داعشی خوارج نے دشمنان اسلام کی خدمت کے لئے اتنے زیادہ اور شریعت کے مخالف اقدامات کیے ہیں کہ انہیں ایک کتاب میں سمیٹنا ممکن نہیں اور نہ ہی مختصر مضامین کے ایک سلسلے میں اُن کا مکمل احاطہ ممکن ہے۔ تاہم جو کچھ ہم نے اس سلسلے میں ’’ داعشی خوارج؛ اسلام کے خلاف مغرب کا نیا ہتھیار‘‘ کے عنوان سے پیش کیا، وہ اُن کے دنیائے کفر کے لیے کی جانے والی خدمات کا محض نمونہ از خروارے تھا۔
داعشی خوارج کے تلخ تجربات نے واضح کیا ہے کہ جب بھی امتِ مسلمہ علم و علماء، مقدس دینی مراکز اور اسلامی وحدت سے دور ہو جاتی ہے تو میدان دشمنوں کے انحرافی افکار اور باطل منصوبوں کے نفوذ کے لیے کھل جاتا ہے۔ انہی راستوں سے وہ اپنی تمام توانائیاں اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے پر لگاتے ہیں۔
بلاشبہ وہ ضربیں جو اس گمراہ گروہ نے اسلام کے نام پر، توحید کے نعروں تلے، خلافت اور شریعت کے نفاذ کے عنوانات کے پردے میں چھپ کر اسلام کے جسم پر لگائیں، معاصر تاریخ میں کم ہی لوگ کر پائے ہوں گے یا ان کے برابر جا سکیں گے۔ وہ گہرے زخم جو بہت سے اسلامی ممالک میں اب بھی جلتے ہوئے نشان کی صورت میں موجود ہیں، اس بات کے گواہ ہیں۔
مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنا، جہادی جماعتوں کے خلاف جنگ مسلط کرنا، اسلام کی بدنامی، امت کے علماء کا قتل، اسلامی شہروں کی تباہی، مسلمانوں کا بے گھر ہونا، مسلمانوں کا قتل عام، جہادی قائدین کا قتل، دینی علماء کا تکفیر کرنا، اسلامی ممالک کی بدنامی، اسلامی ممالک کے قبضے کے لیے راستے ہموار کرنا، مسلم ممالک کو تقسیم کرنا، بیرونی امداد کے ذریعے اسلامی ممالک کو مشروط کرنا، علاقائی قدرتی وسائل کی لوٹ، دینی مراکز اور علماء کے وقار کو پامال کرنا، غاصب قوتوں کے جرائم کو جائز ٹھہرانا، علاقائی و بین الاقوامی اسلام مخالف اتحادوں کی تیاری کرنا، خلافت کے نام سے امت کا اعتماد ختم کرنا اور مسلمانوں کے خلاف خفیہ و جاسوسی منصوبوں کو مضبوط کرنا؛ یہ سب داعشی خوارج کے شرمناک کارناموں کا حصہ ہیں۔
یہ تمام اقدامات جو صریحاً اسلام اور اس کی پاکیزہ تعلیمات کے خلاف ہیں، دراصل ان کے قدم قدم پر اُن کے مغربی آقاؤں کی خواہشات کی تکمیل کے لیے اٹھائے گئے۔ ان تمام بے بنیاد دعوؤں کے باوجود وہ نہ تو اسلام کے مفاد میں رہے اور نہ ہی مسلمانوں کے لیے۔
اب جب کہ خوارج کا فتنہ بڑے پیمانے پر اسلامی معاشروں سے ختم ہو چکا ہے، ان کے نقاب گر چکے ہیں اور ملتِ اسلامیہ نے ان لوگوں کی حقیقت سمجھ لی ہے، تو ہماری ذمہ داری ہے کہ اس کینسر جیسے گروہ کے بارے میں مزید آگاہی فراہم کریں اور امت کی آئندہ نسلوں کو اُن زہریلے فتنوں کے خطرات سے آگاہ کریں۔
ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ اگرچہ داعشی خوارج ختم ہو چکے ہیں، مگر ان کی خیانت اور تباہ کاری کے نشانات امت کے بدن پر باقی ہیں؛ شہروں کی تباہی سے لے کر جہاد کے مقدس نام کی بدنامی تک؛ انہوں نے ایسا برا ورثہ چھوڑا ہے جس کے ازالے کے لیے امت کی بیداری ضروری ہے۔
مگر جو چیز باقی رہ گئی ہے وہ امت کا مضبوط ایمان اور آنے والی نسلوں کی آگاہی ہے، جو اب جھوٹے نعروں کے فریب میں نہیں آئیں گی۔ اس بار امتِ مسلمہ ہوشیار ہے اور وہ اپنے دشمنوں کو اجازت نہیں دے گی کہ دین اسلام کے نام پر اسلام کے بدن میں خنجر گھونپیں۔




















































