دنیا میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جو شدت، اعتماد اور مسلسل حقیقت سے دور دعوے کرتے ہیں کہ بعد میں خود ان کے لیے بھی سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ مسلسل بے بنیاد باتوں کے باعث ان کا ضمیر رفتہ رفتہ مر جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ خود اپنی گھڑی ہوئی اور خود ساختہ کہانیوں کے اسیر بن جاتے ہیں۔ ایسے لوگ نہ صرف دوسروں کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ خود بھی جھوٹ کی دنیا میں قید ہو جاتے ہیں اور حقیقت کی روشنی سے محروم رہتے ہیں۔
اسی گروہ میں پاکستان اور اسٹیبلشمنٹ کے حکام بھی شامل ہیں جو اپنے مفادات کے لیے ہر حربہ استعمال کرتے ہیں اور پڑوسی ممالک پر الزامات لگانے کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ اپنی ناکامیوں کا الزام ہمیشہ افغانستان اور بھارت پر لگاتے ہیں اور ہر فورم اور اسٹیج پر افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کے حوالے سے غلط معلومات پھیلا کر دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
افغانستان پر ایسے الزامات کی حقیقت کیا ہے؟
گزشتہ روز اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک اجلاس میں ایک بار پھر یہ دعویٰ دہرایا گیا کہ گویا افغانستان میں ’’دہشت گرد‘‘ گروہ موجود ہیں جو دنیا اور خطے کے امن کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔ پاکستان کی جانب سے خاص طور پر داعش، تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ حریت پسندوں کا ذکر کیا گیا۔
داعش، تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ حریت پسندوں کا معاملہ نیا نہیں بلکہ یہ عرصہ دراز سے چلا آ رہا ہے، اور ایک ایسے مسئلے کے لیے جس کی عمر امارتِ اسلامی افغانستان کے قیام سے بھی زیادہ ہے، الزام تراشی یا موردِ الزام ٹھہرانا کسی طور مناسب نہیں۔ امارتِ اسلامی افغانستان کسی بھی ملک کے خلاف اپنی سرزمین کے استعمال کی اجازت کسی کو نہیں دیتی اور یہ بات عملی طور پر ثابت بھی کرچکی ہے۔
تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ حریت پسند اپنی ہی سرزمین پر موجود ہیں اور وہیں سے اپنی سرگرمیاں چلاتے ہیں۔ پاکستان کے کئی نامور سیاستدان بارہا پریس کانفرنسوں اور انٹرویوز میں کھلے عام کہہ چکے ہیں کہ خیبرپختونخوا کے کئی اضلاع جیسے وزیرستان، ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت، خیبر اور دیگر علاقے عملاً تحریک طالبان پاکستان کے قبضے میں ہیں اور وہاں متوازی حکومت قائم ہے۔
باجوڑ میں پاکستانی اداروں اور حکومت کی مرضی سے مقامی عمائدین کے ساتھ امن کے لیے جرگے منعقد کیے جاتے ہیں اور ان جرگوں کی ویڈیوز بھی جاری ہو چکی ہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ تحریک طالبان پاکستان اپنی ہی سرزمین پر موجود ہے اور وہیں سے اپنی سرگرمیوں اور کارروائیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔
اسی طرح بلوچ حریت پسند بھی وہیں موجود ہیں جنہوں نے حالیہ دنوں میں بلوچستان کے کئی بڑے شہروں اور قصبوں جیسے پنجگور، پنجگڑ، خاران، کیچ اور سوراب پر وقتی طور پر قبضہ کیا اور وہاں دو سے تین دن تک موجود رہے۔ اس کے علاوہ وہ ماہانہ کئی بار پاکستان اور بلوچستان کے درمیان شاہراہوں پر ناکے لگاتے ہیں، پاکستانی فوجیوں کی تلاشی لیتے ہیں، انہیں گاڑیوں سے اتارتے ہیں اور یرغمال بناتے ہیں۔
یہ سب اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ بلوچ حریت پسند اپنی ہی سرزمین پر موجود ہیں اور انہیں افغانستان کی زمین استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے علاوہ، اتنی بڑی تعداد میں سرحد پار کرنا بھی ممکن نہیں کیونکہ پاکستان حکومت کے اپنے دعوؤں کے مطابق انہوں نے اپنی سرحد محفوظ بنا رکھی ہے۔
داعش خراسان کہاں ہے؟
داعش کی ابتدا پاکستان کی سرزمین، خیبر ایجنسی میں ہوئی تھی، جسے بعد میں اپنے مفادات کے لیے افغانستان منتقل کیا گیا۔
امارتِ اسلامی کے دوبارہ قیام کے بعد ایسی بیرونی سوچ رکھنے والے گروہوں کے خلاف، جیسے داعش، اتنے مؤثر اقدامات کیے گئے ہیں کہ کوئی اور ان کا تصور بھی نہیں کر سکتا، دعویٰ کرنا تو دور کی بات ہے۔ انہی سخت اور مؤثر اقدامات کی بدولت افغانستان میں داعشی خوارج کی جڑیں ختم کر دی گئیں اور ان کے باقی ماندہ عناصر پڑوسی ملک بھاگ گئے، جو شروع ہی سے ان کا اصل ٹھکانہ اور مرکز تھا۔ وہاں پاکستانی خفیہ اداروں نے انہیں گلے لگایا اور بلوچستان میں ان کے لیے مراکز قائم کرکے دوبارہ انہیں مسلح اور فعال بنایا تاکہ اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر سکیں۔
پاکستانی خفیہ اداروں نے بڑے فریب کے ساتھ داعشی خوارج کے کچھ افراد کو گرفتار کیا، جن میں شریف اللہ عرف جعفر اور اوغوز التون شامل تھے، اور شریف اللہ کو بعد میں بھاری رقم کے عوض امریکہ کے حوالے کر دیا۔
اس سے آگے، چند ماہ قبل بلوچستان کے مستونگ علاقے میں داعشی خوارج کے مراکز پر حملے کیے گئے جن میں داعش کے متعدد ارکان ہلاک ہوئے۔ اب سوال یہ ہے کہ داعش کے مراکز اور اتنے زیادہ داعشی بلوچستان میں کیا کر رہے تھے؟ پھر داعش نے کھلم کھلا ایک ویڈیو میں اعلان کیا کہ وہ اس حملے کا بدلہ بلوچ حریت پسندوں سے لے گی۔
یہ تمام شواہد واضح کرتے ہیں کہ داعش کے مراکز پاکستان کے صوبے بلوچستان میں ہیں اور اس حوالے سے افغانستان پر الزامات لگانا حقیقت سے دور اور غلط فیصلہ ہے۔
یہ بھی یاد رہے کہ افغانستان میں متعدد داعشی خوارج گرفتار کیے گئے اور ان کے اعترافی بیانات بھی ’’المرصاد‘‘ سے نشر کیے گئے جن میں انہوں نے واضح کیا کہ انہیں بلوچستان کے مراکز سے نہ صرف افغانستان بلکہ خطے کے دیگر ممالک میں تخریبی کارروائیوں کے لیے بھیجا جاتا تھا۔
اقوامِ متحدہ کے ان الزامات کے پیچھے عوامل کیا ہیں؟
اقوامِ متحدہ جو امریکہ کے اثر و قوت کے تحت ہے، وہی کچھ کہتی ہے جس سے امریکہ خوش ہو۔ امریکہ کے پاس افغانستان میں شرمناک شکست کے بعد اب کچھ نہیں بچا سوائے اس کے کہ وہ افغانستان کی امارتِ اسلامی کے خلاف پروپیگنڈا کرے اور انہیں بدنام کرنے کی کوشش کرے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بار بار ان تکراری الزامات کو دہراتے ہیں تاکہ اپنی شکست کا غصہ نکال سکیں۔
امریکہ اور اقوامِ متحدہ اپنی پالیسیوں اور نظریات کے نفاذ کے لیے ایسی نشستوں اور رپورٹس کو دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ حالانکہ اگر دیکھا جائے تو کئی بار امریکی خفیہ اداروں اور آزاد اداروں نے افغانستان کی موجودہ حکومت کی داعش کے خلاف اقدامات کی تعریف کی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ امارتِ اسلامی افغانستان نے یہ اقدامات اپنی عوام کے تحفظ کے لیے کیے ہیں، نہ کہ کسی کی تعریف یا بیرونی مفاد کے لیے۔
ایک اور بات یہ ہے کہ اقوامِ متحدہ افغانستان کے بارے میں پاکستان کی رپورٹوں پر انحصار کرتی ہے، جو بغض اور ذاتی مخالفت سے بھری ہوتی ہیں۔ پاکستان ہر عالمی پلیٹ فارم پر افغانستان کو بدنام کرنے کے لیے بیانات دیتا ہے اور الزامات لگاتا ہے، لیکن اس کے برعکس افغانستان کو یہ موقع نہیں دیا گیا کہ وہ ان الزامات اور جھوٹ کا جواب دے سکے۔
ہونا کیا چاہیے؟
اگر اقوامِ متحدہ واقعی حقائق کی تلاش میں ہے تو افغانستان کے بارے میں متعصب ہمسایہ ممالک کی رپورٹوں اور جھوٹ کی بنیاد پر فیصلہ نہ کرے بلکہ براہِ راست امارتِ اسلامی سے رابطہ قائم کرے اور حقائق جاننے کی کوشش کرے۔ امارتِ اسلامی افغانستان کے حقیقی اور مؤثر اقدامات کا احترام کیا جانا چاہیے اور الزامات لگانے کے بجائے امارتِ اسلامی کا ساتھ دینا چاہیے تاکہ مسائل کے حل کے لیے ایک پائیدار راستہ نکل سکے۔

