موجودہ دور میں داعش جیسی افراطی اور تکفیری جماعتیں دلفریب نعروں کے ذریعے؛ جیسے اسلامی خلافت کی بحالی اور اسلام کے ابتدائی ادوار ’’سنہری دور” کی طرف واپسی جیسے نعرے لگا کر دینی اصولوں سے ناواقف سادہ لوح نوجوانوں کو اپنا ہدف بناتی ہیں۔ یہ گروہ جھوٹے وعدوں، جذباتی پروپیگنڈے، ہیرو ازم اور خیالی آرزوؤں کی دلکش مگر جھوٹی تصویروں کے ذریعے نوجوانوں کے افکار و جذبات پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور انہیں اپنے مذموم مقاصد کے لیے آلۂ کار بنا دیتے ہیں۔
دین کی صحیح سمجھ سے محرومی اور فکری تربیت کی کمزوری کے باعث بہت سے نوجوان ان فریب کاریوں کے سامنے غیر محفوظ ہو جاتے ہیں اور بے خبری میں اس تاریک اور ظالمانہ دھارے کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ داعش نہ تو اسلام کی خدمت کے لیے وجود میں آئی ہے اور نہ ہی دینی اقدار کے احیا کے لیے؛ بلکہ یہ مخصوص سیاسی مقاصد کی تکمیل کے درپے ہے اور بعض استعماری طاقتوں کے ہاتھوں میں ایک آلہ بن چکی ہے، تاکہ اسلام کی حقیقی تصویر کو مسخ کرے اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کو پارہ پارہ کر دے۔
یہ تکفیری اور تشدد پسند جماعت دینِ اسلام کی حقیقی روح سے کوئی تعلق نہیں رکھتی، بلکہ دین کی ایک سخت، مسخ شدہ اور غیر انسانی تصویر پیش کرتی ہے؛ حالانکہ حقیقی اسلام رحمت، عدل، عقلانیت اور انسانی وقار کا دین ہے اور ہر طرح کے بے رحم تشدد، نفرت انگیزی اور بے گناہ انسانوں کے قتل کی سختی سے نفی کرتا ہے۔
ایسے حالات میں داعش کے جال میں پھنسے افراد کی نجات کا سب سے مؤثر راستہ یہ ہے کہ ان کی فکری تربیت کی جائے اور انہیں اپنے عقائد اور اعمال پر غور و فکر اور ازسرِ نو سوچنے کی دعوت دی جائے۔ قرآنِ کریم بار بار انسان کو تدبر و تعقل کی طرف بلاتا اور اس کی ترغیب دیتا ہے: ’’أفلا یتدبرون‘‘، ’’أفلا یعقلون‘‘، ’’أُولُوا الْأَلْبَابِ‘‘ اور اس جیسے بے شمار دیگر ارشادات اسی طرف اشارے کرتے ہیں۔
یہ تاکیدات، ترغیبات اور قرآنی دعوتیں اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہیں کہ عقل و فکر حق و باطل میں امتیاز کا سب سے بڑا معیار ہے۔ اگر کوئی شخص لمحہ بھر کے لیے سکون اور سنجیدگی کے ساتھ داعش کے اعمال کو اسلام کی اصل تعلیمات کے ساتھ پرکھے، تو صاف طور پر یہ بات سمجھ میں آ جائے گی کہ ان دونوں کے درمیان کوئی مشابہت یا ہم آہنگی موجود نہیں۔
عقل و فکر کی طرف رجوع، دینی فہم کی درستی اور انحرافی عقائد سے نجات کی راہ ہموار کرتا ہے۔ جب انسان معقول انداز سے قرآن، سنت اور سیرتِ رسولِ اکرم ﷺ کا مطالعہ کرتا ہے تو اسے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ اسلام محبت، امن، عدل اور انسانی جان کے احترام پر قائم ہے، نہ کہ تشدد، خون ریزی اور نفرت پر۔
لہٰذا عقل و تفکر کو بیدار کرنا، اور منطق، مکالمے اور انسانی فہم کی بنیاد پر دینی شعور کو فروغ دینا، وہ بہترین راستہ ہے جس کے ذریعے نوجوانوں کو افراطیت سے نکال کر ایمان، عدل اور انسانی وقار کی شاہراہ پر واپس لایا جا سکتا ہے۔ جب انسان کے باطن میں عقل کا چراغ روشن ہو جاتا ہے تو وہ جہالت اور انتہاپسندی کے اندھیروں سے نجات پا لیتا ہے اور ایمان و رحمتِ الٰہی کی روشنی کی طرف لوٹ آتا ہے؛ اس مقام کی طرف جہاں حقیقی اسلام کی روح زندہ ہے، اور انسان محبت، سکون اور انسانیت کا پیغام رساں بن جاتا ہے۔




















































