۹ سنبلہ ۱۴۰۰ ہجری شمسی بمطابق ۳۱ اگست ۲۰۲۱ء وہ دن ہے جب آخری شرمسار امریکی فوجی شکست تسلیم کرتے ہوئے افغانستان کی پاک سرزمین سے بھاگ گیا۔ یہ دن وحشت کے مقابلے میں ایمان، اور ان بڑی طاقتوں کے کھوکھلے دعووں کے مقابلے میں ایک قوم کے عزم کا نشان ہے جو یہ سمجھتی تھیں کہ زور اور پیسے سے اس ثقافت اور شناخت کو مٹا دیں گی جو ایک قوم کے روح کی گہرائیوں میں جڑی ہوئی ہے۔
یہ دن فوجی قبضے کے خاتمے کی کہانی تھی، لیکن حقیقت میں یہ ایک بڑی جنگ کے آغاز کا اعلان تھا: ایک استعمار سے فکر اور ثقافت کے میدان کو واپس لینا، جو شکست کھا چکا تھا لیکن اس نے اپنے خیالات کا زہر معاشرے کے جسم میں انجیکٹ کر دیا تھا۔
افغانستان میں بیس سالہ قبضہ صرف ایک فوجی حملہ نہیں تھا؛ یہ اس کے ساتھ ایک ثقافتی یلغار بھی تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ رنگارنگ نیٹ ورکس، غیر ملکی اقدار کا پراپیگنڈہ، اور اس سرزمین کے اصل سے بالکل اجنبی طرز زندگی کے ذریعے ایسی نسلیں تیار کریں گے جو اپنی عظیم تاریخ اور پختہ ایمان سے بیگانہ ہو جائیں۔ وہ چاہتے تھے کہ عالمی ذہنوں میں مجاہدین کو "دہشت گرد” کے طور پر متعارف کروائیں اور ایک قوم کے مقدس جہاد اور مزاحمت کو ایک گروہ کے تشدد کی سطح تک گرا دیں۔
لیکن جنگ کے گہرے مورچوں میں، وہ جوان جو ایک ہاتھ میں قرآن عظیم الشان اور دوسرے ہاتھ میں ہتھیار لیے کھڑے تھے، انہوں نے نہ صرف ٹینکوں کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کیا بلکہ ثقافتی حملے کے خلاف بھی مزاحمت کی۔ ان کے ایمان نے اس یلغار کے مقابلے میں ایک مضبوط دیوار کھڑی کی۔
لیکن آج، عظیم عسکری کامیابی کے بعد، ہمارا کام ختم نہیں ہوا۔ دشمن کی فوج شاید چلی گئی ہو، لیکن جنگ کا میدان اب دوسرے میدانوں میں منتقل ہو چکا ہے: کتابوں، اسکولوں، میڈیا، فنون، اور ورچوئل دنیا کی جانب۔
دشمن نے شکست کھائی لیکن وہ اپنی پوری طاقت سے کوشش کر رہا ہے کہ اپنے نظریات کو انتہائی پیچیدہ طریقوں سے معاشرے میں میٹھے زہر کی طرح داخل کرے۔ وہ ہمارے جوانوں کو کھوکھلے مادی نظریات سے بہکانے، امت کے اتحاد کو تفرقے کے حربوں سے توڑنے، اور اس دینی غیرت کو بھلانے کی کوشش کر رہا ہے جو مجاہدین کی سب سے بڑی طاقت تھی۔
اب دینی علماء، ادیبوں، شاعروں، یونیورسٹی کے اساتذہ، اور ہر بہادر افغان عوام کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بھاری ہے۔ ہمیں اسی دلیری کے ساتھ ثقافتی اور فکری جنگ کے میدان میں داخل ہونا ہے جو مجاہدین نے جنگی میدان میں دکھائی تھی۔ ہمیں اصل مواد کی تیاری، اسلامی-افغان اقدار کو دوبارہ زندہ کرنے، قومی اور مذہبی شناخت کی بنیاد پر تعلیمی نظام کو مضبوط کرنے، اور ان کی ترویج کے ذریعے دشمن کی سازشوں کے خلاف نئے مضبوط مراکز بنانے کی ضرورت ہے۔
آج کی جنگ افکار اور دلوں کو دوبارہ جیتنے کی جنگ ہے۔ آئیے ہوشیار رہیں! کہ دشمن اس بار کسی اور لباس اور فریب دینے والی زبان کے ساتھ واپس نہ آئے۔ 9 سنبلہ کی فتح نے ہمیں یہ سبق دیا کہ کوئی طاقت ایک قوم کے متحد عزم کے سامنے مزاحمت نہیں کر سکتی۔ اب ہمیں اس عزم کو اس میدان کی طرف موڑنا ہے جہاں دشمن ہماری فکری حاکمیت کو توڑنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
آج، امارت اسلامیہ کی حکمرانی کے تحت، افغانستان کے پاس یہ تاریخی موقع ہے کہ وہ نہ صرف اپنی عسکری آزادی کا جشن منائے بلکہ فکری اور ثقافتی آزادی کے لیے ایک عظیم منصوبہ بھی آگے بڑھائے۔ یہ ان شہیدوں کی خون کی سب سے بڑی قدر ہے جنہوں نے اپنی جانوں کی قربانی دے کر اس آزادی کا راستہ ہموار کیا۔
آئیے یہ عہد کریں کہ افغانستان کی آنے والی نسلیں ایک ایسی آزاد اور سربلند ملک میں زندگی گزاریں گی جو قوی شناخت رکھتا ہو اور غیر ملکی ثقافت سے بے نیاز ہو۔ 9 سنبلہ قبضے کا خاتمہ تھا، لیکن یہ اس عظیم ذمہ داری کا آغاز بھی تھا کہ ایک ایسا افغانستان بنایا جائے جو کسی بھی میدان میں دوسروں کا محتاج یا کسی کے زیر اثر نہ ہو۔

