داعش کے مالی وسائل اور معاشی نظام
داعش، اکیسویں صدی کی ایک پیچیدہ اور تباہ کن شدت پسند تنظیم کے طور پر، صرف ہتھیاروں کے ذریعے ہی نہیں بلکہ ایک خطرناک معاشی نظام کے ذریعے بھی زندہ رہی۔ اس گروہ نے روایتی اور جدید طریقوں کو ملا کر دنیا کی ایک امیر ترین شدت پسند تنظیم بننے میں کامیابی حاصل کی۔
داعشی خوارج کی بڑی آمدنی تیل کی فروخت، بینکوں کی لوٹ مار، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور قدیم نوادرات کی اسمگلنگ سے حاصل ہوتی تھی۔ لیکن یہ دولت عوام کی فلاح و بہبود کے بجائے، دہشت اور تشدد کے پھیلاؤ پر خرچ کی جاتی تھی۔ عراق اور شام میں تیل کے ذخائر پر قبضے کے ذریعے، داعش روزانہ لاکھوں ڈالر کماتی تھی، لیکن یہ دولت ترقی یا عوامی سہولیات پر نہیں بلکہ ہتھیاروں کی خریداری اور اُن غیر ملکی جنگجوؤں کی تنخواہوں پر خرچ کی جاتی تھی، جو جھوٹے وعدوں کے فریب میں آ کر اس تنظیم کے دام میں پھنسے اور قتل و غارت کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہ پاتے تھے۔
عصرِ حاضر کے خوارج کے معاشی نظام کی ایک نمایاں خصوصیت اس گروہ کا دوہرا مالی ڈھانچہ تھا۔ ایک طرف یہ گروہ ایک ریاست کی طرح عمل کرتا اور زیرِ قبضہ علاقوں کے عوام سے ٹیکس اور محصولات وصول کرتا، جبکہ دوسری طرف ایک مافیائی نیٹ ورک کی طرح تیل کی اسمگلنگ، خواتین و بچوں کی خرید و فروخت، اور یہاں تک کہ مقتولین کی لاشوں کے سودے میں بھی ملوث تھا۔
شدت پسند داعشیوں نے ایک غیر رسمی مالی نظام قائم کر کے لوٹی ہوئی رقوم کو بلیک مارکیٹ اور غیر قانونی بینکاری نیٹ ورکس کے ذریعے صاف کیا اور انہیں بین الاقوامی اکاؤنٹس میں منتقل کرتا رہا۔ اس گروہ نے اپنی نام نہاد ’’ریاستی حیثیت‘‘ کو مضبوط کرنے کے لیے کرنسی اور جعلی پاسپورٹس تک چھاپنا شروع کیے۔ لیکن حقیقت میں یہ تمام سرگرمیاں صرف تماشہ تھیں، جو طاقت کے ایک عارضی فریب پر مبنی تھیں؛ ایک ایسی طاقت جو زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔
یہ کہنا بجا ہوگا کہ داعشی خوارج کی معیشت کا سب سے بھیانک پہلو، جس کے سر پر نام نہاد اسلامی خلافت کا بھوت سوار تھا، انسانوں کی خرید و فروخت تھی۔
اس بدبخت گروہ نے ہزاروں خواتین اور بچوں کو مذہبی اقلیتوں، خصوصاً ایزدیوں میں سے غلام بنا کر بازاروں میں اونچی قیمتوں پر بیچا۔ حتیٰ کہ متاثرین کے جسمانی اعضا کو بھی منافع بخش سامان سمجھ کر اس کی تجارت کی جاتی تھی۔ یہ منظم جرائم نہ صرف داعش کے وحشیانہ پن کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ یہ بھی ثابت کرتے ہیں کہ یہ دہشت گرد گروہ انسانیت کے بنیادی اصولوں سے بھی ناواقف ہے۔
یہ قبیح افعال اور رویے ان لوگوں سے بالکل بعید ہیں جو اسلامی خلافت اور عدل کے قیام کا دعویٰ کرتے ہیں۔ بلکہ یہ موجودہ دور کے خوارج کے رویے واضح طور پر ثابت کرتے ہیں کہ یہ لوگ خلافت اور انصاف کے قیام کے لیے نہیں، بلکہ اسلام کے مقدس نام کو اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرتے ہیں، اور یوں دنیا کی نظروں میں اسلام کو ایک وحشی، تباہ کن، قاتل اور لٹیرے دین و مذہب کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
داعشی خوارج نے ’’اسلامی معیشت‘‘ قائم کرنے کے تمام دعوؤں کے باوجود، دراصل ایک لوٹ مار کرنے والی مشین کا کردار ادا کیا، جو نہ کوئی پیداوار دیتی تھی اور نہ کوئی خدمت۔ ان کے زیرِ قبضہ علاقوں کا بنیادی ڈھانچہ تیزی سے تباہ ہوا اور عوام بنیادی سہولیات جیسے پانی، بجلی اور ادویات کی شدید قلت کا شکار ہوگئے۔
آخرکار یہ کہا جا سکتا ہے کہ داعش کا معاشی نظام بھی، اس کی انتہاپسندانہ سوچ کی طرح، خوف اور تباہی کی بنیاد پر قائم تھا اور اسی لیے اس کا زوال یقینی تھا۔ آج اگرچہ داعش اپنی زیادہ تر علاقوں سے محروم ہوچکی ہے، لیکن اس کے چھوڑے گئے معاشی زخم ابھی تک نہیں بھرے۔

