داعش تنظیم کے بارے میں ابتدائی اطلاعات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ اس میں کئی تجربہ کار جنگجو اور خفیہ اداروں سے وابستہ ماہرین شامل تھے۔ انہی پرانے اور تربیت یافتہ افراد کی موجودگی اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے پسِ پشت کوئی بڑی سازش کارفرما تھی۔ کہا جاتا ہے کہ آغاز میں روس کو بھی اس تنظیم میں اثر و رسوخ حاصل تھا، اور اس نے یہ قدم شام میں امریکہ کے خلاف اپنی مفادات کے تحفظ کے لیے اٹھایا تھا۔
جیسا کہ پہلے بیان ہوا، خطے میں ایران کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ اور ایران و روس کے تعلقات وہ عوامل ہیں جو امریکہ کے لیے ناقابلِ برداشت تھے۔ چنانچہ واشنگٹن کا ایک بڑا مقصد یہ تھا کہ ایران کے نفوذ کو خطے سے ختم کیا جائے، مگر انجام اس کے برعکس نکلا۔ ایران کا اثر کم ہونے کے بجائے مزید پھیل گیا۔ فاطِمیون کے ساتھ زینبیون گروہ بھی سرگرم ہوگئے اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کئی نامور جرنیل وہاں برسرِپیکار نظر آئے۔
داعش کا دوسرا بڑا مقصد تیل کے ذخائر پر قبضہ جمانا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا داعش یہ تیل صرف اپنی معاشی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال کر رہی تھی یا اس کے پیچھے کوئی خفیہ منصوبے بھی کارفرما تھے؟ رپورٹس کے مطابق، داعش جو ۲۰۱۳ء میں عراق اور شام کے بعض علاقوں میں وجود میں آئی، ۲۰۱۴ء کو اس کے قبضے میں موجود تیل کے کنوؤں سے یومیہ تقریباً ۵۶ ہزار بیرل تیل نکالا جاتا تھا، جو ۲۰۱۵ء میں گھٹ کر ۳۵ ہزار بیرل اور ۲۰۱۶ء میں مزید گھٹ کر ۱۶ ہزار بیرل تک رہ گیا۔
داعش نے ان تیل کے ذخائر اور غیر قانونی فروخت سے بھاری مالی منافع حاصل کیا۔ اگرچہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اُتار چڑھاؤ رہتا تھا، لیکن اندازوں کے مطابق ۲۰۱۴ء میں داعش کو فی بیرل تقریباً ۲۵ ڈالر حاصل ہوتے تھے، جس سے اس کی ماہانہ آمدنی تقریباً ۴۲ ملین ڈالر تک پہنچتی تھی۔ ۲۰۱۵ء میں یہ آمدنی گھٹ کر ۲۶ ملین ڈالر اور ۲۰۱۶ء میں مزید کم ہو کر تقریباً ۱۲ ملین ڈالر رہ گئی۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک اتنا مالدار اور صنعتی ملک، یعنی امریکہ، کویت اور عرب دنیا سے اتنی بڑی مقدار میں تیل کیوں درآمد کرتا ہے؟ اس پر تفصیلی بحث کی ضرورت نہیں، بس اتنا کہنا کافی ہے کہ جنگوں کے دوران لاکھوں لیٹر تیل کے ذخائر جنگی مشینری کو رواں رکھنے کے کام آتے ہیں۔
داعش نے تیل کی اسمگلنگ غیر رسمی اور غیر منظم نیٹ ورکس کے ذریعے کی۔ اس لیے کوئی ملک باضابطہ طور پر داعش کے لیے تیل فروخت نہیں کرتا تھا۔ لیکن مختلف تحقیقات اور رپورٹس کے مطابق، داعش کا اسمگلنگ نیٹ ورک کچھ یوں کام کرتا تھا:
۱۔ شام: داعش زیادہ تر تیل ان علاقوں میں فروخت کرتی تھی جو اس کے زیرِ قبضہ تھے، اور خریدار عموماً مقامی تاجر اور صارفین ہوتے تھے۔
۲۔ عراق: عراق میں بھی داعش نے اپنا تیل مقامی قبائل اور تاجروں کو فروخت کیا۔
۳۔ ترکیہ: بعض رپورٹس اور تحقیقی اداروں کے مطابق، داعش کا کچھ اسمگل شدہ تیل ترکی کے راستے دیگر منڈیوں تک پہنچایا گیا۔ ترکی نے ان الزامات کی تردید کی، تاہم بعض سیاسی اور انٹیلی جنس ذرائع نے ان دعوؤں کے حق میں شواہد پیش کیے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز نے جولائی ۲۰۱۵ء کی ایک رپورٹ میں ترکی پر یہ الزام عائد کیا تھا، اور امریکی وزارتِ خزانہ نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں اس جانب اشارہ کیا تھا۔
۴۔ مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ: بعض اسمگلنگ نیٹ ورکس داعش کا تیل مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے دیگر ممالک کے غیر رسمی بازاروں تک پہنچاتے تھے۔ مجموعی طور پر داعش کا تیل اسمگل کرنے کا نظام مقامی منڈیوں، خفیہ راستوں اور درمیانی سوداگر طبقے پر انحصار کرتا تھا۔ یہ تیل نہ صرف خطے میں بلکہ بعض اوقات خطے سے باہر بھی غیر قانونی تاجروں تک پہنچایا جاتا تھا۔
خفیہ اداروں کی یہ پرانی روش رہی ہے کہ وہ ایسی اسمگلنگ نیٹ ورکس کے ذریعے مطلوبہ سامان حاصل کرتے ہیں، تاکہ نہ تو وہ براہِ راست منظرِ عام پر آئیں اور نہ ہی ان پر کسی قسم کی الزام تراشی ممکن ہو۔ اگر ماضی پر نظر دوڑائی جائے تو ایک موقع پر تیل کے ذخائر (ڈیپوز) امریکہ کی جانب سے بمباری کا نشانہ بنے، اور ایک بار روس کی طرف سے؛ یہ دونوں واقعات اس امر کی علامت ہیں کہ دونوں طاقتوں کی خفیہ تنظیمیں پسِ پردہ سرگرم تھیں۔

