Site icon المرصاد

26 دلو: آزادی کی ولولہ انگیز داستان!

26 دلو (۱۵ فروری) افغانستان سے سوویت سرخ لشکروں کے انخلاء کی 37ویں سالگرہ ہے۔ یہ دن افغانستان کی مسلمان قوم کی بے مثال قربانیوں، بہادری اور جرأت کی زندہ یادگار سمجھا جاتا ہے۔

6 جدی 1358 ہجری شمسی بمطابق 27 دسمبر 1979ء کو سابقہ سوویت یونین کے مغرور اور متکبر سرخ لشکروں نے اپنے جدید اسلحے اور ٹیکنالوجی کے ساتھ مظلوم افغانستان پر حملہ کیا۔ وہ اس سرزمین کے لوگوں کا ایمان اور اسلامی اقدار مٹانا چاہتے تھے اور افغانستان میں ایک سیکولر اور ملحد نظام قائم کرنا چاہتے تھے۔ مگر اپنے اسی ناکام اور مسلط کردہ حملے کے دوران انہوں نے دس لاکھ سے زیادہ افغانوں کو شہید، زخمی، قیدی اور معذور بنایا اور ہزاروں دیگر کو ہجرت پر مجبور کر دیا۔

اگرچہ فریب خوردہ افراد کی ایک محدود تعداد قابضین کے ساتھ کھڑی ہوئی، لیکن افغانستان کی پوری شریف اور مومن قوم نے “اللہ اکبر” کی صدا کے ساتھ، خالی ہاتھوں اور ایمان سے سرشار دلوں کے ساتھ ہتھیار اٹھا لیے۔ ایک بار پھر جہاد اور آزادی کی آواز بلند ہوئی، لوگ پہاڑوں اور دیہاتوں سے اٹھ کھڑے ہوئے، متحد ہوئے اور بالآخر ایسی قوت میں بدل گئے جس نے محلات میں بیٹھے ظالموں کے گھروندے گرا دیے۔ اللہ تعالیٰ جل جلالہٗ کی مدد سے انہوں نے اس ابرہہ صفت حملہ آور لشکر کو ایسی شکست دی جو تاریخ کے صفحات میں ایک عظیم عبرتناک واقعے کے طور پر ثبت ہو گئی۔

آزادی اور خودمختاری کی اس طویل اور خونریز جدوجہد میں قوم نے بڑے زخم اور مصیبتیں برداشت کیں، ایسے درد جو آج بھی بہت سے گھروں میں زندہ ہیں، جہاں اُس وقت کے لاپتہ باپ اور بیٹوں کا اب بھی کوئی سراغ نہیں اور ان کی زندگی یا شہادت کی کوئی یقینی خبر نہیں مل سکی۔ جب مختلف صوبوں میں اجتماعی قبریں دریافت ہوئیں تو ان برسوں کے جرائم دوبارہ تازہ ہو گئے اور لواحقین نے اپنے کھوئے ہوئے پیاروں کو پہچانا۔

جب اس سرزمین کی قوم نے اللہ تعالیٰ جل جلالہٗ پر پختہ توکل کیا تو دس سالہ جدوجہد، خونریز مظالم اور جرائم کے باوجود، جن کی تصویریں آج بھی بعض بزرگوں کے ذہنوں میں تازہ ہیں، یہ قوم کبھی بھی ظالم اور مجرم لشکر کے سامنے سرنگوں نہ ہوئی۔ بلکہ اپنے خون کی قیمت پر آزادی حاصل کی۔ انہوں نے حملہ آور فوج کو ایسی دندان شکن شکست دی کہ وہ اس قوم کے سامنے مزید ٹھہرنے کی طاقت کھو بیٹھی اور بالآخر سر جھکائے اس سرزمین کو چھوڑ گئی، جبکہ اس کے ہزاروں سپاہی ہلاک، زخمی یا لاپتہ ہو چکے تھے۔ یہ شکست دیگر سپر پاورز کے لیے بھی نصیحت اور تاریخی عبرت بن گئی تاکہ وہ افغانستان پر قبضے کا خیال دل سے نکال دیں۔

مختصر یہ کہ 26 دلو (۱۵ فروری) عزت، فخر اور قومی سربلندی کا دن ہے۔ یہ دن اس قوم کی جرأت کی گواہی دیتا ہے جس نے ایمان، استقامت اور نہ تھکنے والے عزم کے ساتھ اپنا مقدر خود رقم کیا۔ اس راہ کے شہداء کی یاد تاریخ کے قلب میں روشن چراغ کی مانند ہمیشہ جگمگاتی رہے گی، اور اس آزاد قوم کی قربانیاں اور بہادری تاریخ کی زریں سطور میں ہمیشہ باقی رہیں گی، جیسا کہ ہم ہر سال اس دن کو احترام اور تجلیل کے ساتھ مناتے ہیں۔ ان مجاہدین کی اولاد اور پوتے، جنہوں نے سوویت سرخ لشکروں کے مقابل ڈٹ کر قربانیاں دیں، آج اپنے بزرگوں کے تاریخی فتح پر سربلند ہیں۔

Exit mobile version