Site icon المرصاد

داعش کے ظہور کا تاریخی اور فلسفیانہ مطالعہ؛ نظریے سے عمل تک! چودھویں قسط

اسلامی فکر میں اخلاق کو بہت بلند مقام حاصل ہے، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی رسالت کا فلسفہ ‘‘مکارمِ اخلاق کی تکمیل’’ قرار دیا۔ یہ درخشاں میراث رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد خلفائے راشدین کے دور میں اس گہرائی اور نزاکت کے ساتھ جاری رہی کہ اسلامی تاریخ اس سے منور ہو گئی۔ مگر داعش نامی خود ساختہ گروہ، جس نے خلافت اسلامیہ کی بحالی کا دعویٰ کیا، نہ صرف اس اخلاقی سنت کا وارث نہ بن سکا بلکہ اپنے غیر انسانی اعمال کے ذریعے اس نے اسلامی اخلاق کے جسم پر گہرے زخم لگائے۔

یہ تکفیری گروہ جنسی غلامی کے فروغ اور انسانی عزت کی لوٹ مار کے ذریعے کھلم کھلا اس مبارک آیت کے مقابل کھڑا ہوا:

{وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ}

یہ لوگ اسلامی اخلاق کی باتیں تو کرتے تھے مگر بے گناہ عورتوں اور بچوں کو اپنی جنگ کا ایندھن بنا رہے تھے۔ یہ واضح تضاد اس وقت مزید عیاں ہو جاتا ہے جب ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ نبوی سیرت میں تو دشمن قیدیوں کے ساتھ بھی مکمل انسانی وقار کے مطابق سلوک کیا جاتا تھا

داعش کا اخلاقی نظام منظم تکفیر پر قائم تھا، گویا قرآنِ عظیم الشان نے یہ فرمایا ہی نہ ہو کہ:
{لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ}

حالانکہ اسلام کے ابتدائی ادوار میں معروف منافقین کے ساتھ بھی بڑی برداشت سے پیش آیا جاتا تھا، مگر داعش نے اجتماعی قتلِ عام اور پہلے سے طے شدہ سزاؤں کے ذریعے اسلام کے تمام اخلاقی معیاروں کو پامال کر دیا۔

اس گمراہ گروہ کا سزاؤں کا نظام تو دراصل قرونِ وسطیٰ کی سفاکیت کا ایک تماشہ تھا جسے اسلامی رنگ دے کر پیش کیا گیا۔ حالانکہ اسلامی فقہ میں حدود کے نفاذ کے لیے سخت شرائط اور سزاؤں میں تخفیف کے متعدد راستے رکھے گئے ہیں، لیکن اس تکفیری گروہ نے ان تمام پیمانوں سے آنکھیں پھیر لیں اور تاریخ کے بدترین مناظر میں نئے صفحات کا اضافہ کر دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ فقہی منابع میں آیا ہے کہ دوسرے خلیفہ نے قحط کے سالوں میں چوری کی حد کو عارضی طور پر معطل کر دیا تھا، مگر داعش نے بھوکے بچوں پر بھی رحم نہ کیا۔

اس گروہ کے پروپیگنڈہ ہتھکنڈے جھوٹ اور فریب سے بھرے ہوئے تھے۔ وہ احادیث گھڑ کر اور دینی مفاہیم کو مسخ کر کے اپنے غیر اخلاقی اور غیر انسانی اعمال کو جائز ثابت کی کوشش کرتے تھے۔ حالانکہ اسلام میں جھوٹ بولنا کبیرہ گناہوں میں شمار ہوتا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے ہمیشہ صداقت پر زور دیا۔

ایک اور تضاد اس گروہ کے قائدین کے طرزِ عمل میں پوشیدہ تھا۔ وہ عام لوگوں کو زہد و تقویٰ کی دعوت دیتے تھے مگر خود عیش و عشرت میں ڈوبے رہتے تھے۔ یہ بالکل ان کی واضح مثال ہے جن کے بارے میں قرآن نے فرمایا کہ "لوگوں کو نصیحت کرتے ہو اور خود کو بھول جاتے ہو”، ایک ایسا عمل جس سے قرآن مجید نے سختی سے منع کیا ہے۔ رپورٹس اور شواہد بتاتے ہیں کہ اس گروہ کے سربراہ اچانک دولت مند ہو گئے، جبکہ عوام کو غربت اور تنگی کی طرف دھکیل رہے تھے۔

آخر میں یہ کہنا اہم ہے کہ داعش کوئی اسلامی تحریک نہ تھی بلکہ ایک ایسا اسلام دشمن رجحان تھا جو استعماری طاقتوں کی پشت پناہی سے وجود میں آیا۔ اس گروہ کے اعمال اسلامی اخلاق سے اس قدر متصادم تھے کہ بہت سے سلفی علماء نے بھی اس کی مذمت کی۔ آج تمام مسلمانوں کا فریضہ ہے کہ حقیقی اسلام کو دنیا کے سامنے پیش کریں، اس رحمانی دین کا اصلی چہرہ انسانیت کے سامنے عیاں کریں اور آئندہ آنے والے تحریفات کا راستہ روکیں۔

Exit mobile version