Site icon المرصاد

جنگ کے خواہاں اپنی زندگی کی بدترین پشیمانی کا سامنا کریں گے!

امارتِ اسلامیہ افغانستان کی انٹیلی جنس ایجنسی کے معاون اول (ملا تاج میر جواد) کا نیا ریکارڈ شدہ پیغام، جو مدرسہ مصباح العلوم کے فارغ التحصیل طلبہ کے سالانہ پروگرام کے موقع پر جاری کیا گیا ہے، نہایت گہرے علمی، سیاسی، تاریخی، حساس، اسٹریٹجک اور سماجی پہلوؤں کا حامل ہے۔ اس میں کئی پوشیدہ اور نمایاں پیغامات بھی مضمر ہیں۔ اس تحریر میں مذکورہ پیغام کے چند اہم پہلوؤں کا مختصر جائزہ ذیل میں پیش کیا جاتا ہے:

۱: پیغام کا اسلوب اور زبان
پیغام کی زبان اور اسلوب خالص شرعی طرز پر استوار ہے۔ اس کا آغاز بسم اللہ، حمد و ثنا اور درود سے ہوتا ہے، ترتیب میں پہلے دین، پھر تاریخ، اس کے بعد سیاست اور پھر سلامتی کے امور آتے ہیں، جبکہ اختتام دعا پر ہوتا ہے۔ یہ اسلوب دینی علماء، اہلِ علم اور مسلمانوں میں خاص طور پر مقبول ہے۔
اس کے الفاظ اور جملے نرم ہیں، مگر لہجہ مضبوط اور فیصلہ کن ہے۔ الفاظ میں نرمی، مگر معنی میں قطعیت پائی جاتی ہے؛ نہ جذباتی نعروں کا سہارا ہے اور نہ کھلی دھمکی، بلکہ ایک سوچا سمجھا اسلوب اور نپے تلے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔

۲: علمی اور فکری پہلو
یہ پیغام اس حقیقت کے گرد گھومتا ہے کہ مدرسہ اور اسلامی نظام کے درمیان ایک نہایت مضبوط اور بنیادی تعلق موجود ہے۔ مدرسہ محض تعلیم و تعلم کا مرکز نہیں، بلکہ اسلامی نظام کی فکری، عقیدتی اور انسانی بنیاد فراہم کرتا ہے؛ یہ عقیدے کے تسلسل، نظام اور جدوجہد کے جواز، اور سیاسی و سلامتی کے استحکام کا ستون ہے۔
اسی طرح اس پیغام میں دینی اور عصری علوم کے درمیان توازن کو بھی واضح کیا گیا ہے۔ علمی اعتبار سے اس کا اہم نکتہ یہ ہے کہ:
دینی علوم اسلامی عقیدے اور شناخت کی حفاظت کرتے ہیں، جبکہ عصری علوم ملک کی خوشحالی اور ترقی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ یہ توازن اور تقسیم ماوراءالنہر کے فکری مکتب اور دیوبند کے روایتی فہم کے عین مطابق ہے، جہاں دینی علوم کو اصل بنیاد اور دنیاوی علوم کو ایک وسیلہ سمجھا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ یہ پیغام اُن اعتراضات کا بھی مدلل جواب ہے جن میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اسلامی نظام عصری علوم پر توجہ نہیں دیتا۔

۳: تاریخی پہلو
اگر اس پیغام کو تاریخی زاویے سے دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ افغانستان ہمیشہ علوم کا ایک بڑا مرکز رہا ہے۔ یہ پیغام موجودہ افغانستان کو ماضی کے ماوراءالنہر اور دیوبند کے علمی تسلسل میں شامل کرتا ہے، اور یہ تاریخی تسلسل تین واضح پیغامات پر مشتمل ہے:
۱۔ موجودہ نظام کسی اچانک یا اتفاقی عمل کا نتیجہ نہیں۔
۲۔ یہ صدیوں پر محیط ایک علمی روایت کا تسلسل ہے۔
۳۔ استعمار کے خلاف جدوجہد اسی روایت کی عملی شکل ہے۔
اسی طرح دینی مدرسے کو نہ صرف علم کا مرکز قرار دیا گیا ہے، بلکہ تاریخی اعتبار سے اسے استعمار اور فساد کے خلاف جہاد اور مزاحمت کا سرچشمہ بھی بتایا گیا ہے۔ دینی علماء کو ان جہادوں اور تحریکوں کی قیادت کا حامل، جبکہ طلبہ کو میدانِ عمل کی قوت قرار دیا گیا ہے۔ یہ تجزیہ افغانستان کی معاصر تاریخ میں انگریزوں، سوویت یونین، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف کی جانے والی جدوجہد کے بیانیے سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔

۴: سیاسی پہلو
یہ پیغام نہایت نرم، مگر واضح انداز میں ظاہر کرتا ہے کہ ’’موجودہ شرعی نظام مدارس کی قربانیوں کا ثمر ہے۔‘‘ یہ ایک جملہ بیک وقت تین اہم سیاسی کردار ادا کرتا ہے:
۱۔ نظام کو شرعی جواز عطا کرتا ہے۔
۲۔ علماء کی حمایت کو بنیادی ستون قرار دیتا ہے۔
۳۔ ہر قسم کی مخالفت کو انہی تاریخی قربانیوں کی مخالفت قراردیتا ہے۔
اسی طرح علماء کے فیصلوں کی پابندی کو اپنے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی لازم قرار دیا گیا ہے۔ یہ جملہ کہ ’’ہم ان فیصلوں کے پابند ہیں‘‘ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے اور ایک گہرا سیاسی پیغام اپنے اندر سموئے ہوئے ہے، اور وہ یہ کہ:
فیصلہ سازی کا اصل اختیار علمائے کرام کے پاس ہونا چاہیے، جبکہ نفاذ کی ذمہ داری نظام اور سلامتی کے اداروں پر عائد ہوتی ہے۔
یہی اسلامی سیاست کا بنیادی ماڈل ہے کہ:
(العلماء یشرّعون، والأمراء ینفّذون)

۵: زمانی تناظر (Contextual Analysis)
یہ پیغام ایک نہایت حساس زمانی مرحلے میں جاری کیا گیا ہے، جب ایک طرف امارتِ اسلامیہ پر بین الاقوامی دباؤ موجود ہے، دوسری طرف حکومتی جواز پر بحث جاری ہے، اور ساتھ ہی ایک قسم کا معاشی اور سیاسی محاصرہ بھی درپیش ہے۔
درحقیقت یہ پیغام درج ذیل تین بنیادی اہداف کے لیے ترتیب دیا گیا ہے:
۱۔ داخلی حوصلے اور مورال کو بلند کرنا۔
۲۔ علمی طبقے کو اطمینان اور تسکین فراہم کرنا۔
۳۔ بیرونی دباؤ کے مقابلے میں داخلی استحکام کو مضبوط بنانا۔
۴۔ انٹیلی جنس اور سلامتی کے پہلو
اگر اس پیغام کو انٹیلی جنس زاویے سے دیکھا جائے تو اس کا یہ حصہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، جہاں سلامتی کے اصل سرچشمے کے طور پر مدارس، علماء اور مجاہد نسل کو متعارف کرایا گیا ہے، نہ کہ کسی بیرونی قوت یا امدادی عنصر کو۔ استخباراتی اعتبار سے اس کا مفہوم یہ ہے کہ سلامتی کی پیداواری بنیاد داخلی ہے، درآمدی نہیں۔
۵۔ جنگ کا مشروط اعلان
پیغام کا یہ پیراگراف کہ:
’’ہم اسلامی شریعت کی ہدایات اور اپنے ملک کے مفادات کی روشنی میں علاقائی امن و استحکام کے پابند ہیں۔ ہم جنگ نہیں چاہتے، لیکن اگر جنگ ہم پر مسلط کی گئی تو اپنے اسلامی شرعی نظام اور اسلامی سرزمین کے دفاع میں ایسی قربانیوں کا مظاہرہ کریں گے کہ تمام لوگوں کے اندازے غلط ثابت ہوں گے، اور جنگ کے خواہش مند اپنی زندگی کی سب سے سخت ندامت اور پشیمانی سے دوچار ہوں گے۔‘‘

نہایت گہرے اسٹریٹجک پہلو، بھاری بھرکم پیغامات، نئے اور غیر متوقع امکانات، اور مضبوط استخباراتی وزن رکھتا ہے۔ یہ اسٹریٹجک ڈیٹرنس کی زبان ہے، جو ایک طرف جنگ کی نفی کرتی ہے، مگر دوسری طرف مکمل تیاری اور دشمن کے حساب کتاب کو درہم برہم کرنے کا اعلان بھی ہے۔

۶۔ ضمنی اور پوشیدہ اشارے (Implicit Messages)
اگرچہ پیغام میں کسی خاص فریق یا طاقت کا نام نہیں لیا گیا، لیکن اشارہ بالکل واضح ہے کہ بعض حلقے اور قوتیں ’’مختلف بہانوں‘‘، ’’عدل و امن کو برداشت نہ کرنے‘‘ اور ’’مسائل پیدا کرنے‘‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، اور یہ سب امریکہ، اس کے اتحادیوں اور عالمی دباؤ کے دائرے میں آتا ہے۔ تاہم پیغام سب کے لیے صاف ہے کہ افغانستان اب دباؤ کی زبان قبول نہیں کرتا، اور یہ جملہ کہ ’’تمام موجودہ اندازے غلط ثابت ہو جائیں گے‘‘ اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ بعض حلقوں کے انٹیلی جنس اور خیالی تجزیے سراسر غلط ہیں۔

عمومی تجزیہ / نتیجہ:
مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ پیغام محض ایک رسمی مبارک باد نہیں، بلکہ ایک جامع سیاسی، فکری اور استخباراتی بیانیہ ہے۔ اس میں دینی مدارس، اسلامی نظام اور اس کے استحکام کے درمیان تعلق، افغانستان کے معاصر سیاسی و سلامتی کے بیانیے کا تجزیہ، اور تاریخ کے مختلف ادوار میں افغانستان کے اسلام، سیاست اور جہاد کے ساتھ گہرا ربط پیش کیا گیا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ دینی مدارس کی اس ذمہ داری کو بھی واضح کیا گیا ہے کہ وہ صرف علمی تربیت کے مراکز ہی نہ ہوں، بلکہ فساد اور استعمار کے خلاف جدوجہد، جہاد، سماجی نظم، فکری طور پر اجتماعی بیداری ور امن و سلامتی کے اہم سرچشمے بھی بنیں۔
مزید برآں، اس پیغام میں افغانستان اور افغان قوم کے اس مضبوط تعلق کو اجاگر کیا گیا ہے جو ان کا دینِ اسلام کے ساتھ، ملک کی آزادی کے حصول، اس کے تحفظ اور دفاع کے ساتھ، اور علمی طبقے کے نظام اور تبدیلی کے عمل سے جڑا ہوا ہے۔ یوں اس تاریخی تسلسل کی ایک معاصر علمی تعبیر پیش کی گئی ہے، اور مختلف علمی، تاریخی، سیاسی، انٹیلی جنس اور بین الاقوامی زاویوں سے ایسا تجزیہ پیش کیا گیا ہے جو اسلامی نظام، دینی مدارس، علماء، عوام اور سلامتی کے باہمی تعلق کو ازسرِنو متعین کرتا ہے۔

Exit mobile version