پاکستان اپنے سیاسی اور اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لیے اور غیروں کو خوش کرنے کے لیے، ظلم کا وہ منصوبہ جاری رکھے ہوئے ہے جو بیرونی اشاروں اور دباؤ کے نتیجے میں بنایاگیا ہے۔ اسی سیاست کے تسلسل میں، وہ بے گناہ افغان شہریوں پر بمباریاں کررہا ہے، جس کے نتیجے میں خواتین، مرد اور بچوں کو قتل کرنے سے نہیں ہچکچا رہا۔
یہ اقدامات نہ صرف ایک قوم پر ظلم قرار دیے جاتے ہیں بلکہ یہ پوری انسانیت اور انسانی اقدار کی کھلی خلاف ورزی بھی ہیں۔ تازہ مثال کل رات کابل میں نشے کے عادی افراد کے ایک اسپتال پر حملہ ہے، جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد شہید اور کئی دیگر زخمی ہوگئے۔ نشہ کے عادی افراد معاشرے کے مظلوم اور بے بس طبقے ہے، جنہیں امارتِ اسلامیہ نے اپنی شفقت و ذمہ داری سمجھتے ہوئے اسپتالوں میں جمع کیا اور ان کے علاج معالجے کا بندوبست کیا، تاکہ انہیں ہلاکت اور بربادی سے بچایا جا سکے اور ایک صحت مند زندگی کی طرف نئے سفر کا آغاز کیا جا سکے۔
لیکن بدقسمتی سے، پاکستانی رجیم نہ صرف بے گناہ افغان شہریوں کو نشانہ بنارہی ہے، بلکہ ان کمزور اور نہتے افراد کو بھی اپنے حملوں کا ہدف بنارہی ہے اور اپنے اس ظالمانہ اور غیر انسانی رویے کو ’’دہشتگردوں کے خلاف جنگ‘‘ کے عنوان سے جواز دیتی ہے۔
افغانوں کے خلاف پاکستان کے جاری مظالم؛ اسلامی نقطۂ نظر سے:
دنیا پاکستان کو ایک اسلامی ملک سمجھتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان صرف نام کی مسلمان ریاست ہے؛ اس کا نظام اور قانون اسلام سے بیگانہ ہے، اور مسلمانوں کے خلاف اس کی بیشتر کارروائیاں امریکہ کی خواہشات کے مطابق انجام دی جاتی ہیں۔ اگر کوئی غیر مسلم ملک مسلمانوں کے خلاف اس طرح کا ظالمانہ رویہ اختیار کرے تو اسے ان کی تاریخی دشمنی پر محمول کیا جا سکتا ہے؛ لیکن جب ایک مسلمان ہمسایہ ملک ایسا طرزِ عمل اپناتا ہے تو یہ معاملہ کہیں زیادہ دردناک اور افسوسناک ہو جاتا ہے، کیونکہ یہ اسلامی اخوت، ہمسائیگی اور انسانی اقدار کے سراسر خلاف اور ناقابلِ معافی عمل ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
ترجمہ: جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے، اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، اس پر اللہ کا غضب اور لعنت ہے، اور اللہ نے اس کے لیے بہت بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ (النساء: ۹۳)
اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
ترجمہ: جس نے کسی ایک انسان کو بغیر کسی حق اور بغیر کسی جرم کے قتل کیا، تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا۔ (المائدہ: ۳۲)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیه وسلم نے فرمایا:
’’جو مسلمان کلمۂ شہادت پڑھتا ہو، اس کا قتل جائز نہیں، سوائے تین صورتوں کے:
۱۔ جب وہ کسی کو قتل کرے۔
۲۔ جب وہ شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کرے۔
۳۔ جب وہ اپنے دین سے مرتد ہو کر مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہو جائے۔‘‘ (بخاری و مسلم)
اسی طرح رسول اللہ صلی الله علیه وسلم نے فرمایا: مسلمان کو قتل کرنا کفر ہے۔ (رواہ مسلم)
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مؤمن کا قاتل اُس وقت کافر ہوتا ہے جب وہ مؤمن کے قتل کو اپنے لیے جائز سمجھ لے۔ (شرح مسلم للنووي)
یہ بات قابلِ غور ہے کہ عام بے گناہ افغان شہریوں نے نہ تو پاکستانی فوجیوں کو قتل کیا ہے کہ ان سے بدلہ لیا جائے، نہ وہ کسی اخلاقی جرم کے مرتکب ہیں، اور نہ ہی وہ اسلام سے پھرے ہیں۔ لہٰذا یہ ایک حیران کن امر ہے کہ مذکورہ شرعی نصوص کی موجودگی میں پاکستان بے گناہ افغانوں کے قتل کو کس بنیاد پر جائز قرار دیتا ہے، اور وہاں کے علماء و مفتیان اس عمل کے لیے کس قسم کا جواز پیش کرتے ہیں؟
مظلوم افغانوں کے لیے خوشخبری یہ ہے کہ پاکستان زوال کی طرف بڑھ رہا ہے۔ جیسا کہ قاضی شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ظالم سزا کا انتظار کرتا ہے اور مظلوم فتح اور اجر کا منتظر ہوتا ہے۔‘‘ (حلية الأولياء ١٣٢/٤)
یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ جو ریاست ظلم کا راستہ اختیار کرتی ہے، وہ جلد یا بدیر مختلف مشکلات اور ناکامیوں کا شکار ہو کر ذلت کے ساتھ زوال پذیر ہو جاتی ہے، خواہ وہ بظاہر وسائل اور مادی ترقی سے مالا مال ہی کیوں نہ ہو۔
اگرچہ پاکستان نے اپنے لیے اسلامی ریاست کا نام اختیار کیا ہے، لیکن اگر وہ اپنی ظالمانہ پالیسیوں پر قائم رہا تو یہ یقینی ہے کہ وہ اپنا اقتدار کھو دے گا۔ جیسا کہ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’اللہ تعالیٰ عادل ریاست کی مدد کرتا ہے، چاہے وہ کافر ہی کیوں نہ ہو، اور ظالم ریاست کی مدد نہیں کرتا، چاہے وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ (مجموع الفتاوی ٦٢/٢٨)
الحمدللہ! افغان حکومت بھی مسلمان ہے اور اس نے عمومی طور پر ایک محتاط اور منضبط طرزِ عمل اختیار کیا ہے کہ جب تک اس پر تجاوز نہ کیا جائے، کسی کے لیے خطرہ نہیں بنے گی؛ اور جب اس پر حملہ کیا جائے تو صرف حملہ آور کو جواب دیتی ہے، اور دیگر مسلمانوں کے جان و مال کا لحاظ رکھتی ہے۔ اس کے برعکس پاکستان رجیم عام شہری اور جنگجو میں فرق کیے بغیر کارروائیاں کرتا ہے۔ یہ طرزِ عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان بیرونی دباؤ کے تحت افغان عوام کو سکون سے جینے نہیں دینا چاہتا، بلکہ مختلف طریقوں سے مشکلات پیدا کر کے نظام کی پیش رفت میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کررہا ہے۔

