انسانی اسمگلنگ سے عالمی آمدنی (2)
عالمی دستاویزی رپورٹس اور تحقیقات کے مطابق، داعش نے انسانی اسمگلنگ کے ذریعے کروڑوں ڈالر کی آمدنی حاصل کی، خاص طور پر ان کے عروج کے دور (2014–2017) میں۔ یہ مالیاتی آمدنی نہ صرف اس گروہ کے لیے ہتھیاروں اور سازوسامان کی فراہمی کا بنیادی ذریعہ تھی، بلکہ ان کی پروپیگنڈہ مہمات، خلافت کی انتظامیہ، اور بیرونی آپریشنز کے مالی وسائل کی ایک اہم جزو بھی تھی۔
داعش کی ایک اہم اور شرمناک آمدنی کا ذریعہ یزیدی خواتین اور لڑکیوں کی اسمگلنگ تھا۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر، یونیسیف، اور دہشت گردی کے مالیاتی وسائل کے خلاف تحقیقاتی مراکز کی رپورٹس کے مطابق، داعش نے 2014 سے 2016 تک صرف یزیدی خواتین اور لڑکیوں کے اغوا، استحصال، اور فروخت سے تقریباً 20 سے 40 ملین ڈالر کی آمدنی حاصل کی۔ ان خواتین کو داعش کے مسلح جنگجوؤں کے ہاتھوں اغوا کیا جاتا تھا اور جنسی غلامی کے بازاروں میں پیش کیا جاتا تھا۔
اس کے علاوہ، داعش نے عمومی انسانی اسمگلنگ کے طریقوں سے بھی وسیع پیمانے پر منافع کمایا۔ عالمی رپورٹس کے مطابق، ان سرگرمیوں میں جنسی استحصال، جبری مشقت، بچوں کو جنگ کے لیے بھرتی کرنا، اور غیر قانونی ہجرت شامل تھی۔ Financial Action Task Force (FATF) ، Counter Extremism Project، اور Global Initiative Against Transnational Organized Crime کی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ داعش نے ان سرگرمیوں سے ہر سال 25 سے 100 ملین ڈالر تک کی آمدنی حاصل کی، جو اس کے سالانہ بجٹ کا 10 سے 30 فیصد حصہ بنتی تھی۔
ٹریفکنگ ان پرسنز (TIP) رپورٹ اور اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم (UNODC) کے مطابق، داعش نے انسانی اسمگلنگ کے ذریعے نہ صرف آمدنی حاصل کی بلکہ اس ذریعے سے انتہا پسند حامیوں سے بھی مالی امداد حاصل کی۔ جنسی استحصال کی ویڈیوز، آن لائن اشتہارات، اور ڈارک ویب کے استعمال نے اس گروہ کو لوگوں کے استحصال سے ایک کاروباری بازار کے طور پر فائدہ اٹھانے کی سہولت فراہم کی۔
داعش کے اسمگلنگ آپریشنز کی ایک اور اہم خصوصیت یہ تھی کہ وہ جعلی دستاویزات، جعلی ہجرت کے کاغذات، اور خفیہ اسمگلنگ کے راستوں کے ذریعے متاثرین کو مشرق وسطیٰ سے یورپ، افریقہ، اور ایشیا منتقل کرتے تھے۔ اس قسم کے اقدامات نے نہ صرف داعش کی مالی آمدنی کو بڑھایا بلکہ علاقائی عدم استحکام اور ہجرت کے بحران کے پھیلاؤ کا سبب بھی بنے۔
انسانی اسمگلنگ کے انتظام کے لیے داعش نے جدید آن لائن ٹولز کا استعمال کیا، جن میں ٹیلیگرام، فیس بک، واٹس ایپ، اور ڈارک ویب شامل تھے، تاکہ متاثرین کا اشتہار دیا جائے، انہیں فروخت کیا جائے، اور منتقل کیا جائے۔ یہ نیٹ ورک اتنا منظم اور خفیہ تھا کہ دہشت گردی کے مالیاتی ذرائع کا سراغ لگانے والے عالمی نظام اس کے سامنے مشکلات کا شکار ہوئے۔
آخر میں، عالمی معتبر رپورٹس کے مطابق، داعش نے انسانی اسمگلنگ کے ذریعے اپنی سالانہ آمدنی کا ایک بڑا حصہ پورا کیا، جو خاص طور پر خواتین، لڑکیوں، بچوں، اور غیر قانونی مہاجرین کے استحصال سے حاصل ہوتا تھا۔ اس آمدنی کا تخمینہ 20 سے 100 ملین ڈالر کے درمیان لگایا جاتا ہے، اور اس رقم نے داعش کے جنگی اور پروپیگنڈہ سرگرمیوں کے مالی وسائل کے لیے کلیدی کردار ادا کیا۔




















































