۴- عالم اسلام میں واحد سیاسی قیادت کا فقدان
پوری تاریخِ اسلام میں مسلمانوں کی کامیابی کے اہم اسباب میں ایک قوی اور واحد سیاسی قیادت کا وجود شامل رہا ہے، لیکن اس کے برعکس عصرِ حاضر میں مسلمانوں کے زوال کی بنیادی وجوہات میں سے ایک اسلامی دنیا میں واحد سیاسی قیادت کا نہ ہونا ہے۔
جب خلافتِ عثمانیہ کفار کے ہاتھوں سقوط پذیر ہوئی اور ختم کر دی گئی، تو یہ بھی مسلمانوں کی کمزوری کے بڑے اسباب میں شمار ہونے لگا۔ مسلم خطے دشمنوں کے قبضے میں آ گئے، مسلمانوں کو چھوٹے چھوٹے ملکوں اور کمزور ریاستوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ دشمنوں نے اسی امت میں سے کچھ افراد کو اپنے غلام اور کارندے منتخب کیا تاکہ وہ مسلمانوں پر حکومت کریں، انہیں کچلیں، ذلیل و رسوا کریں اور ان کے معاشی وسائل کفار کے حوالے کر دیں۔ جو کوئی کفار کے ظلم و جبر کے خلاف آواز اٹھاتا یا دفاع کی بات کرتا، یا تو اسے قتل کر دیا جاتا یا زندانوں کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا۔
خلاصہ یہ کہ مسلمان واحد قیادت جیسی عظیم نعمت سے محروم ہو گئے اور اس کے بعد دشمنوں کی سازشوں اور مکاریوں کا بنیادی ہدف بن گئے۔ اس کے باوجود تاریخ کے کئی ادوار میں مسلمان یا تو واحد قیادت سے بہرہ مند رہے یا متعدد طاقتور رہنماؤں کی سرپرستی میں رہے ہیں۔
مسلمانوں کی قیادت کا آخری مضبوط قلعہ خلافتِ عثمانیہ تھی۔ خلافتِ عثمانیہ کے حکمرانوں نے اپنی اہلیت اور صلاحیت کے ذریعے پانچ صدیوں تک عالمِ اسلام کی قیادت کی اور اپنے علاقوں کا دفاع کیا۔ اس عرصے میں طاقتور عثمانی سلطنت امتِ مسلمہ کے اقتدار اور اتحاد کی علامت سمجھی جاتی تھی اور اسلامی سرزمین پر یورپی یلغار اور قبضے کے دروازے بند تھے۔
دشمنانِ اسلام بھی یہ بات اچھی طرح سمجھتے تھے کہ جب تک خلافتِ عثمانیہ قائم رہے گی، وہ اپنے استعماری مقاصد حاصل نہیں کر سکیں گے۔ اسی وجہ سے یورپی طاقتوں نے خلافتِ عثمانیہ کو ختم کرنے کی منصوبہ بندی شروع کی۔ بالآخر بیسویں صدی کے آغاز میں مصطفیٰ کمال اتاترک کے ظہور کے ساتھ خلافتِ عثمانیہ کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی گئی۔
خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے کے ساتھ مسلمانوں کے اتحاد اور اقتدار کی بنیاد منہدم ہو گئی اور عالمِ اسلام کے نقشے پر مختلف چھوٹے بڑے ممالک ابھر آئے۔ یہ ممالک، جن میں سے اکثر مشرقی یا مغربی طاقت کے تابع تھے اور مکمل خودمختاری و اقتدار سے محروم تھے، مسلمانوں کا سابقہ وقار اور عظمت بحال نہ کر سکے، بلکہ ان کی حکومتوں کی غفلت اور لاپرواہی کے باعث مسلمانوں کا زوال مزید گہرا ہوتا چلا گیا۔
واحد سیاسی قیادت، چاہے کسی بھی شکل اور ڈھانچے میں ہو، امتِ مسلمہ کی ایک فوری اور ناگزیر ضرورت ہے۔ اگر یہ ضرورت پوری نہ کی گئی تو نہ مسلمانوں کی آواز دنیا میں سنی جائے گی اور نہ ہی مسلمان عالمی تبدیلیوں اور تحولات کے عمل میں کوئی مثبت اور مؤثر کردار ادا کر سکیں گے۔




















































