عثمانی سلاطین شریعت کے بڑے پابند تھے، اسی لیے عدل و انصاف ان کی بنیادی ترجیحات میں شامل تھا۔ انہوں نے غیر مسلموں، خصوصاً عیسائی اقلیتوں کے ساتھ بے مثال انصاف کیا۔ عیسائیوں کے ساتھ عثمانی حکمرانوں کا سلوک ظلم، تعصب اور جبر سے پاک تھا، اور ان کے دلوں میں کبھی یہ خیال نہیں آتا تھا کہ عقیدے کی بنیاد پر عیسائیوں کے ساتھ زیادتی کی جائے۔
عثمانی خلافت میں تمام عیسائی گروہوں کو مکمل مذہبی آزادی دی گئی تھی۔ ہر گروہ کے اپنے مذہبی پیشوا موجود تھے جو براہِ راست سلطان سے رابطہ رکھتے تھے۔ ہر مذہب کو اپنے مذہبی مراسم، کلیسا، عقائد اور طرزِ زندگی رکھنے کا حق حاصل تھا۔ عثمانی حکومت ان کے مال، عقیدے، زبان اور ثقافت میں کوئی مداخلت نہیں کرتی تھی۔
انہیں یہ آزادی بھی دی گئی تھی کہ اپنی مرضی سے بات کریں، تعلیم حاصل کریں، ترقی کریں اور ثقافتی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ سلطان محمد فاتح رحمہ اللہ کا یہ نیک سلوک اسلام کی پاکیزہ ہدایات اور رسول اللہ ﷺ کی سنت سے ماخوذ تھا۔ وہ خلافتِ راشدہ کے عدل، رواداری اور اخلاق سے متاثر تھے۔ دشمنوں کے ساتھ ان کا منصفانہ سلوک تاریخ کے اوراق میں رقم ہے۔
قسطنطنیہ کے روحانی فاتح – شیخ آق شمس الدین رحمہ اللہ
شیخ آق شمس الدین رحمہ اللہ سلطان محمد فاتح کے روحانی استاد اور جلیل القدر عالم تھے۔ ان کا پورا نام محمد بن حمزہ دمشقی رومی تھا۔ وہ اپنے والد کے ساتھ روم تشریف لے گئے جہاں مختلف علوم و فنون حاصل کیے۔ عثمانی خلافت میں آپ نے اسلامی ثقافت اور دینی اقدار کے فروغ میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔
آق شمس الدین رحمہ اللہ سلطان محمد فاتح کے استاد تھے اور ان کا سلسلہ نسب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تک پہنچتا تھا۔ آپ ۷۹۲ھ (۱۳۸۹ء) میں دمشق میں پیدا ہوئے، سات سال کی عمر میں قرآن حفظ کیا، پھر ایشیا اور حلب میں عربی و اسلامی علوم حاصل کیے۔ اس کے بعد انقرہ گئے اور وہاں کے مشہور علماء سے تعلیم حاصل کی۔ آپ کی وفات ۱۴۵۹ء میں ہوئی۔
انہوں نے امیر محمد فاتح کو اس دور کے بنیادی علوم جیسے قرآن، حدیث، فقہ، عربی، فارسی اور ترکی زبانیں سکھائیں، اس کے علاوہ جدید علوم جیسے ریاضی، فلکیات، تاریخ اور جنگی فنون بھی پڑھائے۔ آق شمس الدین رحمہ اللہ نے دیگر اساتذہ کو بھی یہ ذمہ داری دی کہ وہ سلطان کو حکومت، سیاست اور انتظامی اصولوں کی تربیت دیں تاکہ وہ اپنے زمانے کا بہترین حکمران بن سکے۔
نبوی بشارت اور فاتح کا عزم
یہ اس وقت کی بات ہے جب سلطان محمد فاتح مگنزیہ میں امارت کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ آق شمس الدین رحمہ اللہ نے انہیں رسول اللہ ﷺ کی یہ مبارک حدیث سنائی:
«لتفتحن القسطنطينية، فلنعم الأمير أميرها، ولنعم الجيش ذلك الجيش»
ترجمہ: تم ضرور قسطنطنیہ فتح کروگے، اس کا امیر بہترین امیر ہو گا اور اس کا لشکر بہترین لشکر ہو گا۔
یہ حدیث سلطان محمد فاتح کے دل پر اس قدر اثرانداز ہوئی کہ بچپن سے ہی یہ خواہش ان کا مقصدِ حیات بن گئی۔ جب وہ خلافت کی باگ ڈور سنبھال چکے تو اپنے استاد کے حکم پر قسطنطنیہ کی فتح کے لیے لشکر تیار کیا۔ شہر کو چاروں طرف سے محاصرہ کرلیا گیا اور ۵۴ دن تک سخت اور خونریز جنگ جاری رہی۔
جب جنگ طول پکڑ گئی اور بازنطینیوں کو نئی رسد اور امداد پہنچ گئی تو ان میں نئی امید جاگ اٹھی۔ پوپ کی طرف سے چار جہاز بھیجے گئے جو شہر تک پہنچ گئے۔ یہ مدد محاصرہ کے دباؤ میں گھِرے بازنطینیوں کے لیے نہایت اہم تھی اور اس نے ان کا حوصلہ بلند کردیا۔ ایسے وقت میں عثمانی ریاست کے امراء اور وزراء جمع ہوئے اور سلطان سے عرض کیا:
’’آپ ایک صوفی کے کہنے پر اتنا بڑا لشکر قسطنطنیہ لے آئے اور شہر کا محاصرہ کر لیا؟‘‘
لیکن سلطان محمد فاتح نے اپنے استاد کی نصیحت فراموش نہ کی۔ ایمان، عزم اور شجاعت کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی بشارت کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اپنے عہد پر قائم رہے۔

