اسلامی تعلیمات میں ہجرت ایک عظیم اور مقدس تصور ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
«وَالَّذِينَ هَاجَرُوا فِي اللَّهِ مِن بَعْدِ مَا ظُلِمُوا لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ» (النحل: 41)۔
ہجرت کا مطلب ظلم اور کفر کے ماحول سے نکل کر اسلامی زندگی اور عقیدے کے تحفظ کے لیے نقل مکانی کرنا ہے۔ حضرت محمد ﷺ کی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت اسلامی تاریخ کا ایک نہایت اہم مرحلہ تھا، جو صبر، قربانی اور ایمانی قوت کی علامت بن چکا ہے۔
حقیقی ہجرت اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہوتی ہے، نہ کہ ذاتی مفادات یا کسی گروہ کے سیاسی ایجنڈے کے لیے۔ لیکن داعش جیسی انتہا پسند تنظیمیں، خصوصاً اس کی خراسان شاخ، اس مقدس تصور کا ناجائز استعمال کرتی ہیں۔ وہ ہجرت کو عقیدے کے تحفظ یا اسلامی زندگی کے لیے نہیں، بلکہ اپنے پروپیگنڈہ اور جنگی مقاصد کے لیے ایک ذریعہ بناتی ہیں۔
داعش اپنے پروپیگنڈہ حربوں (سوشل میڈیا، خراسانی داعش کے متعلقہ رسائل اور دیگر ذرائع میں) ہمیشہ “خلافت” کے قیام اور “تمکین” کی بات کرتی ہے۔ وہ بیرونِ ملک مسلمانوں، خصوصاً پاکستان، وسطی ایشیا اور حتیٰ کہ یورپ سے تعلق رکھنے والوں کو یہ پیغام دیتی ہے:
“یہاں تمکین موجود ہے، مراکز قائم ہیں، سب کچھ منظم اور تیار ہے۔”
“ہجرت کرو، یہاں تمہیں گھر، عزت، بھائی چارہ اور خلافت میں حصہ ملے گا۔”
“تمہاری ہجرت اسلام کے لیے ایک عظیم مقام رکھے گی۔”
بظاہر یہ وعدے پرکشش اور دلکش لگتے ہیں، کیونکہ بہت سے نوجوان اپنے ممالک میں معاشی، معاشرتی اور سیاسی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں یہ وعدے اکثر جھوٹ اور دھوکہ ہوتے ہیں۔ داعش، جو پاکستان میں کھلے عام سرگرم ہے، مکمل اس کے پاس تمکین یا کوئی حقیقی خلافت قائم نہیں۔ اس کے نیٹ ورکس پوشیدہ ہیں، سرحدی علاقوں اور جنگلات میں اس کے ٹھکانے ہیں، اور اس کی زیادہ تر کارروائیاں مسلمانوں کو نشانہ بناتی ہیں، نہ کہ کوئی حکومت یا اسلامی نظام کے قیام پر مرکوز ہیں۔
بہت سے لوگ جو خلوصِ نیت سے ان کے پرکشش اور تراشیدہ وعدوں (قیامِ خلافت) پر “ہجرت” کرتے ہیں، درحقیقت خراسانی داعش کے ہاتھوں افغانستان اور خطے میں عام مسلمانوں کے خلاف استعمال کیے جاتے ہیں۔ انہیں بتایا جاتا ہے کہ سب کچھ تیار ہے، لیکن وہاں پہنچنے کے بعد انہیں عملی جنگ یا دیگر مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ 2025-2026 کے دوران بھی ایسی رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ داعش نے غیر ملکی افراد کو بھرتی کیا ہے۔
داعش کی “خلافت” صرف میڈیا میں موجود ہے، جبکہ حقیقت میں یہ چند انتہا پسند عناصر کی خفیہ سرگرمیوں اور حملوں تک محدود ہے۔ وہ “ہجرت” کے نام پر لوگوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں، لیکن اس کا نتیجہ فتنہ، قتل اور مسلمانوں کے درمیان تفرقہ ہوتا ہے۔
یہ سوچنے کی بات ہے کہ یہ غلط استعمال کیوں خطرناک ہے؟
اوّل: ہجرت کے تقدس کی بے حرمتی: ہجرت ظلم سے نجات اور اسلامی زندگی کے لیے ہے، نہ کہ دہشت گردی اور فساد کے لیے۔
دوم: نوجوانوں کی تباہی: بہت سے بے گناہ لوگ نیک نیتی سے جاتے ہیں، مگر یا تو مارے جاتے ہیں یا جرائم میں ملوث ہو جاتے ہیں۔
سوم: مسلمانوں کے درمیان فتنہ: خراسانی داعش کے حملوں میں زیادہ تر مسلمان ہی نشانہ بنتے ہیں، جبکہ مسلمان کا قتل سب سے بڑا فتنہ ہے۔
چہارم: پر فریب پروپیگنڈہ: میڈیا میں دکھائی جانے والی “تمکین” دراصل چند انتہا پسندوں کی تصاویر اور ویڈیوز ہوتی ہیں، جو حقیقت کو چھپاتی ہیں۔
اس تمام تجزیے کا خلاصہ یہ ہے کہ ہجرت ایک مقدس عمل ہے جس کو اسلام میں عظیم مقام حاصل ہے، لیکن داعش جیسی تنظیموں نے اسے اپنے تخریبی ایجنڈے کے لیے استعمال کیا ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ایسے پروپیگنڈے سے ہوشیار رہیں اور معتبر علماء کی رہنمائی کے بغیر کسی بھی قسم کی “ہجرت” کا فیصلہ نہ کریں۔ حقیقی اسلام امت کے اتحاد کا داعی ہے، نہ کہ قتل و فساد کا۔
داعش کا یہ طرزِ عمل 2025-2026 میں بھی جاری ہے۔ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اسلام کی حقیقی تعلیمات کا مطالعہ کرے، جھوٹے وعدوں سے بچے اور کسی کے فریب میں نہ آئے۔

