سلطان محمد فاتح کی اپنے بیٹے کو وصیت:
’’میں اس دنیا سے رخصت ہو رہا ہوں، مگر مجھے کوئی افسوس نہیں، اس لیے کہ میرے بعد تم جیسا وارث موجود ہے۔ اے بیٹے! عادل، نیک اور رحم دل بنو، بغیر کسی امتیاز کے عام لوگوں کی سرپرستی کرو۔ دینِ اسلام کی ترقی کے لیے بھرپور کوشش کرو، کیونکہ روئے زمین کے حکمرانوں پر لازم ہے کہ دینی امور کو ہر چیز پر مقدم رکھیں اور ان کے نفاذ میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتیں۔
ان لوگوں کی صحبت اختیار نہ کرو جنہیں دینی معاملات سے کوئی دلچسپی نہ ہو، جو گناہوں سے پرہیز نہیں کرتے اور فساد میں مبتلا رہتے ہیں۔ فساد پسندوں اور ان افراد سے دور رہو جو تمہیں تمہاری ذمہ داریوں سے غافل کر دیں۔ جہاد کرو اور اپنی سلطنت کی حدود کو وسیع کرو۔ بیت المال کے اموال کو بے جا خرچ سے محفوظ رکھو، اور اس بات سے بچو کہ تمہارا ہاتھ رعایا کے مال تک پہنچے، سوائے اس صورت کے جب اسلام اس کی اجازت دے۔
ضرورت مندوں تک خوراک پہنچاؤ، باعزت لوگوں کی عزت کرو، علماء کے مقام کو پہچانو اور ان کا احترام بجا لاؤ۔ انہیں دور دراز علاقوں سے اپنے قریب کرو، اپنے دربار میں بلاؤ اور ان کی مالی سرپرستی کرو۔ ہوشیار رہو، اپنی حکومت اور فوج پر غرور نہ کرنا۔ شریعت نافذ کرنے والوں کو اپنے سے دور نہ کرو، اور ہر اس عمل سے بچتے رہو جو شریعت کے خلاف ہو۔
دین کی سربلندی ہی ہمارا مقصد ہے اور دین کے راستے پر چلنا ہی ہماری پالیسی۔ میری طرف دیکھو اور مجھ سے سیکھو: جب میں اس سرزمین میں آیا تو ایک بچے کی مانند تھا، مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے عظیم نعمتوں سے نوازا۔ میری راہ پر چلو، میری پیروی کرو، اپنے دین کی عزت کے لیے کام کرو اور مسلمانوں کے وقار کی حفاظت کے لیے جدوجہد کرو۔ خزانے کو عیش و عشرت اور لہو و لعب میں ضائع نہ کرو، ضرورت سے زیادہ خرچ سے بچو، کیونکہ یہی ریاست کی تباہی کا سبب بنتا ہے۔ عدل کو اختیار کرو، نیکی کو نہ بھولو اور رحم دل بنو۔‘‘
سلطان محمد فاتح انہی اصولوں پر عمل پیرا تھا اور اس نے عیسائیوں کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کا برتاؤ کیا۔ جب وہ فاتح کی حیثیت سے قسطنطنیہ میں داخل ہوا تو اس نے جنگ کے اسلامی اصولوں کو ملحوظ رکھا اور فرمایا: نہ کسی کی عزت و حرمت پامال کی جائے گی، نہ بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کو قتل کیا جائے گا، نہ باغات جلائے جائیں گے، نہ جانوروں کو ہلاک کیا جائے گا، نہ انسانوں کے اعضا کاٹے جائیں گے، اور نہ کسی کو نقصان پہنچایا جائے گا؛ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھائے ہوں۔
محمد فاتح جنگ کے میدان میں دینِ اسلام کے عقیدے اور اس کی حکمتِ عملی کے مطابق حضرت ابوبکر صدیقؓ کی اُن ہدایات کی پیروی کرتا تھا جو انہوں نے رومیوں کے ساتھ برتاؤ کے بارے میں دی تھیں:
’’خیانت نہ کرنا، حد سے تجاوز نہ کرنا، عہد نہ توڑنا، مُردوں کے اعضا نہ کاٹنا، کھجور کے درخت نہ کاٹنا اور نہ انہیں آگ لگانا، کسی بھی پھل دار درخت کو نہ کاٹنا، بکری اور اونٹ کو صرف ضرورتِ خوراک کے لیے ذبح کرنا، اور اُن لوگوں کو ایذا نہ دینا جو عبادت گاہوں میں دنیا سے کنارہ کش ہو کر عبادت میں مشغول رہتے ہیں ۔ ۔ ۔ اور اللہ تعالیٰ کے نام پر روانہ ہوجاؤ۔‘‘
سلطان محمد فاتح بازنطینی حکومت کے قلب میں داخل ہوا اور مغربی عیسائی دنیا کو عدل و رحمت کا ایک آفاقی درس دیا، اور اسے خلافتِ عثمانیہ کی ایک دائمی یادگار بنا دیا۔ عثمانی سلطنت اسلامی اصولوں پر کاربند رہی اور محکوم اقوام کے ساتھ عدل و انصاف کی روشن مثالیں قائم کرتی رہی۔ عبد الرحمن عزام عثمانی خلافت کے حسنِ سلوک اور عدل کے بارے میں کہتے ہیں کہ:
’’بعض لوگ عثمانی ریاست کے بعض ادوار کے متعلق یہ گمان رکھتے ہیں کہ وہ اگرچہ ایک عظیم سلطنت تھی، مگر صلہ رحمی اس کی صفت نہ تھی۔
یہ لوگ غلط فہمی میں مبتلا ہیں، کیونکہ بے بنیاد باتیں کبھی حقیقت کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ صلہ رحمی کی مثالیں آج تک رومانیا کے دریائے دنیسٹر کے کنارے واقع شہر ’’سورابیا‘‘ میں مشہور ہیں۔ مجھے بتایا گیا کہ عثمانی علاقوں کے باشندے ہمیشہ ترکوں کی صلہ رحمی کی مثالیں بیان کرتے اور ان کے عدل و انصاف کے قصے سنایا کرتے تھے۔
ان کا ایک مشہور مقولہ یہ ہے: ’’عدل ترکوں کے جانے کے بعد ختم ہوگیا۔‘‘
میں نے مولداویہ، رومانیا اور بلقان کے علاقوں کے سفر کے دوران یہ مثالیں خود سنیں اور انہیں قلم بند کیا۔ یہ تمام واقعات اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ عیسائی اقوام آج تک ترک مسلمانوں کا احترام کرتی ہیں اور ان کی صلہ رحمی اور انصاف کی داستانیں بیان کرتی ہیں۔‘‘




















































