جب شیخ شمس الدین رحمہ اللہ تک یہ خبر پہنچی کہ لشکر کے بڑے حصے کا صفایا ہو چکا ہے، سامان و اسباب خاک میں مل گئے ہیں، قلعے میں موجود کفار کو انگریزوں کی طرف سے مدد پہنچ رہی ہے اور فتح کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے، تو سلطان نے اپنے وزیر ولی الدین احمد پاشا کو شیخ آق شمس الدین کے خیمے میں بھیجا تاکہ ان سے حل دریافت کرے۔ شیخ نے جواب دیا:
’’یقیناً اللہ جل جلالہ اپنے فضل سے نصرت عطا فرمائے گا اور شہر ضرور فتح ہوگا۔‘‘
سلطان اس مختصر جواب سے مطمئن نہ ہوا، چنانچہ اس نے وزیر کو دوبارہ بھیجا تاکہ کچھ تفصیل حاصل کرے۔ اس بار شیخ نے اپنے شاگرد، سلطان محمد فاتح کے نام ایک خط لکھا، جس میں ارشاد فرمایا:
’’اگر کشتیوں کی بربادی نے تمہیں دل گرفتہ کر دیا ہے اور لوگوں نے ملامت کیا ہے، اور اگر کفار غالب نظر آتے ہیں، تو یاد رکھو کہ یہ ایک اٹل اصول ہے کہ بندہ تدبیر کرتا ہے اور فیصلہ اللہ کرتا ہے۔ بہرحال اللہ کا حکم غالب ہے۔ ہم نے اللہ سے دعا کی، قرآن کریم کی تلاوت کی، پھر ہمیں نیند آئی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے کرم سے ایسی بشارت دی جو اس سے قبل کبھی نہ دیکھی تھی۔‘‘
جب یہ پیغام لشکر اور امرا تک پہنچا تو سب کے دل مطمئن ہوگئے اور عثمانی مجلسِ حرب نے فوراً فیصلہ کیا کہ جنگ جاری رکھی جائے۔ بعد ازاں سلطان محمد فاتح خود شیخ کے خیمے میں حاضر ہوا، ان کا ہاتھ چوما اور عرض کیا:
’’مجھے ایسی دعا سکھا دیجیے جس کی برکت سے فتح نصیب ہو۔‘‘
شیخ نے دعا تعلیم فرمائی، سلطان خیمے سے نکلا اور عمومی حملے کا حکم دیا۔
سلطان چاہتا تھا کہ معرکے کے وقت اس کا مرشد اور استاد شیخ شمس الدین اس کے ساتھ ہوں۔ اس نے قاصد بھیجے، لیکن شیخ نے ہدایت دی تھی کہ کوئی خیمے میں داخل نہ ہو۔ دربان نے سلطان کا قاصد بھی روک دیا۔ جب قاصد واپس آیا اور سلطان کو خبر دی، تو سلطان دل گیر ہوا اور خود شیخ کے خیمے کی طرف روانہ ہوا۔ دربان نے سلطان کو بھی روکا اور کہا: ’’یہ شیخ کا حکم ہے۔‘‘
سلطان نے تلوار کھینچی اور خیمے کا پردہ چاک کر کے ایک شگاف بنایا۔
اس سوراخ سے اندر جھانکا تو ایک عجیب منظر نظر آیا:
شیخ شمس الدین اللہ کے حضور سجدہ ریز تھے، پگڑی سر سے گر چکی تھی، سفید بال خاک پر بکھرے ہوئے تھے اور ان کے سر و ریش سے نور جھلک رہا تھا۔ سلطان نے اپنے استاد کو اس حال میں دیکھا کہ وہ آہ و زاری کے ساتھ رو رہے ہیں اور رب العالمین سے نصرت کی دعا مانگ رہے ہیں۔
سلطان واپس اپنے خیمے میں گیا اور قلعے کی طرف نگاہ کی۔ اچانک اس نے دیکھا کہ فصیل میں شگاف پڑ گیا ہے اور اسلامی لشکر تیزی سے قسطنطنیہ میں داخل ہورہا ہے۔ اس نے خوشی سے کہا:
’’مجھے اس پر خوشی نہیں کہ شہر فتح ہوا، بلکہ اس پر فخر ہے کہ میری زندگی میں ایسی بابرکت ہستیاں موجود ہیں۔‘‘
علامہ شوکانی رحمہ اللہ اپنی کتاب البدر الطالع میں لکھتے ہیں: شیخ شمس الدین کی برکت، فضل اور کمال اس موقع پر آشکارا ہوا۔ انہوں نے سلطان سے پہلے ہی فرمایا تھا:
’’ایک دن قسطنطنیہ تمہارے ہاتھوں فتح ہوگا۔‘‘
جب عثمانی لشکر پرجوش انداز میں شہر میں داخل ہوا، تو حضرت شیخ شمس الدین سلطان کے حضور تشریف لائے تاکہ ایسے نازک لمحوں میں شریعتِ الٰہی کی یاد دہانی کرائیں اور فاتح فوج کو اخلاق، حقوق اور آداب کے بارے میں نصیحت کریں، جیسا کہ شریعتِ اسلامی کی تعلیمات ہیں۔




















































