داعش اور میڈیا کے ذریعے کیے گئے جرائم
داعش محض ایک تکفیری دہشت گرد گروہ نہیں تھا، بلکہ ایک عظیم سانحہ تھا جو دین کے لبادے میں ظاہر ہوا۔ ایک ایسا فتنہ جس نے تشدد، جھوٹ اور فریب کے ذریعے اسلام کو بدنام کرنے اور انسانی وقار کو پامال کرنے کی کوشش کی۔ اس گمراہ گروہ نے صرف اسلحے اور دھماکوں کے ذریعے قتل و غارت نہیں کی، بلکہ حقیقت کو مسخ کر کے اور اذہان کو زہر آلود کر کے بھی جرائم کا ارتکاب کیا۔ داعش کے لیے میڈیا محض خبر رسانی کا ذریعہ نہیں تھا، بلکہ ایک مہلک اور خطرناک ہتھیار تھا، جسے وہ ذہن سازی، عوامی رائے کو گمراہ کرنے اور اندھے و مطیع پیروکار تیار کرنے کے لیے استعمال کرتا تھا۔
داعش کا پراپیگنڈہ نظام نہایت باریک بینی اور منصوبہ بندی کے ساتھ تشکیل دیا گیا تھا، جس میں ویڈیوز، تصاویر، سوشل میڈیا نیٹ ورکس اور ڈیجیٹل اشاعتیں شامل تھیں۔ اس میڈیا نظام میں جرائم، خونریزی اور غلامی کو عبادت اور بہادری کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ داعش نے سزاؤں، تشدد، دھماکوں اور خوفناک مناظر کی وسیع پیمانے پر تشہیر کے ذریعے پوری دنیا میں خوف و دہشت کی فضا پھیلا دی، اور ساتھ ہی نادان اور کمزور نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنایا تاکہ انہیں فریب دے کر اپنی صفوں میں شامل کر سکے۔
یہ مجرم گروہ اپنے جرائم کو “مقدس فتوحات” کے نام سے پیش کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ جو بھی یہ ویڈیوز دیکھتا، شاید یہ گمان کرتا کہ داعش ایک طاقتور، جائز اور انصاف پسند تحریک ہے، حالانکہ حقیقت خونریزی، تباہی اور معاشرے کی بربادی کے سوا کچھ نہیں تھی۔ داعش کے میڈیا نے حقائق کو الٹ پلٹ کر پیش کیا، ظلم کو عدل اور جرم کو دینداری کے نام سے دکھایا۔
میڈیا کے اس غلط استعمال کے ذریعے داعش نے دین کو شرارت کے جواز کا ذریعہ بنا لیا۔ انہوں نے قرآنِ مجید کی آیات اور رسول اللہ ﷺ کی احادیث کو منتخب، مسخ شدہ اور ان کے حقیقی تاریخی، اخلاقی اور روحانی سیاق سے کاٹ کر استعمال کیا، تاکہ قتل، تشدد، غلامی اور لوٹ مار کو جہاد کے طور پر پیش کیا جا سکے۔ یہ اعمال واضح کرتے ہیں کہ داعش نے نہ صرف اسلام کو مسخ کیا بلکہ عقلِ سلیم اور انسانی ضمیر کو بھی پامال کیا۔
داعش کے میڈیا کے مذموم مقاصد میں سے ایک یہ بھی تھا کہ اپنی نام نہاد خلافت کی ایک خیالی اور جھوٹی تصویر پیش کرے۔ جعلی تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے یہ دکھایا جاتا تھا کہ داعش کے زیرِ قبضہ زندگی امن، عدل اور خوشحالی سے بھرپور ہے، جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔ داعش کے زیرِ تسلط علاقوں میں لوگ مسلسل خوف کے سائے میں زندگی گزارتے تھے، عورتیں اور بچے غلام بنائے جاتے، خاندان تباہ ہوتے اور معاشروں کی اجتماعی شناخت اس گروہ کی اقتدار پرستی اور خونریزی کی نذر ہو جاتی۔
داعش کی میڈیا سرگرمیوں کا جرم صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ گروہ بے رحم فریب کاروں اور پیشہ ور جھوٹوں کا مجموعہ تھا، جو لوگوں کے دینی جذبات اور نفسیاتی کمزوریوں سے ناجائز فائدہ اٹھاتا تھا۔ داعش کا میڈیا ایک طرف اندرونی طور پر اندھی اطاعت کی فضا قائم کرنے کے لیے استعمال ہوتا تھا اور دوسری طرف بیرونی دنیا میں عوامی رائے کو گمراہ کرنے کے لیے۔ ان حربوں کے ذریعے انہوں نے اسلام کو قتل، ظلم اور فریب کا آلہ بنا دیا اور ذہنوں کو اسیر بنا لیا۔
حقیقت یہ ہے کہ داعش نے میڈیا کے ذریعے رحمت اور عدل کے دین کو خوف، جرم اور تسلط کے ہتھیار میں بدل دیا۔ اس گروہ کی ہر تصویر، ہر ویڈیو اور ہر اشاعت آگاہی کے لیے نہیں، بلکہ وحشت پھیلانے، لوگوں کو گمراہ کرنے اور فکری انحراف کو فروغ دینے کے لیے تیار کی جاتی تھی۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ داعش محض ایک مسلح گروہ تھا، انہیں جان لینا چاہیے کہ یہ مصیبت اسلحے کے ساتھ ساتھ میڈیا کے ذریعے بھی جنگ لڑ رہی تھی اور لوگوں کے افکار و احساسات کو نشانہ بنا رہی تھی۔
داعش کے میڈیا طریقۂ کار کی درست پہچان اور اس کے پراپیگنڈہ حربوں پر سنجیدہ تنقید ایک دینی، اخلاقی اور سماجی ضرورت ہے۔ صرف شعور، تعلیم اور واضح تجزیے کے ذریعے ہی ایسی تباہیوں کے دہرائے جانے کو روکا جا سکتا ہے اور اذہان کو اس گروہ کے مجرمانہ اور گمراہ کن افکار سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ داعش اور اس جیسی تنظیموں کے خلاف جدوجہد محض عسکری نہیں، بلکہ فکری، میڈیا کے محاذ پر اور شعور پر مبنی مزاحمت بھی ناگزیر ہے۔




















































