افریقہ میں نفوذ، مگر سخت شکست کے ساتھ
پچھلی قسطوں میں جہاں ہم نے شام اور عراق میں اہل سنت کے خلاف داعش کے جرائم پر مختصر بات کی تھی، اب افریقی مسلمانوں کے خلاف اس گروہ کی بے شمار غداریوں اور جرائم کو سامنے لا رہے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ داعش کے جرائم نہ تو ختم ہونے والے ہیں اور نہ ہی ان کا مکمل بیان ممکن ہے۔ اس کے تشدد کی کالی گھٹائیں ایشیا سے افریقہ تک اور یہاں تک کہ یورپ تک پھیل چکی تھیں اور پوری دنیا اس سے متاثر ہوئی تھی۔ اس تمہیدی حصے میں میں داعش کے افریقہ میں نفوذ کی صورتحال اور ان افریقی ممالک کا مختصر ذکر کروں گا جہاں یہ گروہ سرگرم عمل رہا:
۱- افریقہ میں داعش کی چھ "ولایتیں” یعنی علاقائی شاخیں:
مختلف رپورٹس کے مطابق داعش کی افریقہ میں کئی "ولایتیں” تھیں جن میں سے ہر ایک علاقائی سطح پر سرگرم تھی۔
۲- نفوذ کا طریقہ کار اور ڈھانچہ:
داعش نے افریقہ میں مرکزی ڈھانچے کی بجائے غیر مرکزی (Decentralized) نظام اپنایا تھا یعنی علاقائی شاخوں کو خودمختار فیصلہ سازی اور عمل کی بھرپور آزادی دی گئی تھی۔ وہ کمزور حکومتوں، قومی تفرقات ا ور معاشی مسائل سے فائدہ اٹھا کر اپنا وجود مضبوط کرتی رہیں۔
۳- مقامی اہل سنت کے لیے اثرات:
کئی مقامی گروہوں جیسے بوکوحرام نے داعش کی چھتری تلے آ کر خود کو اس میں شامل کر لیا یا داعش کی حمایت میں اپنا ڈھانچہ تبدیل کر لیا اور داعش کے فریب کا شکار ہو گئے۔ اس مشترکہ سرگرمی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی آپریشنل صلاحیت بڑھ گئی، تشدد کے حربے مزید سخت اور خونریز ہو گئے اور حملے زیادہ مربوط ہو گئے۔
رپورٹس کے مطابق جن ممالک میں داعش کی علاقائی شاخیں سرگرم تھیں، وہ یہ ہیں:
1. نائیجیریا – بوکوحرام کے ذریعے سرگرم
2. چاڈ – داعش کی مغربی افریقی ولایت کا حصہ سمجھا جاتا تھا
3. کیمرون – داعش کی مغربی افریقی ولایت کا دائرہ نفوذ
4. مالی – داعش کی "صحرائے اعظم/ساحل” کی شاخ (ISGS) یہاں سرگرم تھی
5. بورکینا فاسو – داعش کی ساحلی شاخ کا اہم علاقہ
6. جمہوریہ کانگو (کانگو کِنشاسا) – وسطی افریقہ کی داعش (ISCAP) کا یہاں وجود
7. موزمبیق – داعش کی خصوصی علاقائی شاخ موجود تھی
8. مراکش – داعش سے منسلک ایک گروہ کی گرفتاری نے شمالی افریقہ کی طرف نفوذ کی کوششوں کو ظاہر کیا
9. مصر – داعش کی "ولایت سینا” کے سرگرمیاں جاری تھیں
10. صومالیہ میں بھی داعش کے وجود کی رپورٹس سامنے آئیں اور کچھ تجزیوں سے سامنے آیا کہ داعش کا نظریہ مشرقی افریقہ میں بھی نفوذ حاصل کر چکا ہے۔
آنے والی اقساط میں إن شاء اللہ افریقہ میں داعش کے نفوذ کو مزید تفصیل سے بیان کیا جائے گا۔




















































