Site icon المرصاد

عصرِ حاضر میں امتِ مسلمہ کی کمزوری کے اسباب اور ان کا حل! دوسری قسط

جب مسلمانوں نے قیادت کے میدان سے پسپائی اختیار کی اور قائدانہ و رہنمائی کا کردار چھوڑ دیا تو دنیا ایک وحشی جنگل میں تبدیل ہو گئی۔ یہ تمام بدحالی اسی وجہ سے پیدا ہوئی کہ مسلمان اپنی قیادت اور انسانیت کے سامنے اپنی عظیم اور اہم ذمہ داری سے دور ہو گئے۔

علامہ سید ابو الحسن ندوی رحمہ اللہ اپنی قیمتی کتاب "ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمین” میں نہایت خوبصورتی سے لکھتے ہیں:

“جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیغام کی تبلیغ کا آغاز فرمایا تو آپ کے ساتھ ایسے مخلص، بہادر اور صاحبِ ایمان نوجوان کھڑے ہو گئے جو راہِ حق میں موت کو ترجیح دیتے تھے۔ وہ اس پیغام کی نشر و اشاعت میں جس پر وہ ایمان رکھتے تھے، اور اس کی تعلیمات، سنتوں اور اصولوں کی تبلیغ میں کسی بھی قسم کی کوشش اور قربانی سے دریغ نہیں کرتے تھے۔

اسلامی دعوت صاحبِ ایمان نوجوانوں کی قیادت میں پھیلی، اس نے مشرق و مغرب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اسلام نے عدل و انصاف کو عام کر کے دنیا کے ہر گوشے کو متحرک کر دیا، اور وہ قومیں جو جاہلیت کے تسلط تلے مغلوب تھیں، اسلام کی طرف کھنچی چلی آئیں، انہوں نے اللہ جل جلالہ کا دین قبول کیا اور جوق در جوق مسلمانوں کی صفوں میں شامل ہو گئیں۔

اسلامی تہذیب نے ترقی کے عظیم مراحل طے کیے اور صدیوں تک اپنے خوبصورت اور قابلِ ستائش اصولوں کے سائے میں دنیا کو گھیرے رکھا۔ آسودگی اور امن، عدل و انصاف، مساوات اور اخوت ہر جگہ صرف اللہ تعالیٰ جل جلالہ کی رضا کے لیے عام ہو گئے، اور سب ایک واضح اور روشن مقصد کے لیے سرگرم تھے، یعنی اسلام کے پرچم کو سربلند کرنا۔

وہ دن جب مسلمانوں نے قیادت سے منہ موڑا، دنیا کو اسے فراموش نہیں کرنا چاہیے، بلکہ تاریخ کے سب سے تاریک، بدقسمت اور بدترین دنوں میں شمار کرنا چاہیے۔”

*اسلامی تہذیب*

تاریخ کے تمام ادوار میں، اس دور کے مقابلے میں کوئی اور زمانہ ایسا نہیں ملتا جو ہر پہلو سے اس قدر مکمل، حسین اور شاداب ہو۔ مسلمانوں نے میدان میں قدم رکھا، دنیا کی قیادت سنبھالی اور بیمار قوموں کو انسانیت کی قیادت سے ہٹا دیا۔

مسلمانوں کے پاس جو دین، علم اور تہذیب تھی، انہوں نے اسے کسی سے چھپایا نہیں۔ اپنی حکومت میں انہوں نے رنگ، نسل اور وطن کا امتیاز نہیں برتا، بلکہ وہ اس بادل کی مانند تھے جو اللہ تعالیٰ جل جلالہ کے تمام بندوں کو اپنے سائے میں لے لیتا ہے، ہر شہر، ہر صحرا اور ہر پہاڑ پر برستا ہے اور سب کے لیے خیر و بھلائی کا سبب بنتا ہے۔

Exit mobile version