجات دلانا ہوتا، تو پھر انگریزوں نے وہ علاقے افغانستان ساتھ کیوں نہ ملائے؟
درحقیقت، پاکستان کی تخلیق کا منصوبہ انگریزوں نے ایک بڑے اور مضبوط ملک کے اُبھرنے کو روکنے کے لیے بنایا تھا، اور دوسرا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو مختلف حصوں میں بانٹ دیا جائے تاکہ وہ دوبارہ متحد ہو کر ہندوستان میں حکومت نہ قائم کر سکیں۔
پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد نہ صرف یہ کہ مسلمانوں نے ہندوستان میں حکومت حاصل نہیں کی، بلکہ وہ مسلمان جو بھارت میں رہ گئے، آج تک اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ اور جب برطانوی سلطنت کا سورج غروب ہوا، تو اس کے ساتھ ہی پاکستان کے وجود کی اصل فلسفیانہ بنیاد بھی بے معنی ہو گئی۔
گزشتہ نصف صدی میں پاکستان ایک عرصے تک امریکی سپر پاور کے لیے روس کے مقابلے میں اور چین کے لیے ہندوستان کے خلاف ایک مفید آلہ کار کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔ مگر جب یوکرین کی جنگ شروع ہوئی، تو امریکہ خود مغرب میں روس کے خلاف الجھ گیا، اور اب پاکستان اس کے لیے فائدے کے بجائے بوجھ بن چکا ہے۔ اسی طرح چین کے خلاف امریکہ کے بڑے حریف کے طور پر ہندوستان اب امریکہ کے لیے زیادہ موزوں اور مضبوط اتحادی بن سکتا ہے۔ چنانچہ مغرب کے نزدیک پاکستان نامی یہ منصوبہ اب نفع کے بجائے نقصان کا باعث بن گیا ہے۔
پاکستان کے خاتمے کا خطرہ اُس وقت مزید بڑھ گیا جب چین اور ہندوستان کے تعلقات بہتر ہونے لگے۔ اگر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر آ گئے تو پاکستان چین کے لیے بھی غیرضروری ہو جائے گا۔ اب جبکہ پاکستان سیاسی اور معاشی عدم استحکام کی انتہا کو پہنچ چکا ہے، عالمی طاقتیں اُس سے ہاتھ کھینچ رہی ہیں۔ اور وہ پاکستان، جس کی بنیاد ہمیشہ بیرونی طاقتوں کے سہارے پر قائم تھی، اب ٹوٹ پھوٹ کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔
یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ جب کوئی ملک سیاسی اور معاشی عدم استحکام کا شکار ہوتا ہے، تو اُسے صرف قوم کی وحدت یا جغرافیائی حیثیت بچا سکتی ہے۔ مگر پاکستان میں کوئی ایسی مضبوط قومی یکجہتی نہیں۔ وہاں کے عوام مختلف نسلی، فکری اور لسانی گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ مزید یہ کہ اگرچہ پاکستان کے عوام مسلمان ہیں، لیکن اس کا نظامِ حکومت اور قانون غیر اسلامی ہے۔
جغرافیائی اعتبار سے بھی پاکستان کے پاس کوئی حقیقی ملکیت نہیں۔ یہ ملک غصب شدہ زمینوں پر قائم ہوا ہے، اور آج بھی ان علاقوں کے اصل مالکان اپنے حقوق کے دعویدار ہیں۔
پاکستان کو ٹوٹنے سے بچانے کا واحد راستہ ایک خالص اسلامی نظام کا قیام ہے۔ یہی نظام اس کے شیرازے کو بکھرنے سے کچھ عرصے کے لیے روک سکتا ہے۔

