صومالیہ میں ناکام ظہور
دنیا کے کسی بھی کونے میں داعش کی موجودگی نے امت مسلمہ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا، بلکہ اس فرقے نے جہاں بھی وار کیے، ان کا ہدف ہمیشہ مسلمان ہی رہے ہیں اور آئندہ بھی یہی ہوگا۔ اسی سلسلے کی کڑی کے طور پر، صومالیہ میں اس گروہ کے ظہور اور وہاں اس کی جانب سے مجاہدین کو پہنچائے گئے نقصانات کو چند نکات میں بیان کیا جاتا ہے:
۱- صومالیہ کے تاریخی اور معاشرتی حالات
صومالیہ میں داعش کو سمجھنے کے لیے ملک کی عمومی صورتحال پر نظر ڈالنا ضروری ہے:
• 1991ء سے مرکزی حکومت کا سقوط۔
• طویل خانہ جنگی، شدید غربت اور نوجوانوں میں وسیع پیمانے پر بے روزگاری۔
• خطے میں مظلوموں کے محافظ کے طور پر الشباب کی طویل موجودگی اور بین الاقوامی برادری کی جانب سے اس کے خلاف کارروائیاں۔
اسی ماحول میں داعش مکمل خلا سے پیدا نہیں ہوئی، بلکہ منظم اور سوچے سمجھے انداز میں بین الاقوامی خفیہ حلقوں کی سرپرستی میں ابھری۔
۲- صومالیہ میں داعش کی تشکیل (2015ء)
صومالیہ میں داعش ان گمراہ اور فریب خوردہ افراد کے ذریعے سامنے آئی جن میں اکثریت جذباتی نوجوانوں کی تھی۔
تقسیم کے بنیادی عوامل:
• نظریاتی اختلاف: الشباب کا تعلق القاعدہ سے تھا، جبکہ داعش خود کو “عالمی خلافت” قرار دیتی تھی۔
• اقتدار اور قیادت کا اختلاف: بعض مقامی کمانڈروں کو الشباب میں نظر انداز کیے جانے کا شکوہ تھا۔
• 2014–2016ء کے دوران داعش کے عروج کے زمانے میں اس کی پراپیگنڈہ کشش کا اثر۔
پہلا رہنما:
عبدالقادر مؤمن، جو پنٹ لینڈ کا رہائشی تھا۔ اس نے داعش کے ساتھ بیعت کا اعلان کر کے اس شاخ کی بنیاد رکھی۔
۳- سرگرمیوں کا محل وقوع
صومالیہ میں داعش زیادہ تر درج ذیل علاقوں میں سرگرم رہی:
• پنٹ لینڈ (شمال مشرق)
• دشوار گزار اور پہاڑی علاقے، جیسے گولیس کے پہاڑ۔
ان علاقوں کے انتخاب کی وجوہات:
• آمد و رفت کی دشواری
• حکومتی کنٹرول کی کمزوری
• الشباب مجاہدین کے زیرِ اثر مرکزی علاقوں سے فاصلہ
۴- صومالیہ میں داعش کے جرائم کی نوعیت
اس گروہ کے جرائم کو چند پہلوؤں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
الف) نمائشی اور اعلانیہ تشدد
داعش نے جان بوجھ کر کھلے عام اور نمائشی تشدد کا راستہ اختیار کیا:
• عوام کے سامنے سر قلم کرنا
• سزاؤں کی ویڈیو بنا کر نشر کرنا
• لاشوں کو عوامی مقامات پر چھوڑ دینا
مقاصد:
• خوف پھیلانا
• میڈیا کی توجہ حاصل کرنا
• عراق اور شام میں داعش کے ماڈل کے ساتھ “وفاداری” ظاہر کرنا
یہاں تک کہ اس معاشرے میں بھی، جو برسوں سے جنگ کا تجربہ رکھتا تھا، تشدد کی یہ سطح غیر معمولی اور شدید دھچکا دینے والی تھی۔
ب) شہریوں کا قتل
متاثرین صرف حکومتی و فوجی اہلکار نہیں تھے:
• قبائلی عمائدین جو داعش سے تعاون پر آمادہ نہ تھے،
• وہ دینی علماء جو مختلف مذہبی تعبیرات رکھتے تھے،
• تاجر اور ماہی گیر جو بھتہ دینے سے انکار کرتے تھے۔
ان اقدامات نے داعش کے لیے انتہائی محدود معاشرتی بنیاد چھوڑ دی۔
ج) ٹارگٹ کلنگ
• الشباب کے مجاہدین،
• سرگرم علماء،
• پنٹ لینڈ کی پولیس فورس۔
یہ قتل عموماً:
• اچانک حملوں کی صورت میں
• بم دھماکوں یا ہلکے ہتھیاروں کے ذریعے
• “اثر و رسوخ” دکھانے کے مقصد سے کیے جاتے تھے۔
د) زبردستی بھتہ وصولی اور جبری ٹیکس
داعش مالی وسائل جمع کرنے کے لیے درج ذیل طریقے استعمال کرتی تھی:
• قتل کی دھمکیاں
• اغوا
• املاک کو جلانا
ان کارروائیوں نے علاقے کے غریب عوام پر اضافی اور شدید بوجھ ڈال دیا۔
۵- الشباب کے ساتھ خونی تعلقات
اہم نکتہ یہ ہے کہ داعش اور الشباب ایک دوسرے کے کھلے دشمن ہیں۔ الشباب نے داعش کے متعدد مشتبہ افراد کو اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں سے نکال دیا، اور دونوں گروہوں کے درمیان براہِ راست مسلح جھڑپیں بھی ہوئیں۔




















































