داعش کا مستقبل؛ انتہاپسندی کے خلاف عالمِ اسلام کا ردعمل
داعشی خوارج کا ظہور اور زوال پورے عالمِ اسلام کے لیے ایک وارننگ تھا۔ اس گروہ نے نہ صرف ہزاروں بے گناہ لوگوں کی جان لی بلکہ اسلام کی ایک مسخ شدہ اور پرتشدد تصویر بھی پیش کی جس کے اثرات آج تک باقی ہیں۔ وہ مناظر جو داعش نے دنیا کو دکھائے، آج بھی کچھ لوگ اسلام کو انتہا پسندی، قتل و غارت اور لوٹ مار کے نام سے پہچانتے ہیں۔ لیکن یہ کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔
اصل سوال یہ ہے کہ عالمِ اسلام اس طرح کے کسی اور سانحے کے دوبارہ ہونے سے کیسے بچ سکتی ہے؟ اس سوال کا جواب انتہاپسندی کی جڑوں کو گہرائی سے دیکھنے اور اس کے علاج کے لیے عملی اقدامات کرنے میں پوشیدہ ہے۔
پہلا قدم تعلیمی نصاب کی اصلاح ہے۔ زیادہ تر نوجوان جو داعش میں شامل ہوئے، ان کے پاس حقیقی اسلام سے متعلق علم بہت کم تھا۔ اسکول اور یونیورسٹیاں خشک اور سخت تعلیمی مواد کے بجائے دین کی اصل بنیادیں جو رحم، عدل اور عقلانیت پر قائم ہیں، طلبہ کو سکھائیں۔
ملائیشیا اور انڈونیشیا میں نئے نصاب تیار کیے گئے ہیں جن میں بین المذاہب مکالمے اور اختلافات کو برداشت کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ ان پروگراموں نے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ نوجوان نسل کو انتہا پسند نظریات سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
دوسرا قدم معاشی اور سماجی حالات کو بہتر بنانا ہے۔ غربت اور عدم مساوات انتہاپسندی کے لیے زرخیز زمین ثابت ہوئے ہیں۔ جب نوجوان مستقبل کے بارے میں مایوس ہو جائیں اور یہ سوچیں کہ ان کا کوئی مستقبل نہیں، تو یہ احساس تشدد اور شدت پسند گروہوں کی طرف ان کے رجحان کا سبب بنتا ہے۔ اسلامی ممالک کو ایسے ترقیاتی پروگراموں کی ضرورت ہے جو روزگار کے مواقع پیدا کریں اور مایوسی کے بجائے امیدیں بڑھائیں، جیسا کہ افغانستان کی امارتِ اسلامی نے اس حقیقت کو سمجھا اور بڑے قومی منصوبوں میں روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی کوششیں شروع کی ہیں۔
میڈیا بھی اس میدان میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ داعش نے ماضی میں اپنی پروپیگنڈہ مہم کے لیے مجازی دنیا سے بھرپور فائدہ اٹھایا، آج عالمِ اسلام کو چاہیے کہ اسی میدان کو مثبت اور تعلیمی مواد سے بھر دے۔ ایسے پروگرام پیش کرے جو اسلام کا حقیقی چہرہ دنیا کے سامنے لائیں؛ یہ کہ اسلام امن اور رواداری کا دین ہے اور اس میں انتہاپسندی، قتل و غارت اور لوٹ مار کی کوئی گنجائش نہیں۔ اسی ذریعے سے عالمِ اسلام تشدد اور شدت پسندی کے خلاف کردار ادا کرنے کے قابل ہوسکتا ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جو امارتِ اسلامی نے بھی سمجھی ہے اور اپنے نوجوانوں اور فکری کارکنوں کے ذریعے اس پر بھرپور کام کر رہی ہے اور اپنے میڈیا نیٹ ورک کو وسعت دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
آخر میں، عالمِ اسلام کا اتحاد ضروری ہے۔ شیعہ اور سنی، عرب اور غیر عرب کے درمیان تقسیم نے صرف انتہا پسند گروہوں جیسے داعش اور اسلام کے دیگر دشمنوں کو میدان دیا ہے۔ تمام مکاتب فکر کے بڑے علماء کو چاہیے کہ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامیں اور مل کر انتہاپسندی کے خلاف ایک متحد آواز بلند کریں۔
عالمِ اسلام کا مستقبل ہمارے آج کے فیصلوں پر منحصر ہے۔ ہم ماضی سے سبق سیکھ کر ایک نئی راہ متعین کر سکتے ہیں، جس میں ہمارے نوجوان تشدد کے بجائے علم اور ترقی کی طرف بڑھیں۔ اسلام زندگی اور امید کا دین ہے اور یہی وہ حقیقی پیغام ہے جو دنیا کے ہر کونے تک پہنچنا چاہیے۔ تاکہ داعش اور خوارج کبھی دوبارہ ظاہر نہ ہوں اور اسلام کے حقیقی اور پاکیزہ چہرے کو قتل، لوٹ مار اور بربادی کے ذریعے دنیا کے سامنے خوفناک اور وحشتناک نہ بنا سکیں اور نہ ہی اسلاموفوبیا کو ہوا دے سکیں۔




















































