Site icon المرصاد

24 اسد: داعش کا خاتمہ!

جب 24 اسد 1400 ہجری شمسی بمطابق ۱۵ اگست ۲۰۲۱ء کو امارت اسلامیہ کا پرچم کابل کے ایوان صدر پر لہرایا، تو افغانستان استعمار کے سائے سے آزاد ہوا۔ یہ دن صرف ایک نظام کی تبدیلی کا دن نہیں تھا، بلکہ ایک نئی سیکورٹی مساوات کا آغاز تھا۔ امارت اسلامیہ ک آمد صرف کافر قوتوں کے انخلا کا مطلب نہیں رکھتی تھی، بلکہ اس نے ان داخلی و خارجی خطرات کو ختم کرنے کی ابتدا بھی کر دی جو بیرونی قبضے کے سالوں میں گہری جڑیں جما چکے تھے۔

ان خطرات میں سے سب سے خطرناک داعش کی خراسان شاخ تھی، ایک ایسی تنظیم جو غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کے تعاون اور انتشار پھیلانے کے مقصد سے افغانستان لائی گئی تھی۔ استعمار کے دور میں اس نے بے گناہ لوگوں کا خون بہایا، مساجد، مدارس، بازاروں اور اسکولوں کو نشانہ بنایا۔ لیکن امارت اسلامیہ کے اقتدار میں آنے کے ساتھ ہی داعش کا اثر و رسوخ نمایاں طور پر کم ہوا اور وہ ختم ہو گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مجاہدین نے بیس سالہ جہاد کے دوران ایک منظم، خفیہ معلومات پر مبنی اور عوامی حمایت سے مستحکم سیکورٹی ڈھانچہ تشکیل دیا تھا، جس نے داعش سے اس کی محفوظ پناہ گاہیں چھین لیں۔

داعش بیرونی قبضے کے دوران کئی عوامل کی بدولت پھلی پھولی تھی:

– قبضہ آور قوتوں کی جانب سے جان بوجھ کر پیدا کیے گئے سیکورٹی خلاء
– کچھ علاقوں میں مقامی انتظامیہ کی کمزوری
– کچھ جنگجو سرداروں کی غیر ذمہ دارانہ سرگرمیاں

امارت اسلامیہ نے ان تمام عوامل کو ختم کیا اور ان خلاؤں کو پر کیا جو داعش کو سرگرمیوں کی گنجائش فراہم کر رہے تھے۔

امارت اسلامیہ کے ابتدائی آپریشنز نے، خصوصاً ننگرہار، کنڑ اور نورستان میں ہونے والے آپریشنز نے، داعش کے مرکزی ٹھکانوں کی کمر توڑ دی۔ وہ لوگ جو برسوں تک پہاڑوں اور غاروں میں خود کو محفوظ سمجھتے تھے، اب یا تو گرفتار ہوئے، مارے گئے یا انہوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ اس کامیابی کی ایک بڑی وجہ امارت اسلامیہ کے سیکورٹی اداروں کا درست خفیہ کام تھا۔ مجاہدین نے صرف کھلی جنگ پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ عوام کی تعاون اور اپنے مضبوط نیٹ ورکس کے ذریعے داعش کے خفیہ نیٹ ورکس کو تباہ کر دیا۔

عوامی حمایت وہ طاقت تھی جس نے داعش کو بے بس کر دیا۔ عوام کو امارت اسلامیہ پر بھروسہ تھا، کیونکہ مجاہدین نے جہاد کے سالوں میں لوگوں سے مضبوط رابطہ برقرار رکھا تھا۔ اسی عوامی تعاون کی بدولت داعش کی پناہ گاہوں اور سپلائی لائنوں کا پردہ فاش ہوا۔ امارت اسلامیہ کا اقتدار سنبھالنا داعش کے لیے ایک نفسیاتی دھچکا بھی تھا۔ ان کا پروپیگنڈا یہ تھا کہ گویا اسلامی حکمرانی موجود نہیں اور وہ خلافت کے لیے لڑ رہے ہیں، لیکن جب امارت اسلامیہ نے عملی طور پر اسلامی نظام نافذ کیا تو داعش کا یہ بہانہ مکمل طور پر بے بنیاد ہو گیا اور ان کے ارکان کا حوصلہ پست ہوا۔

داعش کی کمزوری صرف جنگی میدان تک محدود نہیں رہی، بلکہ ان کے حملوں کی تعداد، شدت اور جغرافیائی دائرہ کار بھی واضح طور پر کم ہوا۔ وہ وقت جب داعش ہر ماہ کئی خونریز حملے کرتی تھی، آج وہی نیٹ ورک ٹکڑوں میں بٹ چکا ہے اور مقامی سیکورٹی فورسز کے دباؤ تلے ہے۔ امارت اسلامیہ کے آنے سے نہ صرف داعش کو کچلا گیا، بلکہ افغانستان میں امن کے قیام کے لیے ایک نیا باب کھلا۔ آج لوگ بے فکر ہو کر شہروں میں جاتے ہیں، بازار کھلے ہیں، مساجد بھری ہوئی ہیں اور جنگ کی آواز اذانوں کی آواز میں بدل چکی ہے۔ یہ اس جہاد، قربانیوں اور سرفروشی کا نتیجہ ہے جو اللہ کی نصرت اور عوام کی حمایت سے انجام پائی۔

امارت اسلامیہ کے دوبارہ اقتدار کے چار سالہ دور میں، داعش کی خفیہ سرگرمیوں کے لیے افغانستان کی سرزمین سب سے غیر محفوظ جگہ بن چکی ہے۔ جہاں پہلے وہ بے دھڑک اکٹھے ہوا کرتے تھے، اب ہر اجتماع سیکورٹی فورسز کے تیز رفتار آپریشنز سے ختم ہو جاتا ہے۔ ننگرہار کے تورہ بورہ پہاڑ، جو داعش کے ٹھکانوں کے طور پر بدنام تھے، آج اسلامی پرچم کے سائے تلے امن کی علامت بن چکے ہیں۔

امارت اسلامیہ کا ایک اہم حربہ یہ تھا کہ اس نے داعش کے خلاف صرف فوجی دباؤ نہیں ڈالا، بلکہ فکری اور پروپیگنڈا کی جنگ بھی لڑی۔ مساجد، مدرسوں اور علماء کے منبروں سے لوگوں کو واضح کیا گیا کہ داعش کی حرکتیں شریعت کے روح کے منافی ہیں اور وہ صرف فتنے کی آگ بھڑکاتے ہیں۔ اس فکری جنگ نے داعش کی فریب کاری کے مشین کو مفلوج کر دیا۔

داعش افغانستان میں سرگرمیوں کے لیے کچھ غیر ملکی حلقوں کی امداد کی امید رکھتی تھی، لیکن امارت اسلامیہ کے مضبوط سرحدی کنٹرول اور علاقائی تعاون کی بدولت یہ امداد بھی منقطع ہو گئی۔ اسی وجہ سے ان کی سپلائی لائنیں خشک ہوئیں اور ان کی لڑائی کی صلاحیت روز بروز کم ہوتی گئی۔ امارت اسلامیہ کے مجاہدین کا حوصلہ اور شہادت کی تمنا وہ چیزیں ہیں جن کا مقابلہ داعش کے بس کی بات نہیں۔ داعش خوف و ہراس پھیلا کر لوگوں کو کمزور کرتی ہے، لیکن امارت اسلامیہ کے مجاہدین اللہ کی نصرت پر یقین رکھ کر لڑتے ہیں، اور یہ یقین ہر اس قوت کو شکست دیتا ہے جو ایمان کے بجائے وحشت پر مبنی ہو۔

آج جب کہ افغانستان کا ماحول امن کی بدولت اذانوں، مدارس کے اسباق اور بازاروں کی چہل پہل سے بھرا ہے، یہ امارت اسلامیہ کی اس پختہ جدوجہد کا نتیجہ ہے جس نے داعش کے اندھیروں سے قوم کے مستقبل کو روشن کیا۔ داعش کے خواب اب صرف ناکام منصوبوں کی ایک تاریخی کہانی بن کر رہ گئے ہیں، اور امارت اسلامیہ نے ثابت کیا کہ عزت، اتحاد اور ایمان کے ذریعے ہر قسم کا فتنہ کچلا جا سکتا ہے۔

آخر میں، اسلامی امارت کا دوبارہ اقتدار نہ صرف ایک نظام کی تبدیلی تھی، بلکہ ایمان، اتحاد اور عوامی حمایت کی وہ زلزلہ تھی جس نے اشغال کے باقیات اور اس کے زہریلے فتنوں میں سب سے خطرناک گروہ داعش کو نیست و نابود کر دیا۔ مجاہدین کی قربانیوں، درست خفیہ کاوشوں، عوامی حمایت اور اسلامی شریعت کے نفاذ کی بدولت، افغانستان اس فتنے کے پنجوں سے آزاد ہوا جو امت کے خون کا پیاسا تھا۔

آج اس سرزمین کا آسمان امن کے سفید بادلوں سے بھرا ہوا ہے، اور داعش کا کالا دھواں صرف ناکام خوابوں کی کہانیوں میں بدل چکا ہے۔ امارت اسلامیہ نے دنیا کو ایک بار پھر دکھا دیا کہ اللہ کی نصرت اور قوم کے اتحاد سے کوئی فتنہ باقی نہیں رہ سکتا۔

Exit mobile version