Site icon المرصاد

داعش خراسان کے انتہا پسند اور جاہل علماء! پہلی قسط

ہر معاشرے میں جو اصلاح یا فساد پیدا ہوتا ہے تو اس کا منبع معاشرے کا ایک اہم طبقہ ہوتا ہے، جسے علماء کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہی لوگ معاشرے کو اصلاح یا فساد کی طرف لے جاتے ہیں، کیونکہ معاشرے میں فکری اور اخلاقی رہنمائی کی تقویت میں ان کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔ اسی طرح لوگوں تک دین کی صحیح سمجھ پہنچانا اور اس کی تبلیغ کرنا بھی انہی کی ذمہ داری ہے۔

لیکن جب یہی اہم طبقہ اپنی اصل ذمہ داری سے منحرف ہو جائے، دین کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے مسخ کرے، اور میانہ روی و اعتدال کے بجائے متشدد فہم کو ترجیح دے، تو پھر اسے انبیاء کا وارث نہیں بلکہ “ناکام عالم” کہا جاتا ہے۔ انتہا پسند اور ناکارہ علماء کی موجودگی نہ صرف دین کو بدنام کرتی ہے بلکہ معاشرے کے افراد اور اپنے پیروکاروں کو روشنی کے بجائے اندھیروں میں رکھتی ہے اور سیدھے راستے کے بجائے ٹیڑھے میڑھے راستوں پر ڈال دیتی ہے۔

مذکورہ انتہا پسند علماء کی بہترین مثال موجودہ دور میں داعشی خوارج کی خراسان شاخ کے جاہل اور متشدد علماء ہیں، جنہوں نے گزشتہ برسوں میں افغانستان میں انتہا پسندانہ پراپیگنڈہ کے ذریعے افغان مسلمان عوام، خصوصاً مذہبی طبقے کی فکری گمراہی کے لیے متعدد منصوبے شروع کیے ہیں۔ لیکن سب سے زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ اس گروہ کی پراپیگنڈہ مہم ایسے افراد کے ذریعے چلائی جاتی ہے جو خود کو “علماء” کہتے ہیں، حالانکہ نہ تو ان کے پاس گہری دینی بصیرت ہے اور نہ ہی وہ اسلامی نصوص کی درست تعبیر پیش کرتے ہیں، بلکہ وہ ان کی متشدد اور غلط تشریح کرتے ہیں، جس کی مثال خیر القرون کے دور میں نہیں ملتی۔

خارجی منصوبے کی قیادت اور اس کی پراپیگنڈہ پیداوار میں پائی جانے والی جہالت اور شدت کی چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں، تاکہ قارئین کے سامنے ان کا انتہا پسندانہ موقف واضح ہو جائے اور حقیقت آشکار ہو، تاکہ لوگ تاریکی کے پیروکاروں کے بجائے روشنی کے پیروکاروں کا ساتھ اختیار کریں:

۱۔ داعش خراسان کی پراپیگنڈہ مہم کا اصولی انحراف

یہ گروہ بنیادی اصولوں میں اہل السنۃ والجماعۃ کے اصول، خصوصیات اور امتیازات سے ناواقف ہے۔ اسلام کے ابتدائی دور میں خارجی فکر کے جو اصول تھے، انہیں یہ اہل السنۃ و الجماعت کے اصول کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر تکفیر (کسی کو کافر قرار دینا) کے مسئلے میں سخت گیر رویہ اختیار کرتے ہیں۔ جو شخص بھی ان کے متشدد منہج سے متفق نہ ہو، اسے “مرتد” یا “طاغوت کا حامی” قرار دیتے ہیں۔

اس قسم کی انتہا پسندانہ تکفیر اسلامی تاریخ میں ہمیشہ منحرف گروہوں کی علامت رہی ہے، کیونکہ یہ لوگ شرعی دلائل (قرآن، حدیث، اجماع اور شرعی استدلال) سے ظاہری اور جزوی مفہوم اخذ کرتے ہیں، بغیر اس کے کہ اسلامی فقہ کے اصول، مقاصدِ شریعت اور امت کے اجماعی اصولوں کو پیش نظر رکھیں۔

مزید وضاحت کے لیے عرض ہے کہ موجودہ خوارج اپنے اسی انتہا پسندانہ اور جاہلانہ اصول کی بنا پر امت کی اکثریت کو کافر قرار دیتے ہیں، جن میں تمام جہادی، سیاسی اور مذہبی جماعتیں شامل ہیں، سوائے اپنے آپ کے جو ایک خیالی خلافت کے دعوے کے تحت جمع ہوئے ہیں۔ خاص طور پر وہ مقدس مجاہدین، جنہوں نے برسوں تک مغربی اتحاد کے مقابلے میں اسلام، مسلمانوں اور اسلامی مقدسات کے دفاع کے لیے اپنی جانیں وقف کیے رکھیں، انہیں بھی اپنی جہالت اور سطحی فہم کے نتیجے میں کافر قرار دیا، ان کے خون، مال اور جان کو حلال سمجھا۔ یہ متشدد اصول ان کی جہالت کی کھلی گواہی ہے۔

یہاں تک کہ انہوں نے اپنی ہی جماعت کے بہت سے افراد کو بھی اس وقت کافر قرار دیا اور ان سے توبہ کا مطالبہ کیا، جب وہ امارت اسلامیہ کے مجاہدین کے سخت حملوں کے نتیجے میں سابقہ جمہوری حکومت کے حکام کے سامنے ہتھیار ڈال کر ان کے ساتھ جا ملے۔ بعد ازاں ان کے قاضیوں نے اپنے انہی تسلیم شدہ پیروکاروں کو مرتد قرار دے کر ان سے دوبارہ ایمان لانے کا مطالبہ کیا۔ یوں یہ لوگ تکفیر کے کلمے کو اپنی غذا کی طرح ہر جگہ استعمال کرتے ہیں، حالانکہ یہ اسلام کی نظر میں غیر شرعی تکفیر ہے۔

Exit mobile version