داعش کے روایتی فکری بنیادوں کا جائزہ
ظلمتوں کا سایہ (داعش) ایک انتہاپسند اور پُرتشدد گروہ ہے جو اپنی فکری جڑیں دینِ رحمت یعنی پاکیزہ دینِ اسلام میں ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہے، مگر یہ حقیقت سے غافل ہے کہ اس کا راستہ اور شریعتِ محمدی کا راستے بالکل متضاد ہیں۔ یہ گمراہ گروہ اعلیٰ اسلامی تصورات اور اقدار کو مسخ کرکے اور ان سے غلط فائدہ اُٹھا کر اپنے نظریاتی ڈھانچے کو غیر حقیقی، انتہاپسندانہ اور تشدد پر مبنی تفسیروں پر استوار کرتا ہے۔ تحقیقی مطالعوں کے مطابق، داعش کے فکری بنیادیں دو حصوں میں تقسیم کی جاتی ہیں:
روایتی اور جدید، زیرِ نظر بحث اس کے روایتی فکری بنیادوں پر مرکوز ہے۔
یہ منحرف اور ظالم گروہ اپنے روایتی فکری ڈھانچے کو ان تکفیری عقائد سے اخذ کرتا ہے جو انتہاپسندانہ سلفیت اور قدیم خوارج کے نظریات سے جنم لیتے ہیں۔ یہ سلسلہ صدیوں پر محیط ہے۔ ان تحریکوں نے دین کی انتہاپسندانہ تعبیر پیش کی اور دنیا کو صرف دو خانوں میں تقسیم کیا: ’’ایمان‘‘ اور ’’کفر‘‘۔ ان کے نزدیک کوئی ایسی تعبیر ناقابلِ برداشت ہے جو ان کے سخت گیر معیار سے مختلف ہو۔
ہمہ جہت اور دقیق تجزیوں کے مطابق، اس گروہ کی نظریاتی جڑیں ابتدائی اسلامی صدیوں کے خوارج میں تلاش کی جا سکتی ہیں۔ داعش انہی خوارج کے افکار سے الهام لے کر مسلمانوں کی وسیع پیمانے پر تکفیر کرتی ہے اور ’’خلافت کے احیاء‘‘ کے نام پر مسلح بغاوت کو فرض سمجھتی ہے۔ حقیقت میں، داعش خوارج کے مکروہ افکار کی وارث ہے؛ فرق صرف یہ ہے کہ اس نے تکفیر کا دائرہ اور بھی وسیع کر دیا ہے، یہاں تک کہ ان حکومتوں کو بھی کافر قرار دیتی ہے جو مغرب سے اقتصادی یا تجارتی تعلقات رکھتی ہیں، حالانکہ یہ خود انہی مغربی طاقتوں کی پیداوار اور مہرہ ہے۔
یوں داعش کی فکری منطق تکفیر کے لیے کسی حد کی قائل نہیں۔ اس کے زیادہ تر دلائل اسلامی متون کے مسخ شدہ معانی پر مبنی ہیں، تاکہ لامحدود تشدد کے جواز کو سہارا دے سکیں۔ یہ گروہ دراصل اپنے گمراہ پیش رو (خوارج) کی راہ پر چلنے والا ہے۔ قرآن، حدیث اور سیرتِ نبوی ﷺ کے نام پر یہ صرف وہی باتیں پیش کرتے ہیں جو ان کے ذوق اور مزاج سے میل کھاتی ہوں۔
جو بھی تعبیر ان کے سخت گیر اور گمراہ افکار سے مختلف ہو، اس کو یہ باطل اور کفر قرار دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ گروہ قرآنِ عظیم کے آیات کے جعلی تفسیر کے ذریعے اپنے عقائد کو قرآن پر تھوپنے کی کوشش کرتا ہے۔ مقصد یہ نہیں کہ قرآن کا حقیقی پیغام سمجھا جائے، بلکہ یہ کہ اپنے انتہاپسند نظریے کے لیے دلائل تراشے جائیں۔
مجموعی طور پر، داعش کی فکری روایتی بنیادیں ایک جعلی اور جامد تفسیر پر قائم ہیں، جو دوسروں کے نظریات کو رد کرتی ہیں اور ان کی تکفیر کرتی ہیں۔ اس فکر کی جڑیں خوارج اور انتہاپسند سلفیت میں ہیں، جو اسلامی مفاہیم کو مسخ کر کے تشدد کے لیے نظریاتی زمین ہموار کرتے ہیں۔
اس فتنے پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ ان فکری بنیادوں کو علمی تنقید کے کٹہرے میں لایا جائے اور اُن نوجوانوں کو درست اسلامی تفسیر اور تعلیم فراہم کی جائے جو اس انتہاپسند فکر کے دام میں پھنسے ہیں، تاکہ وہ اس تکفیری اور گمراہ جال سے محفوظ رہ سکیں۔




















































