کابل کے علاقے شہرنو میں پیش آنے والے دل دہلا دینے والے اور المناک دھماکے نے ایک بار پھر لوگوں کے سامنے داعشی گروہ کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا، وہ چہرہ جو خونریزی، جھوٹ اور زندگی و امن کی کھلی دشمنی سے بھرا ہوا ہے۔ یہ حملہ طاقت کا اظہار نہیں تھا، بلکہ بے بسی اور شکست خوردگی کا نتیجہ تھا۔ وہ گروہ جو برسوں سے دین کے نام پر جرائم کرتا چلا آ رہا ہے، آج بھی اسی طرح کی سفاکانہ کارروائیوں کے ذریعے افغانستان میں امید اور استحکام کا راستہ روکنے کی کوشش کر رہا ہے، حالانکہ وہ یہ نہیں جانتا کہ ہماری قوم اب ان مکروہ کھیلوں کا شکار نہیں بن سکتی۔
امریکہ کے کٹھ پتلی نظام کے خاتمے اور قبضے کے اختتام کے بعد ہمارا عزیز افغانستان ایک بار پھر نئی زندگی کی سانس لے رہا ہے۔ ایک ایسا اسلامی نظام وجود میں آیا ہے جو عوام کے قلب سے ابھرا ہے، ایسا نظام جس کی اولین ترجیح امن، سماجی نظم اور معاشی تعمیر نو ہے۔ آج ملک کے متعدد صوبوں میں بازاروں میں رونق لوٹ آئی ہے، راستے محفوظ ہو چکے ہیں اور لوگ پہلے سے زیادہ اعتماد کے ساتھ کاروبار اور تجارت کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔
اسی طرح افغانستان کے ہمسایہ اور علاقائی ممالک کے ساتھ تعلقات باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر فروغ پا رہے ہیں۔ یہ تبدیلیاں ایک واضح پیغام دیتی ہیں کہ افغانستان اب بیرونی طاقتوں کا کھیل کا میدان نہیں رہا، بلکہ خطے میں اپنے فطری مقام کی طرف واپس لوٹ رہا ہے۔
لیکن یہ مثبت پیش رفتیں امن کے دشمنوں کو برداشت نہیں۔ وہ عناصر جو بدامنی، جنگ اور خونریزی سے فائدہ اٹھاتے ہیں، جب امن اور خوشحالی دیکھتے ہیں تو تشدد کا سہارا لیتے ہیں۔ داعش انہی عناصر میں سے ایک ہے، ایک ایسا گروہ جو نہ اسلام کی نمائندگی کرتا ہے اور نہ ہی انسانی اخلاقیات سے اس کا کوئی تعلق ہے۔ وہ ظالمانہ اور غیر انسانی حملوں کے ذریعے اعتماد کی فضا کو تباہ کرنا چاہتا ہے اور پڑوسی ممالک کو یہ جھوٹا پیغام دینا چاہتا ہے کہ افغانستان غیر محفوظ ہے، حالانکہ زمینی حقائق اس دعوے کو واضح طور پر رد کرتے ہیں۔
کابل کے شہرنو میں ہونے والا دھماکہ بھی اسی تناظر میں گہرے تجزیے کا متقاضی ہے۔ یہ حملہ موجودہ نظام کو بدنام کرنے اور افغانستان کے خطے کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات کو نقصان پہنچانے کی ایک کوشش تھی۔ داعش یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ افغانستان اپنے ہمسایوں کے ساتھ احترام اور تعاون کے ماحول میں آگے بڑھ رہا ہو، اسی لیے وہ تخریبی اور انسان دشمن کارروائیوں کے ذریعے بد اعتمادی کی دیواریں کھڑی کرنا چاہتی ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ بدنیتی کبھی کامیاب نہیں ہوتی۔
داعش نے ہمیشہ اسلام کے نام پر جرائم کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ اپنے خفیہ آقاؤں کو خوش ۔رکھ سکے، حالانکہ اسلام زندگی، عدل اور انسانی وقار کا دین ہے اور قرآنِ عظیم الشان کی آیات اس حقیقت کو واضح طور پر بیان کرتی ہیں۔ اسی لیے بے گناہ انسانوں کا قتل دین اور انسانیت کے خلاف سب سے بڑی خیانت ہے۔ چنانچہ ہر دھماکہ، ہر قتل اور ہر یتیم کی آنسو جو داعش کے ہاتھوں بہتا ہے، اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ اس گروہ کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
آج افغانستان کے عوام پہلے سے کہیں زیادہ باخبر اور باشعور ہو چکے ہیں۔ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ یہ حملے دین کے نام کے بدترین غلط استعمال کا نتیجہ ہیں، نہ کہ دین کی خیرخواہی کی علامت۔ جو امن حاصل ہوا ہے وہ عوام کی قربانیوں اور صبر کا ثمر ہے اور ایک دھماکے سے ختم نہیں ہو سکتا۔ اس کے برعکس، ہر دہشت گرد واقعہ استحکام اور معمول کی زندگی کے تحفظ کے لیے قوم کے عزم کو مزید مضبوط کرتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہے کہ کابل کے شہرنو کا دھماکہ داعش کی طاقت کی علامت نہیں بلکہ اس کی کمزوری اور مایوسی کا اظہار ہے۔ امن اور امید کی روشنی تشدد کی تاریکی کو پسِ پشت ڈال دیتی ہے۔ افغانستان آج زندگی کی طرف بڑھ رہا ہے، موت کی طرف نہیں؛ تعمیر کے راستے پر گامزن ہے، تباہی کے نہیں۔ اور یہ سفر تمام سازشوں کے باوجود جاری رہے گا، ان شاء اللہ۔

