Site icon المرصاد

افغانستان: غیوروں کا مسکن اور حملہ آوروں کا قبرستان!

مخلوقات کی فطرت ایسی بنائی گئی ہے کہ ہر انسان آزاد، خودمختار اور مستقل ہونا چاہتا ہے۔ یہ خصوصیت صرف انسانوں میں ہی نہیں بلکہ جانوروں میں بھی پائی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ اگر کوئی جانور کسی دوسرے کی زمین پر حملہ کرے تو دوسرا، خواہ کمزور ہی کیوں نہ ہو، سخت مزاحمت کرتا ہے۔ انسانوں میں بھی اکثر لوگوں میں یہ صفت موجود ہے۔ اسلام نے بھی اسی فطری تقاضے کی بنیاد پر حملے کے مقابل دفاع اور جہاد پر زور دیا ہے۔ جب اسلامی سرزمین پر حملہ ہو جائے تو تمام مسلمانوں پر فرض ہو جاتا ہے کہ وہ حملہ آور دشمن کے خلاف جنگ اور جہاد کریں۔

شیخ الاسلام، علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ اس جنگ کو ایمان کے بعد اہم ترین قرار دیتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں:

واما قتال الدفع فهو اشد انواع دفع الصائل عن الحرمة فواجب اجماعا فالعدو الصائل الذي یفسد الدین والدنیا لا شئ اوجب بعد الایمان من دفعه فلا یشترط له ای شرط۔
ترجمہ: دفاعی جنگ حملہ آور کو روکنے کی سب سے سخت اور مضبوط صورت ہے اور بالاتفاق واجب ہے۔ وہ دشمن جو دین اور دنیا دونوں کو تباہ کرتا ہو، ایمان کے بعد اس کو دفع کرنا سب سے زیادہ ضروری ہے اور اس کے لیے کوئی شرط لازم نہیں۔
(الفتاوی الکبریٰ، ج 4، ص 608)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے صحابہ نے احد، خندق، یرموک، تبوک اور دیگر معرکوں میں حملہ آوروں کے مقابل ایسی بہادری دکھائی جس کی انسانی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ مختصر یہ کہ حملے کے مقابل جنگ کرنا انسان کی فطرت میں شامل ہے، اسلام نے اس پر بہت زور دیا ہے، اور عصرِ حاضر کے مسلمانوں میں افغان وہ قوم ہے جس نے ہر حملہ آور کے دانت کھٹے کیے ہیں۔ نہ ہونے کے برابر وسائل اور محدود مادی امکانات کے باوجود انہوں نے بڑی بڑی سلطنتوں کو شکست دی اور اپنے دین اور وطن کی عزت کو اپنی بے مثال قربانیوں سے زندہ کیا۔

شیخ المجاہدین، شہید عبدالله عزام رحمہ اللہ افغانوں کے بارے میں فرماتے ہیں: مسلمان افغان قوم کی وہ مقدس سرزمین جو ان کے پاک خون سے سیراب ہوئی ہے، اب تک تقریباً دس لاکھ شہداء پیش کر چکی ہے اور آج بھی دنیا کی طاقتور ترین قوتوں کے مقابل سروں، خون، روحوں اور ٹکڑے ٹکڑے جسموں کی قربانیاں دے رہی ہے۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ یہ قوم اتنی قربانیاں دیتی ہے، کیونکہ یہ صفت اس کی جڑوں اور اصل میں موجود ہے۔ جیسے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ بیٹا اوصاف و صفات میں اپنے باپ کے مشابہ ہوتا ہے، چاہے وہ علم ہو، سخاوت ہو یا بہادری۔

یہ سرزمین ابو حنیفہ، بیہقی، بلخی، مروزی، ابن حبان البستی، ترمذی، نسائی، بخاری، قتیبہ بن مسلم، محمود غزنوی، فخر رازی، ابن تیمیہ، امان الحرمین جوینی، بیرونی، بدخشی، فارابی، ابن سینا، جرجانی اور ولید باجی کا وطن اور مسکن رہی ہے۔

افغان عوام کی یہ غیرت مندانہ خصوصیت نہ صرف معاصر علماء نے بیان کی ہے بلکہ تابعین سے بھی منقول ہے کہ خراسان اللہ کا کوڑا ہے، جب اللہ تعالیٰ کسی پر غضبناک ہوتا ہے تو ان کے ذریعے اس کو سزا دیتا ہے۔

عالمی طاغوتی قوتیں بھی اس بات کا اعتراف کرتی ہیں کہ افغانستان ہمارے لیے قبرستان ثابت ہوا ہے۔ جو بائڈن اور ٹرمپ بارہا اس حقیقت کا اعتراف کر چکے ہیں۔ عرب علماء کے نزدیک بھی افغانستان “مقبرة الکفار” کے نام سے مشہور ہے۔ افغانستان میں ایک صدی سے بھی کم عرصے میں تین بڑے انسان خور سانپوں کے سر کاٹے گئے اور ان کے لشکر خون میں نہلا دیے گئے۔

ان انسان خوروں میں سے ایک سوویت یونین تھا جس نے افغانستان پر قبضہ کیا۔ طویل مقابلوں اور جہاد کے بعد 15 فروری کو اسے ذلت آمیز اور شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا اور وہ پسپا ہونے پر مجبور ہوا۔ آج اسی مبارک دن کو گزرے 37 سال مکمل ہو رہے ہیں۔

Exit mobile version