المرصاد ذرائع نے بتایا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایسے داعش شدت پسندوں نے اپنے ایک ساتھی کو جاسوسی کے الزام میں قتل کر دیا ہے جو خفیہ اداروں کے ساتھ رابطے کے مخالف تھے۔
معلومات کے مطابق، قتل شدہ داعشی کا نام روح اللہ تھا اور خوارج کی صفوں میں وہ ذکریا اور احمد کے ناموں سے مشہور تھا۔
المرصاد ذرائع کے مطابق، روح اللہ چند سال قبل ترکی میں خوارج کی صفوں میں شامل ہوا تھا اور افغانستان میں اس نے نہ صرف شہری اور عسکری اہداف پر حملے کیے بلکہ داعشی خوارج کے اقتصادی ادارے کے تحت اغوا کے آپریشنز میں بھی حصہ لیا۔
مختلف مواقع پر اس کے حوالے سے داعشی عناصر کے درمیان شک پیدا ہوا، خاص طور پر جب اس نے افغانستان کے صوبہ بلخ میں ایک اغوا شدہ بچے کے کیس میں اپنے کچھ ساتھیوں کو چھوڑ دیا، جو آپریشن کے نتیجے میں مارے گئے، اور روح اللہ خیبر پختونخوا کے جبار میلے علاقے میں داعش کے مراکز چلا گیا۔
ذرائع کے مطابق، کچھ سخت گیر داعش اراکین نے روح اللہ پر کافی عرصے سے شک کا اظہارکیا اور بالآخر تحقیق کے بعد اسے قتل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
یاد رہے کہ تیراہ جبار میلہ، تور درہ اور اورکزئی کے علاقے خیبر پختونخوا میں خوارج کی اہم ٹھکانوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔
یہ بھی قابل ذکر ہے کہ گذشتہ ماہ فروری میں ۲۸ تاریخ کو تیراہ کے تور درہ میں ان کے مراکز پر لیزری کیمرے کے ذریعے کارروائی کی گئی، جس میں ۱۰ داعشی مارے گئے۔ اس کے علاوہ مارچ کی پہلی تاریخ کو اورکزئی کے غلجوں کے تورکانی اور نریک علاقوں میں ایک حملے میں حاجی رحمان (ابو ناصر) اور ملا فاروقی سمیت ۹ اہم داعشی کمانڈرز ہلاک ہوئے تھے۔




















































