قومیں تب عزت و وقار کی راہ پر زندہ رہتی ہیں جب ان کے نوجوان بیدار، باعزت اور دینی و قومی اقدار سے وابستہ ہوں۔ نوجوان نسل ہر قوم کا مستقبل ہوتی ہے۔ اگر افغان نوجوان مضبوط، دین دار اور بیدار مغز ہو جائے تو افغانستان سربلندی، انصاف اور ترقی کی راہ پر گامزن رہے گا۔
ہماری تاریخ بہادروں، علماء اور مجاہد رہنماؤں کے ناموں سے بھری پڑی ہے۔ احمد شاہ بابا کی تلوار کی فتوحات، میرویس نیکہ کی سیاسی بصیرت، علماء کے علم و قلم کی طاقت اور مجاہدین کی بندوق کی گونج، یہ سب اس قوم کی ناقابل تسخیر تاریخ کے روشن ابواب ہیں۔ افغان نوجوان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ ایسی قوم کا وارث ہے جس نے کبھی غلامی قبول نہیں کی۔
امت مسلمہ کی طاقت دینی تربیت اور نوجوانوں کی استقامت میں پنہاں ہے۔ وہ نوجوان جو اپنے رب کی بندگی پر ثابت قدم رہے، اپنے خاندان کی عزت و ناموس کی حفاظت کرے اور اپنے وطن کی خدمت کے لیے محنت کرے، وہ اللہ تعالیٰ کے دربار میں بلند مقام رکھتا ہے اور اپنے دین و قوم کے لیے فخر کا باعث بنتا ہے۔
ہمارے بزرگ قربانیوں کے استعارے ہیں۔ انہوں نے ایمان کی برکت سے بہادری کا بے مثال درس دیا۔ احمد شاہ بابا کا نام سربلندی، میرویس نیکہ کا نام آزادی، امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد کا نام بہادری اور شہید ملا اختر محمد منصور کا نام قربانی و استقامت کی یادگار ہے۔ نوجوان نسل کو چاہیے کہ وہ ان رہنماؤں کی تاریخ پڑھے، اس سے سبق لے اور اپنی زندگی ان کی قابلِ فخر داستانوں کی بنیاد پر استوار کرے۔
تاریخِ جہاد ہمارے لیے عزت و بیداری کا مینارہ ہے۔ وہ مجاہدین جنہوں نے اپنے وطن کی آزادی کے لیے خون دیا، وہ ہمارے مستقبل کے لیے فخر کے عَلم ہیں۔
ہمارا دین انصاف، عزت اور بھائی چارے کا دین ہے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے دین کے احکامات اچھی طرح سیکھیں، علماء کے دروس سے فائدہ اٹھائیں اور اسلامی اقدار کے سچے محافظ و خدمت گزار بنیں۔
آج کا افغان نوجوان فکری حملوں کے مقابلے میں پہلے مورچے پر کھڑا ہے۔ انٹرنیٹ، ثقافتی یلغار اور غیر ملکی پروپیگنڈوں کا سیلاب اس وقت بے اثر ہوتا ہے جب نوجوان اپنے دینی عقیدے پر مضبوطی سے قائم رہے، اپنے وطن کی عزت میں غفلت نہ کرے اور اپنے شہداء کے خون کی قدر پہچانے۔
ہر نوجوان کے کندھوں پر تین عظیم ذمہ داریاں ہیں:
۱۔ اللہ تعالیٰ کے حضور بندگی اور اس کے احکامات کی تعمیل،
۲۔ وطن کی خدمت
۳۔ عوام کے لیے خیر و انصاف۔
جو شخص یہ تین ذمہ داریاں ادا کرتا ہے، وہ اپنی قوم کا سچا ہیرو سمجھا جاتا ہے اور تاریخ کے صفحات میں فخر کا مقام پاتا ہے۔ علم کا حصول نوجوانوں کی طاقت کا سب سے بڑا ہتھیار ہے، لیکن یہ علم صرف مادی زندگی کے لیے نہیں ہونا چاہیے، بلکہ دینی بصیرت، قومی بیداری اور اخلاقی طاقت کی روشنی میں استعمال ہونا چاہیے۔ وہ نوجوان جو علم کو ایمان اور خدمت کے لیے استعمال کرتا ہے، وہ معاشرے کے مستقبل کے لیے مینارۂ نور ہوتا ہے۔
اے افغان نوجوان! تم ایمان کی مشعل، عزت کے محافظ اور مستقبل کے معمار ہو۔ احمد شاہ بابا کی بہادری، میرویس نیکہ کی بصیرت، امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد کی استقامت اور شہید ملا اختر محمد منصور کی قربانی کو مت بھولنا۔ اپنے شہداء کے خون کو قلب کی گہرائیوں میں بساؤ، اپنے دین کی اخلاص کے ساتھ پیروی کرو اور اپنے مذہب (حنفی مسلک) کی خدمت میں مضبوطی سے ڈٹ جاؤ۔ اللہ تعالیٰ کی مدد سے تم ہی وہ ہو جو اپنی قوم کے مستقبل کو عزت و سربلندی کی طرف لے جا سکتے ہو۔

