معاصر تاریخ میں افغانستان ایک طویل اور پیچیدہ جنگ کا شاہد رہا ہے جس کی جڑیں صرف خطے تک محدود نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی خفیہ اور اعلانیہ اسٹریٹجک چالوں کا نتیجہ ہیں۔ اس کھیل میں پاکستان کی فوجی رجیم (فوج اور انٹیلیجنس ادارے) ایسا کردار ادا کرتی رہی ہے جو کرایے کے سپاہیوں کی شکل اختیار کر چکی تھی۔ مغرب، خصوصاً امریکہ کی خواہشات اور مالی تعاون کے تحت اس قوت کی سرگرمیاں افغانستان کے مومن عوام، ملک کے استحکام، علاقائی سالمیت اور قومی خودمختاری کے لیے ایک بڑا چیلنج سمجھی جاتی ہیں۔
پاکستان کی فوجی رجیم، جو ابتدا ہی سے برطانوی استعمار کی روایات پر قائم ہوئی، اس کے افسران مغربی فوجی اکیڈمیوں میں تربیت یافتہ ہیں اور ان کی ذہنیت اپنے ملک اور قوم کے مفادات کے بجائے امریکی خارجہ پالیسی کے نفاذ کے لیے تشکیل دی گئی ہے۔
اس رجیم کے سربراہان، جو امریکہ کے اجرتی غلام کے طور پر ہمیشہ اپنے ملک کے قومی مفادات کو قربان کرتے رہے ہیں، جنرل ضیاء الحق سے لے کر جنرل پرویز مشرف اور موجودہ فوجی حکمرانوں تک، ہمیشہ امریکی انٹیلیجنس منصوبوں کے نفاذ کے لیے ہاتھ باندھے تیار کھڑے رہے ہیں۔ انہوں نے امریکی خفیہ ادارے (CIA) کے ساتھ مل کر مسلمانوں کو ستانے کے منصوبے ترتیب دیے اور انہیں عملی جامہ بھی پہنایا، اور گزشتہ چار دہائیوں کے دوران خطے میں امریکہ اور نیٹو کے اسٹریٹجک مقاصد کے سب سے قابلِ اعتماد آلۂ کار رہے ہیں، جس کے بدلے میں انہوں نے مغرب سے اربوں ڈالر کی فوجی امداد حاصل کی۔
یہ فوجی رجیم، جو دہائیوں سے افغانستان کے داخلی امور میں مداخلت اور کابل میں ایسی حکومت قائم کرنے کی خواہش رکھتی تھی جو اسلام آباد کے اشاروں پر چلے، “اسٹریٹجک گہرائی” کے نظریے پر بھی کاربند رہی، جس کے تحت افغانستان کو بھارت اور مغرب کے مقابلے میں اپنے اثر و رسوخ کے دائرے میں رکھنا مقصود تھا۔ تاہم پاکستانی فوج کے یہ عزائم، جو افغانستان پر بالواسطہ کنٹرول کے تصور پر مبنی تھے، افغان مومن عوام کے مضبوط عزم اور اتحاد کے سامنے ناکام ہوئے اور کبھی پورے نہیں ہوں گے۔
جب 1979 کے آخر میں سوویت یونین افغانستان میں داخل ہوا تو مغرب نے پاکستان کے ساتھ مل کر ایک پراکسی جنگ کی بنیاد رکھی۔ امریکی پالیسی کے مطابق پاکستان کی فوجی انٹیلیجنس (ISI) نے مجاہدین کی تربیت، اسلحہ کی تقسیم اور مختلف گروہوں کے انتظام کی ذمہ داری سنبھالی۔ اس مرحلے پر اگرچہ پاکستان ایک طرف افغان مزاحمت کا حامی دکھائی دیتا تھا، لیکن دوسری طرف اس نے انہی گروہوں کے درمیان اختلافات اور تقسیم کو بھی فروغ دیا، جس نے بعد میں خانہ جنگی کی راہ ہموار کی۔
اسی طرح جب امریکہ نے ستمبر 2001ء میں افغانستان پر حملہ کیا تو پاکستان کی فوجی رجیم نے مغربی منصوبوں کے نفاذ کے لیے اپنی سرزمین، فضائی حدود اور انٹیلیجنس معلومات فراہم کیں۔ تاہم 2021ء میں جب افغانستان میں عالمی طاقت، اس کے اتحادیوں اور زر خرید غلاموں کا مکمل صفایا ہو گیا، تو پاکستانی فوجی رجیم نے اپنے باپ (مغرب) کے تعاون سے گزشتہ ناکامیوں کی تلافی کے لیے افغانستان کے خلاف نئی خفیہ اور اعلانیہ کوششیں شروع کر دیں۔
اس تقسیم کی پہلی کوشش معاشی ناکہ بندی کی صورت میں سامنے آئی، جہاں فوجی رجیم نے طورخم اور سپین بولدک جیسی زمینی بندر گاہوں کو غیر واضح وجوہات کی بنا پر طویل عرصے تک بند رکھا، تجارتی سامان کی ترسیل پر غیر معمولی پابندیاں عائد کیں، اور افغانستان کی مقامی پیداوار کے خلاف ٹیرف کی رکاوٹیں کھڑی کیں۔
دوسری کوشش سیاسی اور عسکری دباؤ کے ذریعے کی گئی، جہاں پاکستان کی فوجی انٹیلیجنس نے افغانستان کے جلا وطن مخالفین اور ان مسلح گروہوں کو، جن کے ساتھ ماضی میں بھی یہی رجیم تعاون کرتی رہی تھی، دوبارہ متحرک کیا اور افغانستان میں نئے نظام کے خلاف عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے خفیہ مراکز قائم کیے، جیسا کہ 1990ء کی دہائی میں مجاہدین کے درمیان لڑائی کے لیے کیا گیا تھا۔
تیسری اور سب سے خطرناک کوشش دہشت گرد گروہوں کے ذریعے کی گئی، جہاں پاکستانی فوجی رجیم نے داعش خراسان اور دیگر مخالف گروہوں کو اپنی سرزمین سے مالی معاونت، تربیت اور پناہ فراہم کی، تاکہ افغانستان کے شہروں میں دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ اور مذہبی مقامات پر حملوں کے ذریعے نئے نظام پر عوام کا اعتماد کمزور کیا جا سکے اور اس طرح مغربی مفادات کا تحفظ کیا جائے۔ تاہم افغانستان کی سیکیورٹی فورسز، جو اب ایک متحد مرکزی قیادت کے تحت کام کر رہی ہیں، نے ان خفیہ ہاتھوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں کیں اور داعش سمیت دیگر دہشت گرد گروہوں کے ٹھکانوں کو خاک و خاشاک میں بدل دیا۔
آخر میں، فوجی رجیم کو یہ ادراک ہو چکا ہوگا کہ افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں کے قبضوں، پراکسی جنگوں اور بیرونی مداخلتوں کے برعکس اب ایک مکمل خودمختار اسلامی نظام سے سرفراز ہے، جو افغان مومن عوام کی برسوں کی قربانیوں، صبر اور استقامت کا نتیجہ ہے۔ فوجی رجیم اور اس کے باپ کے تمام ناپاک عزائم اللہ تعالیٰ کی مدد اور مجاہد عوام کے تعاون سے آغاز میں ہی ناکام بنا دیے گئے ہیں، اور ایک مرکزی، خودمختار اور اسلامی قیادت کے تحت ملک کے استحکام، امن اور قومی خودمختاری کے لیے پختہ عزم ظاہر کیا گیا ہے۔
افغانستان نے مغربی اور علاقائی طاقتوں کی پراکسی جنگوں کے تسلسل کی ہر کوشش کو مسترد کر دیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ اب یہ ملک کسی بھی بیرونی منصوبے کے نفاذ کا میدان نہیں بنے گا۔ ملک کی خارجہ پالیسی مثبت تعامل پر مبنی ہے، لیکن قومی خودمختاری اور اسلامی اقدار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

