Site icon المرصاد

داعشی خوارج کے ذرائع آمدن کی نوعیت | بارہویں قسط

انسانی اسمگلنگ کی عالمی آمدنی (١)
انسانی اسمگلنگ بیسویں صدی کے اُن پیچیدہ اور انتہائی منافع بخش جرائم میں شمار ہوتی ہے، جنہیں کئی دہشت گرد تنظیمیں اپنے مالی وسائل کی فراہمی کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ داعش نے انسانی اسمگلنگ کو اپنی جنگی اخراجات پورے کرنے اور اپنے نظریاتی مقاصد نافذ کرنے کا ایک اہم ذریعہ بنایا۔ عراق، شام اور اُن علاقوں میں جو ان کے زیرِ تسلط تھے، داعش نے وسیع اسمگلنگ نیٹ ورک قائم کیے اور اس سے آگے بھی متاثرین کو دوسری جگہوں تک منتقل کیا۔

اقوامِ متحدہ، ہیومن رائٹس واچ، انٹرپول، ایف اے ٹی ایف اور متعدد دیگر اداروں کی رپورٹس کے مطابق داعش نے ۲۰۱۴ء سے ۲۰۱۷ء کے دوران انسانی اسمگلنگ کے ذریعے کروڑوں ڈالر کی آمدنی حاصل کی۔ داعش خاص طور پر عورتوں اور لڑکیوں کو، جو زیادہ تر یزیدی برادری اور دیگر مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھتی تھیں، اغوا کرکے غلاموں کی منڈیوں میں فروخت کرتی تھی۔ یہ منڈیاں چاہے جسمانی طور پر موجود ہوں یا آن لائن، دونوں صورتوں میں داعش کے براہِ راست مالی وسائل کا ایک بڑا ذریعہ تھیں۔

اغوا کے بعد اکثر خواتین کو جبراً داعش کے جنگجوؤں سے نکاح کے لیے مجبور کیا جاتا، مگر یہ شادیاں درحقیقت جنسی استحصال کی شکل تھیں۔ یہ عمل نہ صرف خوف و ہراس اور کنٹرول کے لیے استعمال ہوتا بلکہ اس کے ذریعے داعش کو اپنے شدت پسند حامیوں سے بیرونی مالی مدد بھی حاصل ہوتی۔

داعش نے بچوں کو بھی نہیں بخشا۔ وہ بچوں کو اغوا کر کے جنگ، جاسوسی اور پروپیگنڈا مہمات میں استعمال کرتی۔ ان میں سے بہت سے بچوں کو خودکش حملوں کے لیے تیار کیا جاتا اور انہیں تشہیری ویڈیوز اور مہمات کا حصہ بھی بنایا جاتا۔

یوں داعش نے انسانی اسمگلنگ کو نہ صرف مقامی مالی منفعت کے لیے ایک وسیلہ بنایا بلکہ اس کے ذریعے بیرونی شدت پسند حامیوں کی توجہ بھی حاصل کی اور ان سے بھاری مالی امداد وصول کرنے میں کامیاب ہوئے۔

داعش کی انسانی اسمگلنگ کی ساخت:
داعش نے انسانی اسمگلنگ کی سرگرمیوں کو مضبوط بنانے کے لیے وسیع علاقائی اور بین الاقوامی نیٹ ورکس قائم کیے تھے، جو تین بنیادی حصوں پر مشتمل تھے:
اول: مقامی اسمگلر، جو خاص طور پر عراق، شام اور ترکی میں سرگرم تھے۔ یہ لوگ انسانی اغوا، نقل و حمل اور استحصال کا پورا نظام چلاتے تھے۔
دوم: بین الاقوامی نیٹ ورکس، جن کے ذریعے یورپ اور شمالی افریقہ کے اسمگلنگ گروہ انسانوں کو مشرقِ وسطیٰ سے دیگر ملکوں تک منتقل کرتے تھے۔
سوم: آن لائن پلیٹ فارمز، جیسے ٹیلیگرام، فیس بُک، واٹس ایپ اور ڈارک ویب، جہاں پر متاثرین کے اعلانات، خرید و فروخت اور لین دین کی ہم آہنگی کی جاتی تھی۔

اس کے علاوہ داعش جعلی دستاویزات اور غیرقانونی ہجرت کے راستوں سے بھی فائدہ اٹھاتی تھی تاکہ متاثرین کو یورپ اور وسطی ایشیا تک پہنچایا جا سکے۔ یہ منظم اور پیچیدہ نیٹ ورک داعش کے لیے ایک بڑی آمدنی کا ذریعہ تھا، جس کے ذریعے وہ بھاری مالی وسائل اکٹھے کرتی تھی۔
اقوامِ متحدہ اور انسدادِ دہشت گردی تحقیقی مراکز کی رپورٹس کے مطابق، داعش صرف یزیدی خواتین اور لڑکیوں کی خرید و فروخت سے سالانہ ۲۰ سے ۴۰ ملین ڈالر تک آمدنی حاصل کرتی تھی۔

تیل اور قدیم نوادرات کی چوری کے بعد، انسانی اسمگلنگ داعش کے بیرونی مالی ذرائع میں سے ایک اہم ذریعہ شمار ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ بعض رپورٹس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ’’جہاد النکاح‘‘ کے نام پر عورتوں کی فروخت کے لیے خلیجی ممالک سے بھی نجی مالی مدد فراہم کی جاتی تھی۔ یہ مکروہ سرگرمیاں نہ صرف انسانیت کے لیے ایک بڑا المیہ تھیں بلکہ خطے اور یورپ میں مہاجرین اور پناہ گزینوں کو اسمگلنگ اور استحصال کے شدید خطرے سے دوچار کرتی تھیں۔

اگرچہ داعش کا ظاہری خلافتی ڈھانچہ ختم ہوچکا ہے، تاہم اس کی اسمگلنگ نیٹ ورکس آج بھی فعال ہیں، بالخصوص شمالی افریقہ اور وسطی ایشیا کے راستوں سے یہ سلسلہ جاری ہے۔

بین الاقوامی ادارے جیسے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل، یوروپول (Europol) اور ایف اے ٹی ایف (FATF) اس رجحان کے خلاف سنجیدہ اقدامات کر چکے ہیں، جن میں مالی وسائل کا انسداد، آن لائن ادائیگیوں پر نظر رکھنا اور اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کو ختم کرنا شامل ہے۔ تاہم اگر عالمی برادری نے انسانی اسمگلنگ کے مالی ذرائع پر مکمل طور پر قابو نہ پایا، تو یہ قبیح عمل دیگر دہشت گرد تنظیموں کے لیے بھی ایک نمونہ اور محرک ثابت ہوگا۔

یہ کہا جاسکتا ہے کہ انسانی اسمگلنگ داعش کے اُن بڑے مالی وسائل میں سے ایک رہی ہے، جو نہ صرف جنگ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے استعمال ہوئی بلکہ لوگوں میں خوف، نفرت اور کنٹرول قائم رکھنے کے لیے بھی۔ یہ ناپاک عمل صرف ایک معاشی خطرہ نہیں بلکہ ایک سنگین انسانی المیہ ہے، جس کے تدارک کے لیے عالمی سطح پر ہم آہنگی اور مؤثر جدوجہد ناگزیر ہے۔

Exit mobile version