Site icon المرصاد

داعشی خوارج؛ اسلام کے خلاف مغرب کا نیا ہتھیار! ستائیسویں قسط

داعش؛ دنیائے کفر کی افواج کے لیے تجرباتی میدان!
داعش کی مبغوض تنظیم نے بظاہر خود کو مغرب دشمن اور اسلامی خلافت کے دعوے دار کے طور پر پیش کیا، لیکن حقیقت میں یہ مغربی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کا ایک ذریعہ بن گئی۔ ان اہم خدمات میں سے ایک، جو داعش نے اسلام دشمنوں کے لیے انجام دی، وہ یہ تھی کہ اس نے حقیقی جنگ کا ایک میدان فراہم کیا؛ ایسا میدان جہاں مغربی خصوصی افواج اور نجی سکیورٹی کمپنیاں تربیت حاصل کر سکیں، اور اپنی عسکری صلاحیتوں کو بہتر بنا سکیں۔

یقیناً، افواج کے لیے، خصوصاً خصوصی دستوں کے لیے، عملی تجربہ بنیادی ضرورت ہے۔ یہ تجربہ ایسی چیز نہیں جو فرضی تربیتی ماحول میں حاصل ہو؛ بلکہ یہ صرف حقیقی اور خطرناک میدانوں میں ہی ممکن ہے۔ مغرب نے اس موقع کے لیے طاقتور افواج کے ساتھ براہِ راست تصادم کرنے کے بجائے، داعشی میدان سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔

امریکا، برطانیہ اور بعض یورپی ممالک کی خصوصی افواج نے داعش مخالف کارروائیوں کے دوران اپنی صلاحیتوں کو شہری جنگ، غیر روایتی لڑائیوں، ڈرونز کے استعمال اور خطرناک علاقوں میں آپریشنز کے میدان میں مضبوط کیا۔

زیادہ تر وہ آپریشنز، جنہیں میڈیا میں ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ کے طور پر پیش کیا گیا، حقیقت میں مغرب کی نئی عسکری حکمتِ عملیوں کی آزمائش کا میدان تھے۔ دوسرے لفظوں میں، داعش نے تربیتی دشمن کا کردار ادا کیا؛ ایسا دشمن جس کا خرچ عراق، شام اور دیگر مظلوم ممالک نے اٹھایا، مگر اس کا نتیجہ مغربی افواج کی جنگی صلاحیتوں میں اضافہ تھا۔

خصوصی سکیورٹی کمپنیاں، جو کرائے کے فوجیوں کی تربیت کا کام کرتی تھیں، نے بھی داعش کی موجودگی سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا۔ ان کمپنیوں کو ضرورت تھی کہ اپنی خدمات فروخت کرنے کے لیے حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں کو یہ دکھا سکیں کہ ان کے اہلکار حقیقی جنگوں میں آزمائے جا چکے ہیں؛ اور اس مقصد کے لیے داعش نے بہترین میدان فراہم کیا تھا۔

انہیں موقع ملا کہ وہ اپنے اہلکاروں کو حقیقی حالات میں تربیت دیں اور ان سے عملی کام لیں۔ تیل کی تنصیبات کی حفاظت، سفارتی قافلوں کی حفاظت، جارحانہ کارروائیاں اور چھوٹے فوجی دستوں کی قیادت جیسے امور سب داعش کے میدان میں آزمائے گئے۔ یہ تجربات بعد میں ان کمپنیوں کے پیشہ ورانہ تعارف (سی وی) اور عملی سابقے کے طور پر استعمال کیے گئے، اور اسی بنیاد پر انہیں دنیا بھر میں بڑے سکیورٹی معاہدے حاصل ہوئے، جس سے انہیں بھاری منافع ہوا۔

اس طرح داعش ان کمپنیوں کے لیے ایک میدانی یونیورسٹی بن گئی؛ ایسا مقام جہاں داعش کا اندھا تشدد استاد تھا اور مغربی کرائے کے فوجی شاگرد۔ جو چیز علاقے کے عوام کے لیے موت اور بربادی کا پیغام تھی، وہی ان کمپنیوں کے لیے تجربے اور معاشی منفعت کا عظیم ذریعہ بن گئی۔

اس تجربے کا ایک اور پہلو مستقبل کے پیشہ ور کرائے کے فوجیوں کی تیاری سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ افراد جو داعش کے ساتھ یا ان کمپنیوں کے زیرِ اثر لڑے تھے، بعد میں انہی سکیورٹی کمپنیوں نے بھرتی کر لیے۔ ہزاروں سابق جنگجو، خواہ وہ داعش سے وابستہ تھے یا دیگر مسلح ملیشیاؤں سے، بعد میں افریقہ، لاطینی امریکا یا مشرقِ وسطیٰ میں کرائے کے فوجیوں کے طور پر استعمال کیے گئے۔

یہ کرائے کے فوجی، جنہوں نے داعش کے میدان میں جنگی مہارتیں، جدید ہتھیاروں کے استعمال اور کلیدی عسکری طریقے سیکھے تھے، بعد میں مغربی منصوبوں میں کام آئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ داعش محض ایک عارضی خطرہ نہیں تھی بلکہ کرائے کے فوجیوں کی ایک فیکٹری تھی جس کی خدمات براہِ راست مغرب کو فراہم ہوئیں۔

یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ مغرب نے صرف اپنی عسکری صلاحیت میں اضافہ کر کے اکتفا نہیں کیا۔ داعش کی موجودگی خطے میں طویل عسکری قیام کے لیے ایک بہانہ بن گئی۔ جب بھی عوام نے قابض افواج کے انخلا کا مطالبہ کیا، مغرب نے داعش کے خطرے کی نشاندہی کرتے ہوئے اپنے قیام کو ’’ضروری‘‘ قرار دیا۔ اس کے علاوہ، علاقائی حکومتوں کو اسلحے کی فروخت میں بھی اضافہ ہوا؛ مغربی ممالک نے داعش کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہوئے اربوں ڈالر کے ہتھیاروں کے سودے کیے۔

ایک اور زاویہ یہ ہے کہ مغربی میڈیا نے بھی داعش سے فائدہ اٹھایا۔ داعش کے تشدد کی مناظر اور پرکشش پروپیگنڈا مغربی میڈیا کے لیے ایسا مواد تھا جس سے خوف اور دہشت پھیلائی گئی اور اپنی حکومتوں کی جنگی پالیسیوں کو جواز فراہم کیا گیا۔ اس طرح داعش نہ صرف عسکری تجربے کا میدان بنی بلکہ ایک پروپیگنڈا اور اقتصادی ہتھیار بھی ثابت ہوئی۔

آخر میں، اگر ہم خطے میں داعش کے کردار کا بغور جائزہ لیں تو نظر آتا ہے کہ یہ نفرت انگیز گروہ عملی طور پر مغرب کی خدمت میں ایک ہتھیار بن گیا۔ سب سے اہم خدمت جو اس نے انجام دی وہ خصوصی افواج اور نجی سکیورٹی کمپنیوں کے لیے تربیت اور تجربہ حاصل کرنے کا حقیقی میدان فراہم کرنا تھا؛ وہی کمپنیاں جو بعد میں دیگر ممالک میں مسلمانوں کی زندگیوں کے لیے وبال جان بن گئیں۔
جو چیز مسلمان اقوام کے لیے موت، ہجرت اور بربادی تھی، وہ مغرب کے لیے عسکری طاقت میں اضافہ، کرائے کے فوجیوں کی تیاری اور مستقبل کے جنگی دستوں کی فراہمی تھی۔ نتیجتاً، داعش مغرب کی دشمن بننے کے بجائے حقیقت میں اس کی تقویت کا ذریعہ بن گئی؛ ایسا ذریعہ جو مظلوم قوموں کے خون اور دکھ سے تشکیل پایا، لیکن جس کا پھل اسلام کے دشمنوں کے ہاتھ لگا۔

Exit mobile version