Site icon المرصاد

پاکستان میں بندوق کی سیاست اور پائیدار امن کا خواب: خیبر پختونخوا کا اسٹریٹیجک بحران

پاکستان کا صوبہ خیبرپختونخوا گزشتہ اڑھائی دہائیوں سے پاکستانی فوج کی جانب سے ایک ایسے پُرتشدد تضاد کا شکار ہے، جس کا ایندھن ریاست کا امن اور عام پشتون شہری بن رہے ہیں۔

معاصر دفاعی تاریخ کا یہ ایک پریشان کن سوال ہے کہ جدید ترین عسکری ٹیکنالوجی، فضا پر مبینہ کنٹرول اور دنیا کی بہترین پیشہ ورانہ تربیت سے لیس ایک باقاعدہ فوج آخر چند ہزار عسکریت پسندوں کے نیٹ ورک کے سامنے بے بس اور ناکام کیوں ہے؟

ہمیں اس سکیورٹی تعطل (Security Deadlock) کو سمجھنے کے لیے محض موجودہ میدانِ جنگ کے نقشوں پر نگاہ نہیں ڈالنا ہوگی… بلکہ ماضی کے پاکستانی ریاستی تزویراتی فیصلوں، جغرافیائی حرکیات اور ریاست و عسکری تنظیموں کے مابین گہرے ‘اعتماد کے فقدان’ کی تاریخ کو بھی کھرچنا ہوگا۔

عام فوجی موازنے کے روایتی اصول یہاں آ کر مبہم ہو جاتے ہیں۔
ایک طرف پشاور کی ‘گیارہ کور’ کے زیرِ کمان تیرہ مستقل فوجی کینٹس اور بوقتِ ضرورت ڈیڑھ لاکھ تک پہنچنے والی عسکری نفری ہے، جسے فرنٹیر کور کی معاونت حاصل ہے۔
دوسری طرف عالمی تھنک ٹینکس کے مطابق تحریکِ طالبان پاکستان (TTP)، حافظ گل بہادر گروپ کے متحرک جنگجوؤں کی مجموعی تعداد محض چھ سے 7 ہزار کے درمیان ہے۔

چناں چہ اگر اس میں پاکسانی فوج کی نئی پراکسی ‘داعش’ کے دہشت گردوں کا عدد بھی شامل کر لیا جائے تو یہ تعداد تقریباً آٹھ ہزار تک پہنچ جاتی ہے۔
داعش کو اس لیے شامل کیا گیا ہے کہ پاکستانی فوج بظاہر خود کو داعش کے مخالف ظاہر کرتی ہے۔
یوں پاکستانی فوج اور جنگجوؤں کے درمیان یہ بظاہر ایک اور بیس کا تناسب ہے۔
تاہم عسکری سائنس کا اصول ‘ٹوتھ ٹو ٹیل ریشو’ (Tooth-to-Tail Ratio) یہ بتاتا ہے کہ کسی بھی فوج کا بڑا حصہ لاجسٹکس، انٹیلی جنس اور تنصیبات کی حفاظت پر مامور ہوتا ہے۔
اس کٹوتی کے باوجود پاکستانی فوج کو خیبرپختونخوا میں حاصل عددی برتری برقرار رہتی ہے، جو اس حیرت کو جنم دیتی ہے کہ پاکستان میں امن و امن کا مسئلہ تاحال حل کیوں نہیں ہو سکا؟

اکثر عسکری ماہرین عسکریت پسندوں کی جانب سے گوریلا جنگ کی پیچیدگیوں کو پاکستانی فوج کے لیے بطورِ عذر پیش کرتے ہیں، لیکن یہ دلیل اس وقت کمزور پڑ جاتی ہے، جب ہم تاریخ کا ورق الٹتے ہیں۔
سال ۱۹۸۰ء کی دہائی میں سوویت یونین کے خلاف افغان مجاہدین کو گوریلا جنگ کے اسرار و رموز سکھانے کے دعوے دار خود پاکستان کے سکیورٹی ادارے تھے۔

یہاں عسکری تاریخ کا ایک بنیادی اصول سامنے آتا ہے کہ ‘کسی بیرونی سرزمین پر پروکسی جنگ کی سرپرستی کرنا اور اپنے ہی جغرافیے میں انسدادِ دہشت گردی (Counter-insurgency) کی جنگ لڑنا دو بالکل مختلف مہارتیں ہیں۔’
بیرونی محاذ پر نقصان دوسری زمین کا ہوتا ہے، جب کہ اپنے گھر کے اندر بھاری ہتھیاروں اور فضائی طاقت کا اندھا دھند استعمال ناگزیر طور پر ‘کولیٹرل ڈیمج’ (Collateral Damage) کا سبب بنتا ہے۔

یہ عوامی نقصان مقامی آبادی کو ریاست سے متنفر کر کے عسکریت پسندوں کے بیانیے کے لیے نرسری کا کام کرتا ہے۔
‘جب ریاست اپنی آئینی رٹ کے غرور پر اَڑی ہو اور عسکریت پسند اپنے مطالبات پر ہٹنے کو تیار نہ ہوں تو امن و امان کا تعطل جنم لے لیتا ہے، جہاں جیت جس کسی بھی ہو، مگر ایک عام آدمی ریاست کے پالیسی سازوں کی ذہنی حالت پر سوال ضرور اٹھانا شروع کر دیتا ہے۔
پاکستان میں موجود اس بحران کے تانے بانے نائن الیون کے بعد کے اُن تزویراتی فیصلوں سے ملتے ہیں، جنہوں نے پاکستان کو امریکی جنگ کا فرنٹ لائن اتحادی بنایا۔

اس کے نتیجے میں ہونے والے بڑے فوجی آپریشنز نے عسکریت پسندوں کی جگہوں کو عارضی طور پر تو ختم کیا، لیکن اس کی بھاری قیمت لاکھوں مقامی لوگوں نے آئی ڈی پیز (IDPs) بن کر، چیک پوسٹوں کی نفسیاتی دوری اور خود ریاست نے نفرت خریدنے کی صورت میں چکائی ہے۔
پشتون تحفظ موومنٹ (PTM) جیسے مقامی دھڑوں کے اُبھار کو اسی عوامی غصے اور ریاست کے خلاف بیگانگی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

ریاست نے عسکری کارروائیوں کے بعد پیدا ہونے والے خلا کو پُر کرنے کے لیے سال ۲۰۱۸ء میں فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کو ایک مثبت قدم باور کرایا تھا، جس کا مقصد قبائلی عوام کو ایف سی آر (FCR) جیسے نوآبادیاتی قانون سے نجات دلا کر ترقی کے دھارے میں لانا تھا۔
جب کہ حقیقت یہ ہے کہ قبائلی عوام کی پاکستان سے وفاداری ہمیشہ غیر متنازع رہی ہے، لیکن انضمام کے بعد وفاق کی جانب سے سالانہ سو ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز کی عدمِ فراہمی اور سویلین اداروں کی انتظامی نااہلی و سرد مہری نے ایک خطرناک انتظامی خلا پیدا کر دیا۔

تاریخ گواہ ہے کہ فوج کسی علاقے کو عارضی طور پر صاف (Clear) تو کر سکتی ہے، لیکن وہاں مستقل امن کو برقرار (Hold) رکھنا صرف مضبوط سویلین اداروں اور معاشی خوش حالی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
مذاکرات کے محاذ پر ڈیڈ لاک کی بڑی وجہ دونوں فریقین کی تزویراتی مجبوریاں ہیں۔
ریاست کسی ایسی مسلح تنظمیم کے سامنے نہیں جھکنا چاہتی، جو اُس کے آئین کو تسلیم نہ کرتی ہو۔ دوسری طرف عسکریت پسندوں کا غیر مشروط ہتھیار ڈالنے سے انکار ریاست کی طرف سے تاریخی بے اعتمادی پر مبنی ہے۔

عسکریت پسندوں کے ذہنوں میں ۱۹۵۹ء کا وہ واقعہ نقش ہے، جب بلوچستان کے بزرگ رہنما نواب نوروز خان کے ساتھ قرآن پاک پر کیے گئے عہد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان کے ساتھیوں کو پھانسی دے دی گئی تھی۔
ریاست کی طرف سے دیے گئے اُس تاریخی دھوکے نے عسکری تنظیموں کے ذہنوں میں یہ اثر بٹھا دیا ہے کہ بغیر کسی بین الاقوامی یا سیاسی ضمانت کے پاکستانی ریاست کے سامنے ہتھیار ڈالنا خودکشی کے مترادف ہے۔

نتیجتاً یہ جنگ ایک ‘سخت تعطل’ (War of Attrition) میں تبدیل ہو چکی ہے۔ ریاست کے پاس جدید ترین تکنیکی وسائل ہیں، جو عسکریت پسندوں کو حاوی نہیں ہونے دیتے اور عسکریت پسندوں کے پاس گوریلا نیٹ ورک ہے، جو انہیں مکمل ختم نہیں ہونے دیتا۔
دنیا بھر کی عسکری تحریکوں کی تاریخ یہ سکھاتی ہے کہ مستقل امن صرف بندوق کی گولی سے نہیں، بلکہ سیاسی تدبر سے کشید کیا جاتا ہے۔

اگر ریاست واقعی پاکستان کو پُرامن بنانا چاہتی ہے تو اسے محض عسکری تنظیموں کے تعاقب کے بجائے خود کی جانب سے اُن اسباب کا خاتمہ کرنا ہوگا، پُرامن شہری جن سے نالاں ہو کر جنگ کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔
اس کا واحد متبادل حل یہ ہے کہ ریاست اپنی سخت شرائط میں لچک پیدا کرے، مقامی قبائلی جرگوں اور عوامی سیاسی جماعتوں کو ‘تھرڈ پارٹی ثالث’ کے طور پر آگے لائے اور عسکریت پسندوں کو آئین کے دائرے میں لانے کے لیے عام معافی کی قابلِ اعتماد ضمانتیں فراہم کرے۔

جب تک پاکستان کی خارجہ پالیسی کے تزویراتی تضادات ختم نہیں ہوں گے اور مقامی آبادی کو معاشی حقوق و فوری انصاف نہیں ملے گا، تب تک پاکستان کا امن و امان کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔

Exit mobile version