شجاع، دلیر اور بہادر جوان شہید سعید آزاد خان "اتل” ولد مرحوم نظر اکا ولد خدا نظر اکا 1994ء میں صوبہ پکتیکا کے ضلع گومل کے گاؤں گھبرگی میں ایک دیندار اور جہادی خاندان میں پیدا ہوا۔ وہ ابھی بچہ ہی تھا کہ اس کی شخصیت میں شجاعت، تقویٰ اور دینی جذبات کی جھلکیاں نمایاں تھیں۔
شہید اتل اپنے نام کے معنی کے مطابق حقیقی معنوں میں ایک زندہ اتل (جوانمرد) تھا۔ وہ ایک متقی، غیرت مند، حساس اور حق کی آواز کے لیے پرعزم مجاہد تھا۔ شہید سعید آزاد خان "اتل” رحمة اللہ علیہ ایک متدین، فعال اور حساس شخصیت کا مالک تھا۔ جب اس نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تو اس نے کمانڈر ملا محمد داؤد "الفت” صاحب کی قیادت میں اسلامی نظام کے قیام کے لیے جہاد اور حق کی جدوجہد شروع کی۔
اس کے لیے اس فانی زندگی کی کوئی اہمیت نہ تھی، بلکہ اس کی واحد خواہش اور عظیم تمنا یہ تھی کہ یہ مقدس سرزمین کفری قبضے سے آزاد ہو، اسلامی نظام قائم ہو، اور وہ اس مبارک جدوجہد کی راہ میں شہادت کا جام پئے۔ وہ بارہا کہا کرتا تھا کہ "اللہ تعالیٰ ہمیں اس ابتلاء، فتنوں اور آزمائشوں سے نجات دے۔” حتیٰ کہ شہادت سے ایک ماہ قبل اس نے اپنے ایک ساتھی سے یہی بات کہی تھی۔
اتل اپنے علاقے کا ایک بہادر، دلیر اور نہ تھکنے والا مجاہد تھا۔ وہ ان جوانوں میں سے تھا جو اپنی سرزمین پر کفری قبضے کو برداشت نہ کرتے تھے اور قابضین کے خلاف ہر قسم کی جدوجہد کے لیے تیار رہتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اپنے علاقے کی اکثر گھاتوں، بارودی سرنگیں لگانے اور حملوں میں حصہ لیتا تھا۔
اسی دوران، حملہ آوروں نے، جو مجاہدین کی بے مثال ترقی سے پریشان تھے، ایک نئی چال سوچی۔ انہوں نے افغانستان کے شمال مشرقی صوبوں ننگرہار اور کنڑ میں اپنی کٹھ پتلیوں (داعش) کو متعارف کروانا شروع کیا۔ امارت اسلامیہ کے مجاہدین کو ایک ہی وقت میں کئی مختلف محاذوں پر مقابلہ کرنا پڑا۔ ان مشکل اور تھکا دینے والے حالات میں مجاہدین نے اس محاذ کو بھی بڑی بہادری سے سنبھالا۔ صوبہ ننگرہار کے لیے تشکیلات شروع ہوئیں، اور چونکہ اتل رحمة اللہ علیہ نے مجاہدین میں ایک خاص مقام حاصل کیا تھا، اسے اپنے امیر نے اس تشکیل میں جانے کے لیے منتخب کیا۔
شہید اتل رحمة اللہ علیہ کے ایک ساتھی شہید حمزه رحمة اللہ علیہ (جو اب شہید ہو چکے ہیں) نے بتایا: جب میں اور اتل جلال آباد جا رہے تھے، تو اتل راستے میں مختلف مقامات کے نام لکھتا تھا اور کہتا تھا، "میں یہ نام لکھ رہا ہوں تاکہ جب تم اس طرف سے آؤ تو بھٹک نہ جاؤ۔” میں نے اس سے پوچھا، "تم کیا کرو گے؟” اس نے کہا، "میں شہید ہو جاؤں گا، اور تم مجھے پختہ سڑک پر واپس لے آؤ گے۔” اور بالکل ویسا ہی ہوا۔
کتنی گہری پیش گوئی، کتنی بہادری، اور کتنا ایمانی یقین!
صوبہ ننگرہار پہنچتے ہی اس نے خوارج (داعشیوں) کے ٹھکانوں پر حملے شروع کیے۔ اس نے اس گمراہ دشمن کو دن دیہاڑے تگنی کا ناچ نچایا۔ امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے ہر طرف سے ان پر حملے کیے اور کئی علاقوں کو ان کے ناپاک وجود سے پاک کیا۔ آخر کار ایک دن، جو رمضان المبارک کی 27ویں تاریخ تھی، وہ اپنی آخری تمنا سے جا ملا۔ نحسبہ کذالک واللہ حسیبہ۔
شہید اتل کا شہادت کا مقام اور تاریخ:
شہید سعید آزاد خان "اتل” نے شہید الحاج پیرآغا صاحب رحمة اللہ علیہ کی قیادت میں جلال آباد کے شیرزاد ضلع میں 27 رمضان المبارک 1438ھ بمطابق 21 جون 2017 کو داعشیوں کے خلاف ایک گھات میں دو بدو کی جنگ میں شہادت کا مقدس اور بلند مقام حاصل کیا۔
شہید اتل رحمة اللہ علیہ کے شہادت کے بعد ایک کرامت:
شہید حمزه نے بتایا: جب اتل پہاڑ پر داعشیوں کے ساتھ لڑائی میں شہید ہوا، تو ہم نے اسے پہاڑ سے نیچے اتارا اور ایک اسکول میں دیگر شہید ہونے والے جوانوں کے ساتھ رکھا۔ اس وقت شہید اتل کی آنکھیں کھلی (روشن) تھیں۔ پھر ایک سفید داڑھی والے بزرگ، جو چار شہیدوں کے والد تھے، نے اتل جان سے، جو اس وقت شہید ہو چکے تھے، کہا:
"اے شہید! اپنی آنکھیں بند کرو!” اور پھر اس نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ یہ کوئی عام حالت نہ تھی جسے انسان بیان کر سکے، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک واضح کرامت تھی۔
اتل جان کی ایک خواہش یہ تھی کہ امارت اسلامیہ ہمارے یتیموں کی پرورش کرے گی اور ہمارے گھروں کی خبرگیری کرے گی۔ شہید کے باقیات الصالحات میں دو بیٹیاں رہ گئی ہیں۔




















































