اسلامی تاریخ میں ہمیشہ ایسی گروہوں نے جنم لیا جنہوں نے دینی تصورات کا غلط استعمال کرتے ہوئے اور مقاصد شریعہ کو مسخ کرتے ہوئے سب سے سنگین وار اسلام کے دشمنوں پر نہیں، بلکہ خود امت مسلمہ پر کیے۔ ان گروہوں میں سے ایک خوارج العصر یعنی داعشی ہیں، جو "کفار کے خلاف جہاد” کے نعرے کے ساتھ میدان میں اترے، لیکن عملی طور پر ان کے جنگ و تشدد کی آگ نے سب سے زیادہ مسلمانوں کے دامن کو ہی جلایا۔
اس پورے عرصے میں داعش کے قابل نفرت ٹولے نے "قیامِ خلافت” اور "کفر کے خلاف جہاد” جیسے مقدس نعروں کا استعمال کرتے ہوئے ہزاروں سادہ لوح نوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ کیا اور اپنی گمراہ کن خواہشات کے حصول کے لیے انہیں قربان کر دیا۔
وہ خود کو صحابہ کرام کی تلواروں کے وارث کے طور پر پیش کرتے ہیں، جبکہ ان کی تلواریں زیادہ تر مظلوم مسلمانوں کی گردنوں پر چلیں، جیسا کہ عراق، شام اور دیگر علاقوں میں دیکھا گیا۔ ان کے خودکش حملوں، بم دھماکوں اور اجتماعی قتل عام کے زیادہ تر شکار بھی مسلمان تھے، جو بسا اوقات مساجد اور جمعہ کے اجتماعات میں بھی خون میں لت پت ہوئے۔
داعش کے رہنماؤں نے ہمیشہ دعویٰ کیا کہ وہ کفار کے خلاف جنگ کا ہراول دستہ ہیں، لیکن عملی میدان میں انہوں نے صہیونی رژیم یا مغربی قابض افواج کے خلاف کوئی قابل ذکر کارروائی نہیں کی۔ اس کے بجائے انہوں نے مسلمانوں کے بازاروں، اسکولوں، مساجد، ہسپتالوں اور رہائشی علاقوں کو خون سے رنگ دیا اور ہزاروں دینی علماء، مساجد کے ائمہ، اساتذہ، بچوں اور نہتی خواتین کو ان کے جھوٹے نعروں کی بھینٹ چڑھا دیا۔
اس بڑے انحراف کی ایک وجہ وہی غلط نظریہ ہے جو ابتدائی دور کے خوارج سے انہیں ورثے میں ملا۔ اسی بنیاد پر ہر اس مسلمان کو، جو ان کے سخت گیر اور باطل راستے کی حمایت نہ کرتا، کافر سمجھا اور اس کا خون بہانا جائز قرار دیا۔
یہاں تک کہ قابضین کے خلاف جائز جہاد کو بھی انہوں نے چھوڑ دیا اور امت کے اندر خانہ جنگی اور خونریزی کی طرف رخ کیا۔ ایسا لگتا تھا کہ ان کا مقصد بیرونی دشمنوں سے مقابلہ نہیں، بلکہ اندر سے مسلمانوں کی طاقت کو ختم کرنا تھا۔
خدا کی راہ میں جہاد کا دعویٰ جب فتنے اور انتشار کا ذریعہ بن جائے تو وہ بیرونی دشمن سے بھی زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوارج کے بارے میں فرمایا:
"یَقتُلونَ أَهلَ الإِسلامِ و یَدَعونَ أَهلَ الأَوثانِ”
ترجمہ: "خوارج مسلمانوں کو قتل کرتے ہیں اور بت پرستوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔” (صحیح بخاری)
آج بھی داعش اسی نظریے کی توسیعی شکل ہے؛ وہ نظریہ جو جہاد کے نام پر فتنہ اور تباہی لاتا ہے اور اس کے زیادہ تر شکار وہی لوگ ہیں جن کے دفاع کا داعش دعویٰ کرتی تھی۔ جبکہ حقیقی جہاد وہ ہے جو علماء کی رہنمائی اور اتحادِ امت کے پرچم تلے کیا جائے اور اس کی اولین شرط مسلمانوں کے خون اور مال کی حفاظت ہے۔
آخر میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ داعش کی سب سے بڑی خیانت جہاد کے تصور کو دنیا بھر میں بدنام کرنا تھا۔ وہ جہاد جو امت کی عزت کا سرچشمہ ہے، خوارج کے ہاتھوں انتشار اور وحشت کا ذریعہ بن گیا۔ لیکن یہ ذلت کا داغ کبھی بھی امت کے اتحاد اور بیدار نسلوں کی آگہی سے اس مقدس فریضے کی اصل کو ختم نہیں کر سکتا، کیونکہ جائز جہاد صرف جارحین کے خلاف ہوتا ہے، نہ کہ نہتے مسلمانوں کے خلاف۔

