داعش نہ کوئی سیاسی نظام ہے اور نہ ہی اسلامی حکومت، بلکہ یہ استعماری اور مغربی طاقتوں کا ایک منصوبہ ہے جو مخصوص مقاصد اور محدود مدت کے لیے تشکیل دیا گیا۔ یہ تکفیری گروہ، جو اسلامی خلافت کے قیام کا دعویٰ کرتا ہے، دراصل عالمی سطح پر اسلاموفوبیا کو بڑھانے، مشرقِ وسطیٰ کو غیر مستحکم کرنے اور مغربی طاقتوں کی عسکری مداخلت کو جواز فراہم کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔
الٰہی نظام، دینِ اسلام جو شریعت، عدل اور انسانی رہنمائی پر قائم ہے کے برعکس داعش کے پاس نہ کوئی الٰہی بنیاد ہے، نہ ہی کوئی جائز حکومتی ڈھانچہ۔ یہ محض امریکہ، اسرائیل اور چند دیگر طاقتوں کے خفیہ تعاون کے سہارے زندہ ہے۔
امریکی خفیہ دستاویزات اور شواہد اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ داعش مغربی خفیہ اداروں، بالخصوص سی آئی اے کے اُن منصوبوں کا نتیجہ ہے جو شام اور عراق جیسے مزاحمتی ممالک کو کمزور کرنے کے لیے بنائے گئے تھے۔ یہ انتہاپسند تکفیری گروہ ابتدا ہی سے بیرونی قوتوں کے مالی، عسکری اور ابلاغی تعاون سے وجود میں آیا اور اسے خطے میں انتشار پیدا کرنے اور اسلامی مزاحمت کو کمزور کرنے کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔
مثال کے طور پر، داعش کا سربراہ ابوبکر البغدادی عراق میں امریکی کنٹرول کے تحت قائم جیلوں میں تربیت یافتہ تھا اور اس کی رہائی کے فوراً بعد اُسے اس تباہ کن منصوبے کے مرکزی کردار کے طور پر سامنے لایا گیا۔ یہ حقائق کھلے لفظوں میں واضح کرتے ہیں کہ داعش کوئی اسلامی اصلاحی تحریک نہیں، بلکہ ایک عملیاتی منصوبہ ہے جو استعماری مقاصد کی تکمیل کے لیے ترتیب دیا گیا تھا۔
اس منصوبے کا بنیادی مقصد اسلام کے حقیقی تصویر کو مسخ کرنا اور عالمی سطح پر لوگوں کے ذہنوں میں مسلمانوں کے خلاف خوف پیدا کرنا تھا۔ یہ منصوبہ ایسی ہیبت ناک اور منصوبہ بند کارروائیوں پر مبنی تھا جیسے قیدیوں کے سر قلم کرنا، تاریخی آثار کو تباہ کرنا، اور شریعت کے نام پر ظالمانہ قوانین نافذ کرنا، تاکہ دنیا کے سامنے اسلام کی ایک بگڑی ہوئی اور خوفناک تصویر پیش کی جائے، ایسی تصویر جس کا الٰہی دین کی حقیقی تعلیمات اور اصولوں سے کوئی تعلق نہیں۔
یہ تمام اقدامات اس لیے کیے گئے کہ مغرب کی اسلام مخالف پالیسیوں کو جواز ملے اور اسلامی ممالک پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔ دوسری طرف، داعش نے مشرقِ وسطیٰ میں بدامنی پھیلا کر امریکہ اور نیٹو کو عسکری موجودگی کا موقع فراہم کیا، تاکہ وہ اس بہانے خطے پر قبضے کو طول دے سکیں اور قدرتی وسائل، بالخصوص توانائی کے ذخائر سے ناجائز فائدہ اٹھا سکیں۔
تاہم یہ منصوبہ وقتی نوعیت کا ہے اور جب تک یہ اپنے آقاؤں کے لیے مفید رہے گا، اس کی سرپرستی جاری رہے گی۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایسے تخریبی اور پراکسی گروہ اپنے مشن کی تکمیل کے بعد یا تو ختم کر دیے جاتے ہیں یا نظرانداز کر دیے جاتے ہیں۔ داعش بھی عراق اور شام میں شکست کے بعد منتشر ہوگئی، مگر دنیا کے مختلف حصوں میں ان کے چند تخریبی اقدامات کبھی کبھار رپورٹ ہوتے رہتے ہیں۔
یہ سلسلہ اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک یہ اپنے سرپرستوں کے لیے کارآمد ہے۔ اور جب یہ اپنی افادیت کھودے گا، تو اس کا انجام بھی وہی ہوگا جو اس کے بانی البغدادی کا ہوا، جسے خود امریکہ نے ختم کر دیا۔ باقی ماندہ عناصر بھی اسی انجام سے دوچار ہوں گے جو ہمیشہ سے ایسی پراکسی گروہوں کا مقدر بنتا آیا ہے۔
اسی لیے داعش نہ کوئی الٰہی نظام ہے اور نہ ہی سیاسی حکومت، بلکہ یہ ایک منصوبہ بند پروجیکٹ ہے جو استعماری مقاصد کے حصول کے لیے ڈیزائن کیا گیا۔ مذہبی تصورات کے ناجائز استعمال کے ذریعے اس گروہ نے نہ صرف اسلام کی تعلیمات کو بدنام کیا بلکہ ہزاروں بے گناہ انسانوں کو قتل کیا اور اسلامی ممالک کے بنیادی ڈھانچوں کو تباہ کر ڈالا۔ مگر جب اس گروہ کو مغربی ممالک کی حمایت کے شواہد سامنے آئے تو یہ حقیقت عیاں ہوگئی کہ داعش دراصل ایک بڑے اور وسیع منصوبے کا حصہ تھی، ایسا منصوبہ جس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ پر کنٹرول حاصل کرنا اور اسلامی مزاحمتی تحریکوں کو کمزور کرنا تھا۔
لیکن تاریخ نے یہ ثابت کیا ہے کہ اس طرح کے بنائے گئے منصوبے زیادہ دیر تک قائم نہیں رہتے؛ اور بالآخر، وہی طاقتیں جو ان وحشیانہ منصوبوں کو تخلیق کرتی ہیں، خود بھی ان کے شر سے محفوظ نہیں رہ سکتیں۔

