پاکستان کے ایک مشہور ادارے میں اس وقت ایک اجتماع چل رہا ہے، جس کا عنوان ہے فضلاء اجتماع، یہ ادارہ دینی نسبت کا دعوی بھی رکھتا ہے اور اپنے فضلاء کی تعداد میں بھی کافی اونچی باتیں کرتا ہےـ ادارے کے صاحبوں کا کہنا ہے کہ ان کی طرف سے یہ منفرد عمل ہے کہ ہر سال اپنے فضلاء کو جمع کرکے ان کے اتنظام وانصرام سے متعلق انہیں ہدایات دی جاتی ہیں ـ ان کے دینی تشخص، علمی وقار اور عملی جد وجہد کے بارے میں انہیں سنا بھی جاتا ہے اور انہیں سنایا بھی جاتا ہےـ ویسے تو ہر سال اجتماع میں دیگر دینی اداروں کے بہ نسبت کچھ منفرد ہی ملتا ہے لیکن اس سال کچھ زیادہ ہی ہلچل نظر آتی ہےـ اس سال دینی اور علمی تشخصات پر فوکس کم اور بیرونی سیاست یا بہ الفاظ دیگر دوسروں کے معاملہ میں ٹانگ اڑانے کی حرکت زیادہ نظر آتی ہےـ علماء کی بجائے عسکری ونگ، سیاسی شخصیات اور دینی.نسبت کے وہ لوگ اجتماع کے زیادہ مہمان بنے ہیں جن پر ایجنسی، اسٹبلشمنٹ اور اس طرح کے لیبل صبح شام لگے رہتے ہیں اور ان کی تقریر وتحریر بھی انہیں خفیہ اداروں کی ستائش سے بھری رہتی ہیںـ
یہاں ایک نکتہ ذکر کرنا نہایت اہم ہے کہ یہ ادارہ جو جامعة الرشيد کے نام سے موسوم ہے اور اس کا بانی مفتی رشید احمد صاحب مرحوم ہےـ اس وقت اس کا چلانے والا مفتی عبدالرحیم نامی ایک شخص ہےـ جس کے اہتمام بارے بھی گلہائے رنگارنگ کی طرح قصے کہانیاں مشہور ہیں ـ کراچی کی مشہور دینی شخصیت مفتی احمد ممتاز صاحب کی روایت تو زبان زد عام وخاص ہےـ پھر خود اسی ادارے کے بعض شنآور یہ الزام بھی لگاتے ہیں کہ قندہار میں سینما کی جگہ جب مسجد عمر بننے کی داغ بیل ڈالی گئی تو مفتی عبدالرحیم نے اس کے لئے چندے کے اشتہارات دے کر خوب بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے اور جب جی بھر کر عالم اسلام کے باسیوں نے چندہ بھیجا تو اس سے جناب نے جامعہ کے نام پر عساکر و عساکر پوش لوگوں کی خدمت کے لئے یہ ادارہ بنایاـ اس ادارہ سے سابق میں وابستہ کچھ لوگ جامعہ سے اپنی قطع تعلقی کی یہ وجہ بھی بتاتے ہیں کہ ادارہ کے بانی کی ایک ایک ہدایت سے بالکلیہ انحراف اور وہ بھی ادارے کے مہتمم کی طرف سے ان کے لئے ناقابلِ برداشت تھاـ اسی لئے انہوں نے اس سے بہتر الوداع کو ہی سمجھاـ
بہر حال ان ساری باتوں سے قطع نظر اہم بات جو ذکر کرنے کی ہے وہ یہ کہ اس ادارے نے تین سال قبل پاکستان کی مشہور امتحانی بورڈ وفاق المدارس سے علیحدگی اختیار اور "مجمع” کے نام سے اپنی بورڈ وقت کے طاقتور حلقوں سے تسلیم کروالی ـ اس وقت جب ان سے پوچھا جاتا تھا کہ بھائی وفاق کے شیرازہ کو بکھیرنے کی بھلا کیا ضرورت پڑی؟ تو ان صاحبوں کی طرف سے دو دلیلیں دی جاتی تھیں ـ ایک یہ ہم عصری تعلیم کو شامل کرنا چاہتے تھے اور وفاق ایسا کرنے پر اتفاق نہیں کرتی تھی ـ دوسری اور سب سے بڑی دلیل جو ادارے کے ڈیجیٹل میڈیا پر کسی ورد کی طرح صبح شام الاپی جاتی تھی وہ یہ کہ وفاق اپنے اصولوں سے ہٹ گئی ہےـ کیونکہ وفاق کے اصول میں یہ بات درج ہے کہ وفاق کسی سیاسی جماعت کے زیرسرپرستی رہے گی اور نہ ہی کسی قسم کے سیاسی ایجنڈے کا حصہ بنے گی! جبکہ واقعی صورتحال یہ ہے کہ وفاق مکمل طور پر ایک دینی سیاسی جماعت جمعیت علماء اسلام اور بالخصوص مولنا فضل الرحمان صاحب کے زیر سایہ چل رہی ہےـ ادارے کی انہیں دو دلیلوں کی روشنی میں آج میں اجتماع دیکھ رہا تھا تو ایک عجیب سا احساس ہورہا تھا کہ اس ادارے نے کس طرح اپنی دلیل کی دھجیاں اڑائی ہےـ کیسے برملا اپنے اصول کو پامال نہیں، پاوں تلے یا فوجی بوٹ تلے روند ڈال رہے ہیں ـ اعتراض یہ تھا کہ جی وفاق سیاست کے تحت اثر ہے اور خود حالت یہ ہے کہ دینی علوم کے فضلاء کے سامنے سندھ کے وزیر اعلی، ڈی جی آئی ایس پی آر اور وہ وہ شخصیات بیٹھائی گئی ہیں جو سیاست کے پاپ ہیں ـ پھر اپنے ہی دینی فضلاء کو اسی دینی ادارے میں سیاست کی اعلی اور سب سے بلند چوٹی مطلب فارن پالیسی سے آگاہی دی جارہی ہےـ بندہ سوچتا ہے کہ لوگ کم از کم اپنی ہی بات پر کچھ غیرت کرلیتے ہیں مگر اپنی دلیل کو حرز جان سمجھتے ہیں ـ یہ کیسے لوگ ہیں جو خدا سے تو شرمائے نہ شرمائے بندوں کے سامنے بھی ڈیٹھ بنے ہوئے ہیں کہ عزت آنے جانے کی چیز ہےـ
اسی اجتماع میں ایک فاضل انٹرویو کے دوران بڑے فاخرانہ سے جتانے کی کوشش میں بتارہے ہیں کہ میں نے ڈی جی آئی ایس پی آر سے سوال کیا کہ پاکستان میں ستر سالوں سے اسلامی نظام نافذ کیوں نہیں ہوا؟ خود فاجل محترم کا کہنا ہے کہ انہوں نے مجھے جواب میں کہا کہ کس اسلام کی بات کرتے ہو؟ یہ جو پڑوس میں نافذ ہے؟ اگر یہی اسلام مراد ہے یہ تو ڈھائی سو سال بعد بھی نافز نہیں ہوگاـ اس فاجل محترم نے اور کیا باتیں کی ہیں؟ یہ سردست پردہ خفاء میں ہیں ـ مگر جو کھل کر بتائی ہے اس پر میرے ذہن میں یہ آیا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کے جواب پر کم از کم اہالیانِ ادارہ اور فضلاء کو ڈوب مرنا چاہیے تھاـ کیوں بھائی؟ یہ تو عزت کا سوال ہےـ یہ پڑوس کا تو وہی نظام ہے جس کے لئے اسی جامعہ نے دو عشروں سے زیادہ ضرب مؤمن اور اسلام اخبار کے ذریعہ بقول ان کے جنگیں لڑی ہیں اور آج تک وہ اپنے کئے پر شرمندہ نہیں ہیں ـ پھر اسی پر بس نہیں مختلف کتابیں لکھ اسی نظام کے رکھوالوں کو امام مہدی علیہ السلام کا لشکر ثابت کرنے تن من دھن اور ایڑی چوٹی کا زور لگایاـ پھر جب اسی نظام کے سرشاروں کو فتح ملی تو اسی ادارے کے ڈیجیٹل میڈیا نے ان کے لئے "شہزادوں” جیسی مؤقر اصطلاح ایجاد کی ـ پھر تین سال تک یہ نظام سو فیصد سچا اسلامی نظام تھا اور اسلامیت کے ڈنکے اسی ادارے کے میڈیا سے بجتے تھےـ اب اتنی ساری محنت کے بعد کوئی اٹھ کر انہیں منہ پر کہے کہ تم جس چیز کی تعریف میں آسمان اور زمین کے قلابے ملارہے تھے وہ ڈھائی سو سال بعد بھی نافذ نہیں ہوگا یہ تو پھر منہ پر تھوکنے والی بات ہوگئی ناں جی!
یہاں ایک اور عجوبہ بھی قارئین کی نظروں سے اوجھل نہ رہے کہ جس فاجل محترم نے کندھے اچکائے اور اتراتے انداز میں اپنے بوس کی بات نقل کی مجھے اس پر بھی بڑی حیرت ہوئی ـ حیرت اس لئے کہ اس نے ستر سال میں اسلامی نظام نافذ نہ ہونے کی وجہ پوچھی تو اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ اس فاجل محترم کے ذہن میں پاکستان کا موجود نظام اسلامی نہیں اور یہ بات ہر پاکستانی کو معلوم ہے اور فاجل محترم نے گویا ہر پاکستانی کی امنگوں کے مطابق بات پوچھی ہےـ تو جب بوس نے اڑوس پڑوس میں بات الجھائی اور جھوٹے غرور کا سہارا لیا اس پر تو بنتا یہ تھا کہ فاجل محترم اپنے ہی سوال کی تکذیب کرتے کہ جی ہم تو سو فیصد اسلامی نظام میں جی رہے ہیں اور یہ میں نے لوگوں کی بات ویسے ہی نقل کی ہےـ اور اس نے ایسا نہ کیا اور کر بھی نہیں سکتا تھا کہ واقع اور حقیقت میں تو پاکستان میں کوئی اسلامی نظام نہیں ہے اور جو کچھ اسلام کے نام پر چل رہے ہیں وہ بھی ڈھکوسلے ہی ہیں ـ اور اسی لئے تو ہر دوسرا بندہ یہی سوال کرتا ہے کہ اسلامی نظام کیوں نافذ نہیں ہورہاـ تو پھر ضروری تھا کہ فاجل محترم اس سے مزید پوچھتا کہ چلئے جی پڑوس کا نہ سہی کوئی اور اوریجنل اسلامی نظام ہی نافذ کرےـ یا پھر ہمیں اصل اسلامی نظام کے بارے اطلاع دیجئے کہ وہ ہوتا کیسے ہے؟
یہ سوال یا بحث ومباحثہ اس لئے بھی ضروری تھا کہ پڑوس میں جو نظام ہے اس کے بارے میں ایسی بات جس طرح اس ادارے کے بوس نے کی ہے بہت ہی خطرناک بات ہےـ اور وجہ یہ ہے کہ ایک تو اس ادارے نے تین سال مسلسل اسی نظام کو اسلامی ڈکلئیر کیا ہےـ پھر آج بھی اپنے بوس کی خوشنودی کے لئے واضح جھوٹ کا سہارا تو لیتا ہے لیکن خلاف شریعت کوئی چیز شرعی دلائل سے ثابت نہیں کرسکتاـ لیکن ان ساری باتوں سے بڑھ کر بات یہ ہے کہ پڑوس کے موجودہ نظام کا عرب وعجم کی چوٹی کے علماء نے کیا ہیں اور کسی نے بھی آج تک اس کی شریعت اور دین اور نظام کو اسلام سے سرمو انحراف کا مرتکب قرار نہیں دیا ہےـ خود پاکستان کی چوٹی کے علماء شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی، مولنا امداداللہ، شہید حامد الحق حقانی، شیخ محمد ادریس اور مولنا فضل الرحمان جیسے اساطین علم پڑوس تشریف لے گئے ہیں اور وہاں نظام کی باریکیوں سے خود کو آگاہ کرچکے ہیں ـ مگر انہیں کوئی چیز خلاف شریعت نظر نہیں آئی ہےـ اور دلچسپ بات یہ کہ خود اسی ادارے سے سالہاسال وابستہ ایک علم کی نسبت رکھنے والے شخص مفتی ابولبابہ شاہ منصور نے تو مجھے خود واقعہ سنایا ہے کہ پڑوس کی فتح کے بعد میں بارہا افغانستان گیاـ وہاں کی عدالتوں کو دیکھاـ اداروں کو دیکھا الحمدللہ ایک ایک چیز عین شریعت کے مطابق تھی ـ اور ہر ہر چیز کو دیکھ کر دل باغ باغ ہوگیاـ پھر پتہ نہیں ادارہ اور فاجل محترم کو اپنے بوس میں کونسی ایسی بات نظر آئی کہ انہوں نے اس کی غلط بات کا نوٹس نہیں لیاـ چلئیے جی مان لیتے ہیں ان کی بس کی بات نہیں تھی تو اترا کس بات پہ رہے ہیں؟ ان کی اس غلیظ بات پہ تو حدیث نبوی کے مطابق کمزور ایمان جیسا کردار اداء کرکے نفرت کا اظہار تو کرلینا چاہیے تھاـ مگر نہیں کیاـ اس لئے کہ مت ماری گئی ہےـ خود مہر بھی لگارہے ہیں کہ اسلامی نظام کا نام ونشان نہیں ہےـ آگے سے بوس بھی ٹھپہ لگارہا ہے کہ نافذ ہوگا بھی نہیں ـ ڈھائی سو سال اور بھی گزر جائے تب بھی نہیں ـ مگر احمقوں کی دنیا کو تو نصیب میں ناچنا ہی لکھا ہے بھلے ان کی بے عزتی راس آئےـ




















































