Site icon المرصاد

خلافت عثمانیہ؛ تاریخ کے اوراق سے! اکاونویں قسط

سلطان محمد فاتح کے خط کا مکہ مکرمہ کی طرف سے جواب

آپ کا خط ہم نے ادب کے ساتھ کھولا اور حجاز و عرب کے لوگوں کے سامنے کعبہ شریف کے پاس اسے پڑھا۔ ہم نے دیکھا کہ اس خط میں قرآن کریم کی آیات شامل ہیں، جو مومنوں کے لیے شفا اور رحمت ہیں۔ ہم نے اس کے معنی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزے کا ظہور پایا، یعنی یہ کہ قسطنطنیہ کی زیرِ نگین علاقوں کو فتح کیا گیا، جس کی شہرت لوگوں میں پھیل چکی ہے۔

اس کے احاطہ کی قوت کو عام و خاص میں تسلیم کیا گیا ہے۔ ہم نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اس نے یہ مشکل کام آپ کے لیے آسان کیا اور آپ کو کامیابی عطا کی۔ ہم بہت خوش ہیں، اور اس بات پر بھی خوش ہیں کہ آپ نے اپنے اسلاف کے طریقے کو زندہ کیا۔ اللہ تعالیٰ ان کی روحوں کو سکون عطا کرے اور جنت میں جگہ دے، جنہوں نے پاک سرزمین کے باشندوں سے محبت کا اظہار کیا تھا۔ ہم آپ کے شکرگزار ہیں۔

قسطنطنیہ کی فتح کے اسباب

مسلمانوں کے ہاتھوں قسطنطنیہ کی کامیابی اور فتح کوئی اچانک واقعہ نہ تھا، بلکہ صدیوں سے یہ کوشش جاری تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت کو پورا کرنے کے لیے کئی نسلوں نے جدوجہد کی، لیکن بنو عثمان کے دورِ حکومت میں یہ کوششیں زیادہ اور تیز ہوئیں۔ عثمانی بادشاہ اسباب سے فائدہ اٹھانے کے طریقے میں پختہ تھے۔ محمد فاتح اس سوچ کی پیروی کرتے تھے، جو ان کی جہادی زندگی میں مکمل طور پر عیاں تھی۔ وہ اس آیت پر عمل کرنے کے لیے بہت پرجوش تھے:

وَأَعِدُّوا لَھم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّۃ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ (الأنفال: ۶۰)
ترجمہ: «اور تم اپنی استطاعت کے مطابق ان کے مقابلے کے لیے قوت اور تیار کردہ گھوڑوں کا بندوبست کرو۔»

محمد فاتح جانتے تھے کہ دین کی سربلندی کے لیے زور اور قوت کا استعمال ضروری ہے، اور جنگی تیاریوں میں کوئی غفلت نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے جہاد میں اس آیت کی عملی تفسیر پیش کی۔ قسطنطنیہ کے محاصرے کے لیے انہوں نے ایک مضبوط لشکر تیار کیا تھا، اور اس وقت کے مطابق ہر قسم کے ہتھیار جمع کرنے میں کوئی سستی نہیں کی، جیسے کہ توپیں، تیر، کمانیں، گھڑ سوار اور دیگر۔

محمد فاتح کی قیادت میں جس لشکر نے قسطنطنیہ کا محاصرہ کیا، اس کی تیاری میں دینی اصولوں اور قوانین پر خصوصی توجہ دی گئی تھی۔ ان کی تربیت پاکیزہ ایمان، تقویٰ، امانتداری اور اخلاق پر کی گئی تھی، اور تربیت میں سخت اسلامی عقیدے کا توازن برقرار رکھا گیا تھا۔ اس تربیت کی قیادت ربانی علماء کرتے تھے۔

افراد کی تربیت میں اللہ تعالیٰ کی کتاب اور نبوی سنتوں کی ہدایات کو رہنما بنایا گیا تھا۔ یہ تربیت ایسے اصولوں پر کی گئی تھی کہ: اللہ تعالیٰ ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ اس کی کوئی اولاد ہے، وہ ہر عیب اور کمی سے پاک ہے، اعلیٰ کمالات کا مالک ہے اور اس کی کوئی حد نہیں۔

اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق اور ہر کام کی تدبیر کرنے والا ہے: أَلَا لَہ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ (الأعراف: ۵۴)
ترجمہ: «خبردار، خاص اللہ تعالیٰ کے لیے تخلیق اور اقتدار ہے۔»

اللہ تعالیٰ کائنات کے ہر نعمت کا سرچشمہ ہے، چاہے وہ چھوٹی نعمت ہو یا بڑی، ظاہری ہو یا پوشیدہ:

وَمَا بِكُم مِّن نِّعْمَۃ فَمِنَ اللہ (النحل: ۵۳)
ترجمہ: «تم پر کوئی نعمت نہیں مگر وہ اللہ جل جلالہ کی طرف سے ہے۔»

Exit mobile version