Site icon المرصاد

داعش اور فوج ایک ہی سکے کے دو رخ!

گزشتہ روز شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کی شہادت اور اس کے فوراً بعد داعش خراسان کی پاکستانی شاخ کی جانب سے ذمہ داری کی قبولیت نے ملک کے پاکستانی فوجی بیانیے میں کئی شگاف واضح کر دیے ہیں۔
اس واقعے میں سب سے زیادہ چونکا دینے والا پہلو داعش کا وہ بیانیہ اور پروپیگنڈا ہے، جس میں اس کارروائی کو ‘افغان سرحد کے قریب’ قرار دیا گیا۔
حالاں کہ جائے وقوعہ چارسدہ سرحد سے 100 کلومیٹر دور ایک گنجان آباد شہری علاقہ ہے۔

داعش کا یہ جغرافیائی مغالطہ اُس الزام کو سچ ثابت کرتا ہے کہ اس دہشت گرد تنظیم کی ڈوریاں پاکستانی فوج کے GHQ سے ہلائی جا رہی ہیں۔ کیوں کہ ‘افغان سرحد کے قریب’ کا بیانیہ ہمیشہ پاکستانی فوج ہی امارت اسلامی کے خلاف استعمال کرتی ہے۔ چناں چہ داعش کی طرف سے پاکستانی فوجی بیانیے کے استعمال کا مقصد صرف اور صرف پاکستان کے اندرونی خراب ترین حالات کا ذمے دار افغانستان کو قرار دینے کی فوجی سازش کا حصہ ہے۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ پاکستانی سیاسی و فوجی حلقوں نے ہمیشہ علماء اور مذہبی طبقے کو اپنے تزویراتی مقاصد کے لیے ایندھن کے طور پر استعمال کیا ہے۔

جب ضرورت پڑی تو انہیں ‘مجاہدین’ بنا کر جنگ زدہ علاقوں میں بھیج دیا گیا اور جب عالمی دباؤ بڑھا یا پالیسی بدل گئی تو انہی علماء کو خود یا داعش جیسے دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید کرا دیا گیا۔
آج خیبر پختونخوا کے جید علماء جس طرح چن چن کر نشانہ بنائے جا رہے ہیں، اس سے یہ الزام حقیقت بنتا جا رہا ہے کہ پاکستانی فوج نے ان شخصیات کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے بعد دہشت گردوں کے ہاتھ فروخت کر دیا ہے۔

یہ ایک المناک حقیقت ہے کہ جو علماء پاکستانی ریاست اور فوج کے بیانیے کا ساتھ دیتے ہیں، وہی سب سے پہلے داعش جیسی تنظیموں کی گولی کا شکار بنتے ہیں۔
اب پاکستان کے عوامی اور سیاسی حلقوں میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا داعش اور فوج کے درمیان کوئی خفیہ ‘مفاہمت’ موجود ہے؟

داعش کا شہری علاقوں میں اس قدر منظم ہونا اور پھر سرحد قریب کے فوجی بیانیے جیسے دعوے کرنا اس الزام کو سچ ثابت کرتا ہے کہ ‘یہ تنظیم ایک ایسی ‘سہولت کار’ کے طور پر کام کر رہی ہے، جو فوج کو مخصوص علاقوں میں امریکی مقاصد کے لیے فوجی آپریشنز کا جواز فراہم کرتی ہے۔’
وادی تیراہ کی مثال ہمارے سامنے ہے، جہاں دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر مقامی آبادی کو یخ سردیوں میں بے دردی سے بے دخل کیا گیا، مگر نتیجہ امن کے بجائے داعش کی مزید مضبوطی کی صورت میں نکلا۔

اب اس الزام میں کوئی شک نہیں رہا ہے کہ پاکستانی فوج داعش کو ایک ‘ہوّے’ کے طور پر پال کر سیاسی مخالفین یا غیر ضروری ہو جانے والے مذہبی عناصر کو راستے سے ہٹانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
پاکستان میں داعش کی ثابت شدہ موجودگی اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی، لیکن اس کی جڑیں زمین سے زیادہ اُن ‘سیف ہاؤسز’ اور ‘تزویراتی پالیسیوں’ میں نظر آتی ہیں، جہاں سے اسے آکسیجن فراہم کی جاتی ہے۔

شیخ ادریس کی شہادت نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کے علماء اب دو دھاری تلوار پر کھڑے ہیں۔ وہ ایک طرف دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں اور دوسری طرف ریاست کی وہ دوغلی پالیسی ہے، جو انہیں اپنے بیانیے کے لیے استعمال کرنے کے بعد تحفظ فراہم کرنے میں یا تو نااہل ہے یا پھر جان بوجھ کر غافل بن رہی ہے۔

اگر پاکستانی فوج واقعی داعش کے خلاف سنجیدہ ہوتی تو شہروں کے بیچوں بیچ علماء کا یوں قتلِ عام ممکن نہ ہوتا۔ اگر ایک عالمِ دین خیبرپختونخوا کے ہر وقت فوجی محاصرے میں رہنے کے باوجود شہید ہو رہا ہے تو واضح ہے کہ یہ حادثہ محاصرہ کرنے والی فوج کی نگرانی میں پیش آیا ہے۔

یہ وقت ہے کہ پاکستان کے عوام، خصوصاً علمائے کرام کو پاکستانی فوج کی اس ‘وار اکانومی’ اور علماء کے لہو سے کھیلے جانے والے تزویراتی کھیل کو بند کرنے کے لیے خود کو متحد اور مضبوط کریں، ورنہ علمائے کرام کو جو بچا کھچا وجود باقی ہے، وہ بھی فوج کے اس خونی کھیل کی نذر ہو جائے گا۔ نعوذ باللہ!

Exit mobile version